Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اقلیتی ادارہ نہیں ہے

علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اقلیتی ادارہ نہیں ہے

سپریم کورٹ 50 سال قبل ہی فیصلہ دے چکا ہے : اٹارنی جنرل روہتگی

نئی دہلی ۔ 9 ۔ جولائی : ( سیاست ڈاٹ کام ) : اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے آج کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی ادارہ قرار نہ دینے سے متعلق فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے سابق یو پی اے حکومت کی طرف سے پیش کردہ اپیل سے دستبرداری کے لیے موجودہ این ڈی اے حکومت کے فیصلہ میں کوئی سیاسی مصلحت شامل نہیں ہے ۔ روہتگی نے ایک ٹیلی ویژن نیوز چینل سے کہا کہ ’ مجھے آپ سے یہ کہنا ہی ہوگا اس ( فیصلہ ) میں کوئی سیاسی محرکات نہیں ہیں ۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی دراصل اس وقت پارلیمانی قانون کے تحت قائم کی گئی تھی جب ہندوستان آزاد نہیں تھا ۔ یہ ( ہندوستان ) برطانوی حکمرانی میں تھا ۔ چنانچہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ یہ ( علیگڑھ یونیورسٹی ) مسلمانوں کی طرف سے قائم کی گئی تھی ‘ ۔ روہتگی نے مزید کہا کہ ’ سپریم کورٹ میں پانچ ججوں پر مشتمل ایک بنچ کا فیصلہ ( مورخہ 20 اکٹوبر 1967 ) بھی ہے جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اقلیتی ادارہ نہیں ہے اور یہ قانونی موقف ہنوز برقرار ہے ‘ ۔ سرکردہ افسر قانون یہاں انڈیا ٹوڈے نیوز چینل کے ایک سوال کا جواب دے رہے ۔ ان سے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف مرکز کے حلفنامہ سے دستبرداری کی وجوہات کے بارے میں دریافت کیا گیا تھا ۔ حکومت نے چند دن قبل سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ وہ سابق یو پی اے حکومت کی طرف سے دائر کردہ اپیل سے دستبرداری اختیار کررہی ہے ۔ روہتگی نے کہا کہ 1980 کی دہائی سے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے موقف میں ترمیم و مراجعت کی کوشش کی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ’ ( سپریم کورٹ کے نظریہ کی ) تنسیخ کے لیے ترمیم کافی نہیں ہوگی ۔ اس ترمیم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا ۔ ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے اس ترمیم کو مسترد کردیا تھا کہ 1967 کا فیصلہ ہنوز قابل پابندی ہے ۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی نے اس درخواست کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی ۔ وہ اپنی اپیل دائر کرنے اور یہ استدلال پیش کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ یہ ایک اقلیتی ادارہ ہے ۔ لیکن میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ سپریم کورٹ 50 سال قبل ہی یہ واضح کرچکا ہے کہ یہ اقلیتی ادارہ نہیں ہے ۔ چنانچہ سپریم کورٹ ہی اس مسئلہ پر پھر ایک مرتبہ فیصلہ کرسکتا ہے ‘ ۔۔

TOPPOPULARRECENT