Friday , May 26 2017
Home / ہندوستان / علیگڈھ مسلم یونیورسٹی میں ناقص غذا کی سربراہی

علیگڈھ مسلم یونیورسٹی میں ناقص غذا کی سربراہی

اسٹوڈنٹس یونین کی وائس چانسلر سے شکایت ۔ مسئلہ کے حل پر زور
علیگڈھ 30 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) گوشت کے مقامی تاجرین کی جانب سے ہڑتال کے تین دن بعد علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا نے انتظامیہ سے شکایت کی کہ انہیں ناقص غذا فراہم کی جا رہی ہے کیونکہ چکن اور ترکاریوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر فیض الحسن نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) ضمیر الدین شاہ کو ایک مکتوب تحریر کیا ہے جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ مسئلہ حل کرنے ایک اجلاس طلب کیا ہے ۔ اپنے مکتوب میں حسن نے کہا کہ گوشت کے تاجرین کی جانب سے ہڑتال کے بعد گوشت کی سپلائی میں قلت پیدا ہوگئی ہے جس کے بعد ایک غذائی بحران پیدا ہوگیا ہے کیونکہ متبادل اشیا کی سپلائی کم ہوگئی ہے اور ان کی قیمتیں بھی بڑھنی شروع ہوگئی ہیں۔ انہوں نے تجویز کیا کہ ایک رجسٹرڈ میٹ سپلائر سے گوشت کے حصول کیلئے ایک مرکوز خْریدی نظام تیار کیا جانا چاہئے ۔ فیض الحسن نے بتایا کہ یونیورسٹی کے ہاسٹلس میں مقیم 20 ہزار سے زائد طلبا کیلئے جو ویجیٹیبل غذا فراہم کی جا رہی ہے وہ انتہائی ناقص اور کمزور ہے اور اس سے طلبا کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چکن اور ترکاریوں کی قیمتیں بھی مختلف ڈائننگ ہالس کے بجٹ سے متجاوز ہوتا جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ غیر قانونی مسالخ کے خلاف کارروائی کی حمایت کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ ریاستی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانونی مسالخ کو یقینی بنائے ۔ الہ آباد میں گوشت کے تاجروں کی جانب سے ریاست کے دوسرے حصوں میں ان تاجروں کی جانب سے کی جا رہی احتجاج سے اظہار یگانگت کے طور پر ہڑتال شروع کردی گئی ہے ۔ ریاست میںحکومت کی جانب سے غیر قانونی مسالخ کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم شروع کی گئی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT