Wednesday , October 18 2017
Home / مضامین / علیگڑھ مسلم یونیورسٹی … دستوری حقوق

علیگڑھ مسلم یونیورسٹی … دستوری حقوق

کے این واصف
حکومت کی ذمہ داریوں میں ملک میں امن و امان کا قیام ، معاشی ترقی ، بے روزگاری کا خاتمہ ، دستوری حقوق کی ادائیگی ، عوام کی بنیادی ضرورتوں کی فراہمی وغیرہ وغیرہ جیسی ذمہ داران شامل ہیں۔ بی جے پی حکومت نے اپنے دو سال پو رے کئے مگر انتخابی وعدے ہی پورے کرنے کی طرف مائل ہے نہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں ہی کو نبھا رہی ہے۔ حکومت صرف ملک کی تاریخ مسخ کرنے ، مسلمانوں کے تشخص کو مٹانے ، مسلمانوں کو سماجی ، معاشی اور تعلیمی طور پر کمزور کرنے پر اپنی تمام تر توانیاں لگائے ہوئے ہے۔ حکومت کی پوری توجہ نصاب میں تبدیلی لانا اور مسلم تعلیمی اداروں کا گھیرا تنگ کرناہے ۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی بھی اس کا ایک نشانہ ہے ۔ جامعہ علیگڑھ کے اقلیتی کردار کو ختم کرنے کی کوشش کے خلاف مسلمان مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔ نہ صرف ملک میں بلکہ بیرون بھی علیگڑھ اولڈ بوائز اور دیگر تنظیمیں صدائے احتجاج بلند کر رہی ہیں۔
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز اسوسی ایشن ریاض (اموبا) نے پچھلے ہفتہ ایک ایسے ہی احتجاجی اجلاس کا اہتمام کیا ۔ ’’اے ایم یو اقلیتی کردار اور دستوری حق‘‘ کے عنوان سے منعقد اس اجلاس میں بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کشمیر کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید مسرت نے کلیدی مقرر کے طور پر شرکت کی ۔

اجلاس کا آغاز ڈاکٹر عبدالاحد چودھری کی قرأت کلام پاک سے ہوا ۔ ناظم اجلاس محمد ارشد علی خاں کے ابتدائی کلمات کے بعد اموبا صدر انجنیئر سہیل احمد نے خیرمقدم کیا ۔ سہیل نے کہا کہ اے ایم یو کے اقلیتی کردار کو ختم کرنے کی کوشش ایک گہری سازش کا حصہ ہے اور یہ عمل اقلیتوں کو دستور ہند میں فراہم کئے گئے حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے ۔ اس سازش کو ناکام بنانے کیلئے ہمیں متحد ہونا چاہئے ۔ چاہے ہمارا تعلق ملک کے کسی بھی خطہ  یا تعلیمی ادارے سے رہا ہو۔ سہیل احمد نے کہا کہ ملک اور ملک کے باہر اس سلسلے میں جو کوشش ہورہی ہے ، اموبا ریاض اس کے ساتھ ہے ۔ سابق صدر اموبا ڈاکٹر محمد احمد بادشاہ نے کہا کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کوکھڑا کرنے میں ہمارے ا کابرین و بزرگوں کی توانائیاں اور پیسہ لگا ہے۔ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج سے 1920 ء میں اسے جامعہ کی حیثیت دلانے میں ہمارے بزرگوں نے اپنا خون پسینہ دیا ہے ۔ حقائق کو مسخ کر کے اور تاریخ کو جھٹلاکر آج اس کے اقلیتی کردار کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ یہ ایک قانونی جنگ ہے ۔ اس میں کامیابی حاصل کرنا ہمارے لئے بے حد ضروری ہے۔

چیرمین بہار فاؤنڈیشن سعودی چاپٹر عبیدالرحمن نے کہا کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی مسلمانوں کا قائم کردہ ادارہ ہے ۔اس بات کو ماننے سے انکار کرنا تاریخ کو جھٹلانا ہے۔ عبید نے کہا کہ ہمیں ملک کے مورخین اور ماہرین قانون کواس جدوجہد میں شامل کرنا چاہئے ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں اموبا ریا ض کو بہار فاؤنڈیشن کے بھرپور تعاون کا تیقن دیا ۔ ریاست کیرالا کی تعلیمی سرگرمیوں سے جڑے سماجی کارکن ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا کہ دنیا کی عظیم جمہوریت ہندوستان میں آج فاشزم کا بول بالا ہے۔ ملک کو ہندو راشٹر بنانے کیلئے زعفرانی طاقتیں جھوٹ کو ہتھیار بناکر اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ ملک پر ایک مخصوص آئیڈیالوجی تھوپنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جمہوری نظام کے نام پر ہٹلرازم کا راج قائم ہوگیا ہے ۔اب ملک میں کسی ادارے کی اہمیت ہے نہ کسی شخص کی کوئی حیثیت ہے۔ تن تنہا  ایک شخص فاشسٹ آئیڈیالوجی لاگو کرنے پر لگا ہوا ہے ۔ ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا کے سارے لوگ جو فاشزم کے خلاف ہیں انہیں متحد ہونا چاہئے اور ناانصافیوں اور ظلم کے سلسلے کو ختم کرنا چاہئے ۔ چاہے وہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا معاملہ ہو یا اقلیتوں کو دبانے کچلنے کا سلسلہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ زعفرانی ٹولہ افواہیں پھیلاکر اقلیتوں کو نشانہ بنارہا ہے ۔ ہمیں اس خطرناک حکمت عملی کو سمجھنا اور چوکنا رہنا چاہئے۔

کئی تعلیمی اداروںکے روح رواں اور صاحبِ خیر شخصیت ڈاکٹر ندیم ترین نے اس موقع پر کہاکہ ہندوستان کی موجودہ حکومت اپنے کچھ مفادات اور اپنے مخفی ایجنڈے کو لاگو کرنے میں شدت کے ساتھ لگا ہوئی ہے ۔ ان کے پاس نہ ملکی ترقی کاکوئی منصوبہ ہے نہ اپنے بنیادی فرائض پورا کرنے کی فکر نہ ملک و قوم کی کوئی پرواہ۔ ندیم ترین جواسی جامعہ کے فارغ ہیں اور برسوں سے جامعہ کی فلاح و بہبود اور ترقی میں اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں، نے تفصیلی طور پر جامعہ میں پچھلے چار پانچ دہائیوں میں ہوئے واقعات اور جامعہ علیگڑھ کے ساتھ ہورہی ناانصافیوں کا خلاصہ پیش  کیا۔

وائس چانسلر بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کشمیر ڈاکٹر جاوید مسرت جنہوں نے بھی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور اسی جامعہ میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر کئی برس کام بھی کیا ، نے 1960 ء سے اب تک کی ساری سلسلہ وار ناانصافیوں کے واقعات کی تفصیلات حاضرین کے سامنے رکھیں۔ انہوں نے کہاکہ جامعہ کے ساتھ ہوئی ناانصافی کیلئے صرف بی جے پی ہی نہیں بلکہ کانگریس بھی اتنی ہی ذمہ دار ہے ۔ ڈاکٹر مسرت نے کہا کہ یہ ایک قانونی جنگ ہے ۔ اس کو سوشیل میڈیا پر اچھالنے سے احتراز کیا جائے۔

شعراء کا خیرمقدم
ہندوستانی بزم اردو ریاض کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ جب بھی کوئی شاعر ، ادیب ریاض آتا ہے تو وہ ان کے اعزاز میں ایک خیرمقدمی تقریب کااہتمام کرتی ہے۔ پچھلے دنوں جناب کامل حیدرآبادی ہندوستان سے اور جناب افضل امام ٹورنٹو (کینیڈا) سے ریاض کے دورہ پر تھے ۔ حسب روایت ہندوستانی بزم اردو نے ان کے اعزاز میں ایک تہنیتی تقریب کا اہتمام کیا ۔ اس محفل میں ڈاکٹر حفظ الرحمن سکنڈ سکریٹری سفارت خانہ ہند ریاض نے بحیثیت مہمان اعزازی شرکت کی ۔اس موقع پر ادب نواز ، ادب شناس ، سخن فہم اور سخن گو حضرات کی بڑی تعداد حاضر محفل رہی۔ محفل کا آغاز قاری علیم الدین کی قرأت کلام پاک سے ہوا ۔ ناظم محفل تقی الدین میر نے اپنے ابتدائی کلمات کے بعد صدر ہندوستانی بزم اردو ایم اے آر سلیم کو رسمی خیرمقدم کیلئے مدعو کیا ۔ سلیم نے خیرمقدمی کلمات کے بعد محفل کو بزم کے قیام کا مقصد ، بزم کی سرگرمیوں کی تفصیلات سے واقف کرایا۔

محمد قیصر صدر تنظیم ہم ہندوستانی نے مہمان شاعر کامل حیدرآبادی کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ کامل حیدرآبادی صاحب ایک سرکاری عہدیدار رہے اور انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ بمبئی شہر میں گزارا جہاں انہیں اردو کے نامور شعراء کے ساتھ ادبی و شعری محافل میں شرکت کا موقع ملا۔
دوسرے مہمان شاعر افضل امام پر راقم نے ایک تعارفی خاکہ پیش کیا ۔ افضل امام پچھلے چالیس (40) سال سے ٹورنٹو (کینیڈا) میں مقیم ہیں۔ اردو زبان و ادب سے انہیں عشق ہے ۔ وہ غم روزگار کے بعد حاصل اپنی فرصت کا ہر لمحہ اردو زبان کی بقاء و ترقی کے کام میں صرف کرتے ہیں۔ آپ پیشہ سے ایک قانون داں ہیں۔ افضل امام نے اپنے ہم خیال احباب کے تعاون سے ’’اردو مجلس ٹورنٹو‘‘ بھی قائم کر رکھی ہے ۔ اس بزم کے تحت کئی بڑے مشاعرے منعقد کئے گئے جس میں ہندو پاک کے تمام بڑے شعراء نے شرکت کی ۔ آپ کا تعلق شمالی ہند کی ریاست بہار سے ہے ۔ آپ کو عظیم شاعر علامہ کلیم عاجز سے قربت اور شرف تلمذ بھی حاصل رہا ۔ آپ کی ادارت میں کئی برس سے ایک اردو ماہنامہ ’’سخنور‘‘ بھی شائع ہوتا ہے ۔ افضل امام بیک وقت ادیب ، شاعر اور صحافی ہیں۔ آپ کے نشری اور شعری تخلیقات کے دو مجموعے ’’یادوں کی خوشبو‘‘ اور ’’ذوق جنون‘‘ شائع ہوچکے ہیں۔
مہمان شعراء افضل امام اور کامل حیدرآبادی نے بھی اس موقع پر مختصر طور پر اظہار خیال کیا اور ہندوستانی بزم اردو ریاض کا خصوصاً اوراہل ریاض کا عمومی طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے اعزاز میں خیرمقدمی محافل کااہتمام کر کے انہیں اعزاز بخشا۔ مہمان شعراء نے اپنا کلام بھی پیش کیا۔
ڈاکٹر حفظ الرحمن نے اس موقع پر اپنے مختصر خطاب میں ہندوستانی بزم اردو ریاض کی سرگرمیوں کی ستائش کی اور کہا کہ افضل امام ، کامل حیدرآبادی وغیرہ جیسے  کہنہ مشق شعراء اردو زبان کا اثاثہ اور اردو دنیا میں روشن چراغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بزم شعراء کے مجموعہ کلام کی اشاعت میں مالی تعاون کرتی ہے ۔ اس سے ایسے شعراء کا کلام محفوظ ہوجاتا ہے جو اپنا کلام شائع نہیں کرواسکتے۔ بزم کا یہ بھی ایک قابل تحسین ا قدام ہے۔ آخر میں ڈاکٹر سعید محی الدین کے ہدیہ تشکرپر اس محفل کا اختتام عمل میں آیا۔

TOPPOPULARRECENT