Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / عمارات حج ہاوز میں درختوں کی کٹوائی پر وقف بورڈ اور حج کمیٹی میں تنازعہ

عمارات حج ہاوز میں درختوں کی کٹوائی پر وقف بورڈ اور حج کمیٹی میں تنازعہ

محکمہ جنگلات کی مداخلت ، پولیس میں شکایت کا فیصلہ ، سیکوریٹی گارڈس کے بیانات قلمبند
حیدرآباد۔/27اگسٹ، ( سیاست نیوز) حج ہاوز نامپلی کے احاطہ میں دو قدیم درختوں کو راتوں رات کاٹ دیئے جانے پر اقلیتی بہبود کے دو اداروں میں تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس معاملہ میں محکمہ جنگلات نے مداخلت کی اور قدیم درختوں کی کٹوائی کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حج ہاوز کے احاطہ میں حج ہاوز کی تعمیر سے قبل تقریباً 30سال سے کئی بڑے درخت موجود ہیں لیکن کبھی بھی کسی نے ان درختوں کو کاٹنا ضروری نہیں سمجھا لیکن حج کیمپ  2015کیلئے شیڈ کی تعمیر کا بہانہ بناکر دو قدیم درختوں کو راتوں رات کاٹ دیا گیا۔ اس مسئلہ پر وقف بورڈ اور حج کمیٹی کے درمیان تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ عوامی مقامات پر درخت کی کٹوائی قانوناً جرم ہے اور ناگزیر صورتحال میں اس کیلئے محکمہ جنگلات سے اجازت حاصل کرنا پڑتا ہے۔ ایسے وقت جبکہ حج ہاوز کی عمارت میں دو انڈین فاریسٹ سرویس کے عہدیدار موجود ہیں اس کے باوجود درختوں کی غیر قانونی کٹوائی کا محکمہ جنگلات نے سختی سے نوٹ کیا ہے۔ دوسری طرف حج ہاوز اور اطراف کے علاقے کی ملکیت رکھنے والا ادارہ وقف بورڈ اس سلسلہ میں پولیس میں شکایت درج کرنے کی تیاری کررہا ہے تاکہ خاطیوں کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ اتوار کو رات دیر گئے حج کیمپ کی تیاری میں مصروف کنٹراکٹر نے حج کمیٹی کے دو ملازمین کی موجودگی میں بڑا کٹر مشین لاکر دو درخـتوں کو کاٹ دیا۔ اس سلسلہ میں جب سیکورٹی گارڈز نے اعتراض کیا تو ان سے لفظی تکرار ہوگئی۔ عمارت کے انچارج نے اس واقعہ کی شکایت چیف ایکزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ کو تحریری طور پر کی ہے جس کے بعد سیکورٹی گارڈز کے بیانات قلمبند کئے گئے جس میں انہوں نے کنٹراکٹر اور حج کمیٹی کے دو ملازمین کی موجودگی میں اس کارروائی کا انکشاف کیا۔ وقف بورڈ نے بھی بلا اجازت اس کارروائی پر ناراضگی جتائی اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ حج کیمپ کی تیاری کے سلسلہ میں درختوں کی کٹوائی نہ کرنے کا تیقن دیا گیا تھا لیکن اس کی خلاف ورزی کی گئی۔ محکمہ جنگلات کے قانون کے مطابق کسی بھی درخت کی کٹوائی سے قبل یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ یہ درخت انسانی زندگی کیلئے نقصاندہ ہے، اس کے لئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور محکمہ جنگلات سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنا ضروری ہے لیکن اس معاملہ میں ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ چیف ایکزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ نے تفصیلی رپورٹ عہدیدار مجاز وقف بورڈ کو پیش کرتے ہوئے از روئے قانون کارروائی کی سفارش کی ہے۔ اب یہ معاملہ عہدیدار مجاز وقف بورڈ کے پاس زیرغور ہے کہ وہ اس سلسلہ میں کیا قدم اٹھاتے ہیں۔ دوسری طرف درختوں کی کٹوائی کی شکایت ملتے ہی محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کی ایک ٹیم نے حج ہاوز کا دورہ کیا اور سیکورٹی گارڈز کے بیانات قلمبند کئے۔ وقف بورڈ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حج ہاوز کی عمارت اور اطراف کی اراضی اس کی ملکیت ہے اور حج کیمپ کے انعقاد کیلئے حج کمیٹی کو چند دن کیلئے استعمال کی اجازت دی جاتی ہے لہذا درختوں کی کٹوائی کا کسی کو اختیار نہیں۔ الغرض دو بڑے قدیم درختوں کی کٹوائی کا معاملہ اب اقلیت بہبود سے نکل کر محکمہ جنگلات تک پہنچ چکا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT