Thursday , July 27 2017
Home / Top Stories / عمارت میں الارم سسٹم ناکارہ، فریج کا دھماکہ سے پھٹنا حادثہ کی وجہ

عمارت میں الارم سسٹم ناکارہ، فریج کا دھماکہ سے پھٹنا حادثہ کی وجہ

لندن آتشزدگی سانحہ

فضائی پلیٹ فارم سے ہر فلیٹ کی تلاشی، ہلاکتوں میں اضافہ کا اندیشہ

لندن ۔ 15 جون (سیاست ڈاٹ کام) لندن کے گرین فیل ٹاور میں آگ پر قابو پانے کیلئے آتش فرو عملہ رات بھر مصروف رہا۔ یاد رہیکہ 24 منزلہ عمارت کو آگ نے مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں اب تک 17 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہیکہ عمارت میں حفاظتی اقدامات کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔ عمارت کے 120 فلیٹس میں جملہ 600 افراد حادثہ کے وقت موجود تھے جن میں زیادہ تر محوخواب تھے۔ حالانکہ آتشزدگی کے واقعہ کو پورے 24 گھنٹے گزر چکے ہیں لیکن آتش فرو عملہ اب بھی جدوجہد میں مصروف ہے جبکہ شعلے اب بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ عمارت کے تمام فلیٹس کی تلاشی لی جارہی ہے اور اندیشہ ہیکہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ آتش فرو عملہ نے ایک ’’فضائی پلیٹ فارم‘‘ تیار کیا ہے جس کا استعمال کرتے ہوئے عمارت کے فلیٹس کی کھڑکیوں میں تیز روشنی کے ذریعہ وہاں موجود لوگوں کا پتہ لگایا جارہا ہے۔ آتش فروعملہ ہر منزل پر رک کر یہ کام کررہا ہے۔ ہاسپٹل میں 74 افراد کو بغرض علاج شریک کیا گیا ہے جن میں سے 18 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہ یکہ جو لوگ جل کر خاکستر ہوگئے ہیں ان کی باقیات حاصل کرنا ایک پیچیدہ معاملہ ہوگا۔ گرین فیل ٹاور کو آگ نے جس تیزی سے اپنی لپیٹ میں لیا اس نے نہ صرف آتش فرو عملہ کو بلکہ عینی شاہدین کو بھی حیرت زدہ کردیا ہے۔ آگ کے شعلوں میں پھنسے ہوئے لوگوں نے اپنے بچوں کو خوف و ہراس کے عالم میں کھڑکیوں سے نیچے پھینک دیا۔

کچھ لوگ خود بھی بلند عمارت سے کود پڑے تاکہ اگر مرنا ہی ہے تو موت ہی سہی لیکن آگ میں جھلس کر مرنے کو ترجیح نہیں دی۔ اس سانحہ میں بچ جانے والے لوگوں نے بتایا کہ عمارت کی سیڑھیوں پر انہیں جھلسی ہوئی نعشیں بھی نظر آئیں اور ہر طرف دھواں ہی دھواں پھیلا ہوا تھا۔ کچھ لوگ جنہیں ٹاور بلاک مینجمنٹ کی جانب سے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ جہاں ہیں وہیں رہیں اور بچاؤ و راحت کاری کا انتظار کریں لیکن وہ انتظار ان کی موت میں تبدیل ہوگیا۔ کچھ دیگر لوگوں نے مینجمنٹ کی ہدایت کو نظرانداز کرکے ایک ایسی سیڑھی کا استعمال کیا جو عمارت سے باہر نکلنے کا واحد راستہ تھی اور اس طرح ان کی جان بچ گئی۔ اطلاعات کے مطابق آگ اس وقت شروع ہوئی جب چوتھی منزل کے ایک فلیٹ میں ایک ریفریجریٹر دھماکہ سے پھٹ گیا۔ عمارت کے مکینوں نے حالانکہ مقامی عہدیداروں کی توجہ کئی بار اس جانب مبذول کروائی تھی کہ عمارت میں تحفظ کے مؤثر انتظامات نہیں ہیں اور خصوصی طور پر آگ لگنے پر راہ فرار اختیار کرنا بیحد مشکل ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہیکہ عمارت میں کوئی الارم سسٹم کام نہیں کررہا تھا۔ زیادہ تر لوگوں کو ان کے پڑوسیوں نے دروازے کھٹکھٹا کر چوکس کیا۔ گرین فیل ٹاور کی تعمیر 1970ء کے دہے میں کی گئی تھی۔ حیرت اس بات پر ہیکہ لندن ایک ترقی یافتہ شہر ہے اور اس شہر میں بھی ایسی عمارتیں ہوں گی یہ کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا۔ جب لندن جیسے شہر میں ایسا ہوسکتا ہے تو دیگر ترقی پذیر شہروں میں عمارتوں کی تعمیر کا کیا معیار ہوگا۔ ہندوستان کے شہر ممبئی کے مضافاتی علاقہ ممبرا میں بھی یہ شکایتیں عام ہیں کہ وہاں کے بلڈرس تعمیراتی اشیاء میں الٹ پھیر کرتے ہوئے ناقص عمارتوں کی تعمیر کرتے ہیں جو زیادہ دن ٹک نہیں پاتیں اور منہدم ہوجاتی ہیں جس سے کئی انسانی زندگیاں تلف ہوجاتی ہیں۔ لندن سانحہ سے تمام تعمیراتی کمپنیوں کو سبق لینے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT