Saturday , August 19 2017
Home / سیاسیات / علیگڈھ مسلم یونیورسٹی مسئلہ ‘ حکومت پر کانگریس کی تنقید

علیگڈھ مسلم یونیورسٹی مسئلہ ‘ حکومت پر کانگریس کی تنقید

تنگ نظری و تعصب سے کام کرنے کا الزام : آنند شرما و سلمان خورشید کا رد عمل
نئی دہلی 4 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آج نریندر مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے تاریخ کا رخ موڑ رہی ہے اور وہ عوام کے ذہنوں میں عدم تحفظ اور تقسیم کا احساس پیدا کر رہی ہے ۔ واضح رہے کہ آج ہی مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا کہ وہ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی موقف دینے کے مسئلہ میں یونیورسٹی کی مدد نہیں کر رہی ہے ۔ این ڈی اے حکومت نے آج سپریم کورٹ سے کہا کہ وہ سابقہ یو پی اے حکومت کی جانب سے الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواست سے دستبرداری اختیار کر رہی ہے ۔ اس فیصلے میں الہ آباد ہائیکورٹ نے علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کو غیر اقلیتی ادارہ قرار دیا تھا  پارٹی کے ترجمان آنند شرما نے کہا کہ ایسی صورتحال کیوں پیدا کی جا رہی ہے ۔ اس سے ایک بار پھر اس حکومت کے ایجنڈہ اور اس کی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے ۔ یہ حکومت ہر وہ کام کریگی جس سے عوام کے ذہنوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوگا اور تقسیم کا احساس پیدا ہوگا اور تمام محاذوں پر نریندر مودی حکومت کی ناکامیوں سے ان کی توجہ ہٹ جائیگی ۔ آنند شرما نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ حکومت اپنے کام ‘ اپنے نظریات اور اپنی ذہنیت کے اعتبار سے تقسیم پسندانہ ہے ۔ مرکزی حکومت کے اس بیان کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے سابق وزیر قانون و سینئر وکیل سلمان خورشید نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس معاملہ میں بھی ادنی سیاسی نظریات کو مقدم سمجھا گیا ہے ۔ ایسا کرنے والے یہ پہلے نہیںہیں۔ اس سے قبل بھی ادنی سیاسی مفادات کا خیال رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1981 میںاندرا گاندھی نے بغور جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ یہ ایسا کام ہے جسے حکومت وقت کو کرنا چاہئے اور یہ اس دستوری عہد کا حصہ ہے جو اقلیتوں سے کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 20 برسوںمیں کچھ نہیں ہوا لیکن 20 سال بعد وہی ریگولیشن ‘ ترمیم جو 1981 میں ہوئی تھی الہ آباد ہائیکورٹ سے رجوع کی گئی ۔ ہائیکورٹ کہتا ہے کہ ہم اس کو قبول نہیں کرسکتے ۔ ہم اس کے پابند ہیں جو کچھ سپریم کورٹ نے آزادی کے فوری بعد کہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ در اصل وقت کو واپس لانے والی کوشش ہے اور مایوس کن ہے ۔ افسوس کی بات ہے ۔ انہیں امید ہے کہ حکومت سابقہ عزیز باشاہ فیصلے پر نظر ثانی کریگی ۔

TOPPOPULARRECENT