Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کو ’اقلیتی‘ درجہ کیلئے مساعی

علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کو ’اقلیتی‘ درجہ کیلئے مساعی

وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ کی وزیراعظم مودی سے ملاقات
نئی دہلی ، 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے وفد نے وائس چانسلر لیفٹننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کی قیادت میں آج وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور اس یونیورسٹی کے ’اقلیتی‘ درجہ کو بحال کرنے میں این ڈی اے حکومت کی تائید و حمایت چاہتے ہوئے بیان کیا کہ اس سے اقلیتوں پر مثبت اثر پڑے گا، جو مشتعل اور خائف ہیں کہ اُن کے حقوق پامال کئے جارہے ہیں۔ اس یونیورسٹی کے تین مراکز کے کیرالا، مغربی بنگال اور بہار میں مبینہ ’’غیرقانونی‘‘ قیام کا ذکر کرتے ہوئے وی سی نے ادعا کیا کہ انھیں اس یونیورسٹی کے اعلیٰ ترین پالیسی ساز اداروں، حکومت ہند اور صدرجمہوریہ ہند نے منظوری دی ہے۔ لگ بھگ 40 منٹ کی ملاقات کے بعد نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ سے بات کرتے ہوئے ضمیر الدین شاہ نے وزیراعظم کے ساتھ میٹنگ پر اطمینان ظاہر کیا۔ وزیراعظم کو پیش کردہ یادداشت میں این ڈی اے حکومت سے اپیل کی گئی کہ سابقہ یو پی اے حکومت کے اصل موقف پر واپس ہوجائیں کہ اس یونیورسٹی کی اپنا اقلیتی درجہ بحال کرانے میں تائید کی جائے۔ اس میں کہا گیا کہ ہندوستان سکیولر ملک ہے اور دستور آرٹیکل 31 کے تحت اقلیتوں کو بنیادی حق دیتا ہے کہ اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کے حق سے مستفید ہوں۔

علیگڑھ یونیورسٹی میں نامزدگیوں کی فائل صدرجمہوریہ نے واپس کردی
نئی دہلی 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مزید شخصیتوں کا انتخاب کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کے دفتر سے وزارت فروغ انسانی وسائل کو ایک فائل واپس کردی ہے جس میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی ایکزیکٹیو کونسل میں مخلوعہ نشستوں کی بھرتی کے لئے بعض ناموں کی سفارش کی گئی ہے جس میں سینئر ٹی وی جرنلسٹ رجت شرما، ممتاز سائنسداں وجئے پی بھٹکر جوکہ آر ایس ایس کی ملحقہ تنظیم وگیانا بھارتی کے قومی صدر ہیں شامل ہیں۔ صدرجمہوریہ نے اس سفارشی فائیل کو واپس کردیا ہے۔ اے ایم یو کی اکزیکٹیو کونسل کے 28 ارکان میں سے 3 کے تقرر کے لئے وزارت فروغ انسانی وسائل نے سفارش کی ہے جس کی صدرجمہوریہ سے منظوری لازمی ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس تعلیمی ادارہ کے وزیٹر ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صدرجمہوریہ نے سمرتی ایرانی کے موقف سے اختلاف رائے کا اظہار کیا۔ قبل ازیں پرنب مکرجی نے وائس چانسلر جے این یو کی حیثیت سے ایم جگدیش کی تجویز کو نامنظور کردیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT