Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / عمارتیں نہیں عوام کی زندگی بناؤ

عمارتیں نہیں عوام کی زندگی بناؤ

محمد نعیم وجاہت
چیف منسٹر کے سی آر تلنگانہ میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ ترقی اور فلاحی کاموں کے لئے چرچوں میں رہتے تو ریاست کے لئے فخر کی بات ہوتی۔ لیکن وہ توہم پرستی کا شکار ہوکر سرکاری خزانے کو لٹارہے ہیں۔ واستو کے نام پر سکریٹریٹ کو منہدم کررہے ہیں اور اپنے لئے نئی سرکاری قیامگاہ تعمیر کرچکے ہیں اور اسمبلی کی بھی نئی عمارت تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کرچکے ہیں۔ ہم ان عمارتوں کی تعمیرات کے مخالف نہیں ہیں۔ مگر پیٹ کو کھانا نہیں دے کر بدن پر اچھے کپڑے پہنانے کے خلاف ہیں۔ تلنگانہ کی تحریک میں ٹی آر ایس کا رول ناقابل فراموش ہے۔ تلنگانہ کی پسماندگی کے لئے آندھرائی حکمرانوں کو ذمہ دار بنانے والے کے سی آر نے ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں کئی اہم وعدے کئے جس میں ڈبل بیڈ روم مکانات، کے جی تا پی جی مفت تعلیم، کسانوں کے قرضہ جات کی معافی، ہر گھر کو ایک ملازمت، دلتوں میں فی کس تین ایکر اراضی کی تقسیم، مسلمانوں اور قبائیلی طبقات کے لئے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے علاوہ عوام سے کئے گئے دوسرے اور بھی کئی وعدے ہیں جس پر عوام نے بھروسہ کیا اور ٹی آر ایس کو اقتدار سونپا۔ اقتدار حاصل ہوتے ہی کے سی آر دلت قائد کو چیف منسٹر بنانے کے وعدے سے منحرف ہوکر خود چیف منسٹر بن گئے اور ٹی آر ایس نے اپنی حکومت کے ڈھائی سال مکمل کرلئے ہیں لیکن یہ ڈھائی سال عوام کے لئے ٹھیک نہیں رہے۔ سوائے معذورین، معمرین اور بیواؤں کو وظیفے ملنے کے عوام کو دوسرا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہاں البتہ ٹی آر ایس قائدین کے لئے یہ ڈھائی سال  اچھے رہے۔ ٹی آر ایس کے قائدین کو بورڈ و کارپوریشن کے صدورنشین نامزد کرتے ہوئے ان کی سیاسی بازآبادکاری کی جارہی ہے مگر اس معاملہ میں بھی اقلیتوں اور مسلمانوں سے ابھی تک انصاف نہیں ہوا۔ اقلیتی اداروں کے علاوہ جنرل کارپوریشن اور بورڈ میں بھی مسلم قائدین کو اہم ذمہ داریاں تفویض کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تقریباً تمام جنرل عہدوں پر تقررات ہوئے ہیں جس میں ایک بھی مسلم قائد کو صدرنشین نامزد نہیں کیا گیا۔ یہاں تک کہ اقلیتی اداروں پر نامزدگی کے عمل کو ابھی تک شروع نہیں کیا گیا۔ اکثریتی طبقہ کے قائدین کو دسہرہ کا تحفہ دیا گیا اور دیوالی کا تحفہ دینے کی بھی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ کابینہ میں صرف ایک مسلمان کو نمائندگی دی گئی۔ اسمبلی اور کونسل کے عہدوں میں مسلم نمائندگی کو نظرانداز کردیا گیا۔

گزشتہ دو سال سے فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کے 3600 کروڑ روپئے کے بقایا جات جاری نہیں کئے گئے جس سے 14 لاکھ طلبہ کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے بجائے سڑکوں پر احتجاج کے لئے طلبہ مجبور ہیں۔ حکومت کی جانب سے فنڈس کی عدم اجرائی سے کالج انتظامیہ مالی بحران کا شکار ہے۔ گزشتہ 6 ماہ سے تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے تعلیمی شعبہ بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ فیس ری ایمبرسمنٹ ایک نوبل اسکیم ہے لیکن اسکیم پر عمل کرنے کے معاملہ میں حکومت نے مختلف طریقوں سے کالج انتظامیہ کو پریشان کیا ہے جس سے انجینئرنگ، ایم بی اے، ایم سی اے کے علاوہ دوسرے پروفیشنل کورسیس کے سینکڑوں کالجس بند ہوگئے ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر نے اسمبلی کے بجٹ سیشن میں اندرون ایک ماہ تمام بقایہ جات جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم چیف منسٹر نے جمہوریت میں مقدس تصور کی جانے والی اسمبلی میں کئے گئے وعدے کو بھی پورا نہیں کیا۔ ریاست میں پہلے خشک سالی پھر بارش سے کسان پریشان ہیں۔ ڈھائی سال کے دوران مسائل کا شکار ہوکر تقریباً 4 ہزار کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ کسانوں کے ایک لاکھ تک قرضہ جات معاف کرنے کا وعدہ کیا گیا لیکن بینکوں کو یکمشت ادا کرنے کے بجائے 4 اقساط میں ادا کرنے کا بینکرس سے وعدہ کیا گیا مگر تیسری قسط آج تک بھی مکمل ادا نہیں کی گئی جس سے بینکس کسانوں کو نئے قرضہ جات فراہم کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ اچھی بارش ہونے کے باوجود میں ہاتھوں میں پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کسان نئی فصلیں تیار کرنے کے معاملہ میں مشکلات کا شکار ہیں۔ ہزاروں خواتین نے اپنے زیورات رہن رکھے ہیں۔ راجیو آروگیہ شری اسکیم کے بقایہ جات کی بھی اجرائی نہ ہونے سے خانگی کارپوریٹ ہاسپٹلس نے غریب عوام کا علاج روک دیا ہے۔ یہ تینوں مقبول عام اسکیمات کانگریس دور حکومت میں متعارف کرائی گئی تھیں۔ اس پر صرف حکومت کو عمل کرنا ہے اسے ٹی آر ایس حکومت جاری رکھنے میں ناکام ہوگئی۔ جس سے طلبہ، کسان اور مختلف امراض کا شکار عوام حکومت سے بے حد ناراض ہے۔ حکومت کی جانب سے قرض کی عدم ادائیگی سے جو فصلوں کا نقصان ہوا ہے اس پر انشورنس بھی حاصل نہیں ہوگا۔ تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ کو فیس کی ادائیگی تک کالج انتظامیہ سرٹیفکٹس دینے سے انکار کررہے ہیں اور قبل سرٹیفکٹس نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کو ملازمت بھی حاصل نہیں ہورہی ہے۔ آروگیہ شری اسکیم کے تحت علاج بند ہوجانے سے غریب عوام کافی پریشان ہیں۔ ٹی آر ایس مشن کاکتیہ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اس لئے 40 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے ہیں اور کام کرنے والے کنٹراکٹرس کو وقت پر بلز جاری کئے جارہے ہیں۔ آبپاشی پراجکٹس کی ری ڈیزائننگ کے نام پر پراجکٹس کی تعمیری لاگت کو 35 ہزار کروڑ سے بڑھاکر 50 ہزار کروڑ روپئے کردیا گیا۔ ایک ماہ سے صنعتی پالیسی تیار کرنے والی ٹی آر ایس حکومت ڈھائی سال گزرنے کے باوجود زرعی پالیسی تیار کرنے میں ناکام ہوگئی۔ صرف سکندرآباد اور چیف منسٹر کے اسمبلی حلقہ میں 650 ڈبل بیڈ روم فلیٹس تعمیر کرتے ہوئے اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ تمام اضلاع سے ڈبل بیڈ روم فلیٹس کے لئے عوام سے لاکھوں درخواستیں وصول کی گئی ہیں۔ عوام دفاتر کے چکر کاٹتے ہوئے تھک چکے ہیں۔ مگر انھیں ابھی تک خاطر خواہ جواب دینے میں ناکام ہیں۔ شادی مبارک اور کلیان لکشمی کی ہزاروں درخواستیں 8 ماہ سے زیرالتواء شادیاں ہونے کے باوجود غریب عوام کے بینک اکاؤنٹس میں رقم جمع نہیں ہوئی ہے۔ مسلمانوں اور قبائیلیوں کو 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا مگر قبائیلیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بی سی کمیشن تشکیل دیا گیا۔ اس کے جو رہنمایانہ اصول تیار کئے گئے ہیں اس سے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات ملنا ممکن نہیں ہے۔ چیف منسٹر اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دستور ہند کی 9 ویں شیڈول میں ترمیم کے لئے مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بھی ناممکن ہے کیوں کہ بی جے پی مسلمانوں کو تحفظات دینے کے خلاف ہے اور بی جے پی زیراقتدار تین ریاستوں گجرات، ہریانہ اور راجستھان میں تین طبقات پٹیل، جاٹ اور گجر کو تحفظات فراہم کئے گئے۔ تینوں ریاستوں کے ہائیکورٹس نے ان تحفظات کو کالعدم قرار دیا جس پر وزیراعظم نریندر مودی نے کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے دستور کی نویں شیڈول میں کوئی ترمیم کی۔ مسلم تحفظات کے لئے دستور میں ترمیم کی اُمید رکھنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے برابر ہے۔

چیف منسٹر کے مذہبی جذبہ پر کسی کو اعتراض نہیں ہے تاہم اپنے ذاتی عقیدے کی تکمیل اور واستو پر عمل کیلئے سرکاری خزانے کو لُٹانے پر سب کو اعتراض ہے۔ راج شیکھر ریڈی کے دور حکومت میں 10 کروڑ روپئے کے مصارف سے تعمیر کیا گیا چیف منسٹر کیمپ آفس پہلے موجود سے موجود ہے۔ توہم پرستی کا شکار چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے 9 ایکر اراضی پر 37 کروڑ روپئے کے مصارف سے اپنے لئے نیا کیمپ آفس تعمیر کرایا ہے۔ اپنی مراد کی تکمیل پر چیف منسٹر نے تروپتی کے لئے 5 کروڑ اور بھدرا کالی مندر کے لئے 3 کروڑ کے سونے کے زیورات پیش کئے۔ چنڈی یاگم پر 10 کروڑ اور بتکماں تہوار پر 15 کروڑ روپئے خرچ کئے۔ کے سی آر نے خصوصی طیارہ کے ذریعہ چین کا دورہ کرتے ہوئے تقریباً 2.20 کروڑ روپئے خرچ کئے جبکہ چین نے ابھی تک تلنگانہ میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کی۔ چیف منسٹر نے اپنے 10 حامیوں کو کابینہ رتبہ کے ساتھ حکومت کا مشیر بناتے ہوئے سرکاری خزانے پر مزید بوجھ عائد کیا ہے۔ 27.93 کروڑ روپئے کے مصارف سے 70 وی آئی پیز کی گاڑیاں خریدی گئیں۔ ابھی تک تلنگانہ کے مختلف محکمہ جات میں 4516 نئی گاڑیاں خریدنے کے لئے 758.44 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ لیکن طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ، آروگیہ شری اور کسانوں کے بقایا جات کی ادائیگی کے لئے ٹال مٹول کی پالیسی اپنائی جارہی ہے۔
سکریٹریٹ کے تمام 8 بلاکس کا انہدام کرتے ہوئے تقریباً 500 کروڑ روپئے کے مصارف سے 6 منزلہ عصری سہولتوں سے لیس نئی عمارت تعمیر کرنے کے کاموں کا آغاز ہوگیا۔ مختلف محکمہ جات کو بی آر بی کے بھون کے علاوہ دوسری عمارتوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔ جبکہ ریاست کی تقسیم کے بعد چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر اور وزراء اور چیف منسٹر آندھراپردیش چندرابابو نائیڈو اور ان کے وزراء نے انھیں مختص کردہ چار چار بلاکس میں کروڑہا روپئے خرچ کرتے ہوئے واستو کے مطابق اپنے چیمبرس تعمیر کئے ہیں۔ پھر بھی واستو ٹھیک نہ ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے نئے سکریٹریٹ کی تعمیر پر سرکاری خزانے کا بیجا استعمال کیا جارہا ہے جبکہ حکومت تلنگانہ نے 21 نئے اضلاع تشکیل دیئے ہیں۔ نئے اضلاع میں کلکٹریٹس کی تعمیر پر فنڈس کیا جاتا تو قابل قبول تھا۔ 294 ارکان اسمبلی بیٹھنے کی اسمبلی تلنگانہ کی تحویل میں ہے جس میں تلنگانہ کے 119 ارکان کو بیٹھنے کی کافی جگہ ہے۔ موجودہ اسمبلی کو میوزیم میں تبدیل کرکے ایرم منزل میں نئی اسمبلی کی عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ بھی غیر درست ہے۔

تلنگانہ کا ہر شہری ترقی چاہتا ہے اور اس معاملہ میں حکومت سے مکمل تعاون کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔ تاہم حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پہلے عوامی مسائل کو ترجیحات کی بنیاد پر حل کریں۔ اس کے بعد دوسرے تعمیراتی کاموں کو اہمیت دیں۔ چیف منسٹر اپنے ہر اجلاس میں فنڈس کی کوئی قلت نہ ہونے کا تاثر دے رہے ہیں مگر تین اہم اسکیمات کے لئے فنڈس جاری نہ کرتے ہوئے عوام کو مایوس کررہے ہیں اور دوسرے کاموں کے ذریعہ سرکاری خزانے پر بوجھ بڑھارہے ہیں اور ریاست کے قرضوں میں اضافہ کررہے ہیں۔ تلنگانہ ایمپلائز کی تنخواہوں میں 43 فیصد کا اضافہ کیا گیا مگر بقایہ جات آج تک جاری نہیں کئے گئے جس سے سرکاری ملازمین ناراض ہیں۔ ہوم گارڈس اپنے مسائل کی یکسوئی کا مطالبہ کرتے ہوئے سکریٹریٹ کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی۔ حکومت کی جانب سے اسمبلی میں سال برائے 2016-17 ء کے لئے منظور کردہ 1.30 لاکھ کروڑ کے بجٹ میں ایس سی،  ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی طبقات کے لئے منظورہ بجٹ میں صرف 30 فیصد فنڈس ہی جاری کئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT