Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / علیگڑھ یونیورسٹی کا طالب علم سیول سرویس کیلئے منتخب

علیگڑھ یونیورسٹی کا طالب علم سیول سرویس کیلئے منتخب

ملازمت کے ساتھ محنت لگن سے امتحان کی تیاری میں کامیابی

لکھنؤ ۔ 13 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سیول سرویس کے خواہشمند مسلم نوجوانوں کیلئے محمد ثناء اختر قابل تقلید مثال بن گئے۔ وہ ان 40 مسلم امیدواروں میں شامل ہیں جنہوں نے پہلی کوشش میں یو پی ایس سی امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے اپنی کامیابی کیلئے والدین اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی مرہون منت قراردیا جہاں سے انہوں نے کمپیوٹر انجینئرنگ میں بی ٹیک کی۔ انہوں نے سیول سرویسیس کے خواہشمندوں کو یہ پیام دیا کہ عزم و حوصلہ کے ساتھ سخت محنت کریں جو کہ کامیابی کی کلید ہے۔ محمد ثناء اختر نے سیول سرویس میں کامیابی سے قبل یوروپی آئی ٹی کمپنی ایس ٹی الیکٹرانکس میں ملازمت کی لیکن انہوں نے امتحان کی تیاری کیلئے ملازمت سے کوئی رخصت نہیں لی۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی میں کام کا ماحول سازگار ثابت ہوا، جس کے باعث بغیر رخصت کے بہ آسانی امتحان کی تیاری کی۔ انہوں نے سال 2010ء میں علیگڑھ یونیورسٹی سے بی ٹیک مکمل کرنے کے بعد یوروپ کی باوقار آئی ٹی کمپنی ایس ٹی الیکٹرانک میں ملازمت اختیار کی جبکہ اختر کے والد انڈین ٹیلی کام انڈسٹری مانکا پور (اترپردیش) میں برسرخدمت ہیں۔ ایک کنونٹ اسکول میں ابتدائی تعلیم کے بعد انٹرمیڈیٹ میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور ترغیب سے انگریزی تحریر (خوش خط) میں مہارت پیدا کی۔ امتحان کی تیاری کے بارے میں اختر نے بتایا کہ وہ بلاناغہ اخبار کا مطالعہ کرتے ہیں جس کے باعث عام معلومات اور حالات حاضرہ سے باخبر رہتے ہیں اور ملازمت سے مکان واپس آنے کے بعد امتحان کے نصاب کا ہر روز 2 تا 3 گھنٹے مطالعہ کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جغرافیہ سے متعلق تیاری آسان تھی لیکن جنرل اسٹڈیز میں تھوڑی بہت مشکل پیش آئی۔ انہوں نے کہا کہ انٹرویو لینے والی کمپنی کے ارکان انتہائی مخلص اور ہمدرد تھے جنہوں نے کوئی امتیازی سوال نہیں کیا اور انٹرویو میں سوالات کا واضح جواب اور مظاہرہ کی بنیاد پر مارکس (نشانات) دیئے گئے۔ دلچسپ امر یہ ہیکہ ثناء اختر نے کبھی کوچنگ سنٹر نہیں کئے بلکہ اپنے ایک دوست سید کاشف احمد کے تیار کردہ نوٹس پر انحصار کیا لیکن بدقسمتی سے کاشف سیول سرویس امتحان میں ناکام ہوگئے۔

TOPPOPULARRECENT