Thursday , September 21 2017
Home / مضامین / عمارت یا اراضی لیز اور کرایہ پر دینے سے جی ایس ٹی لاگو ہوگا

عمارت یا اراضی لیز اور کرایہ پر دینے سے جی ایس ٹی لاگو ہوگا

اراضیات کی فروخت جی ایس ٹی کے دائرہ کار سے باہر ہے

یکم جولائی سے ملک میں جی ایس ٹی پر عمل آوری ہونے والی ہے ۔ اس صورت میں اراضیات کو لیز پر دینے سے ‘ عمارتوں کو کرایہ پر دینے سے اور زیر تعمیر مکانات خریدنے کیلئے جو ماہانہ قسط ادا کی جاتی ہے اس پر بھی جی ایس ٹی عائد ہوگا ۔ تاہم اراضیات اور عمارتوں کی فروخت کو جیس ایس ٹی کے دائرہ کار سے باہر رکھا گیا ہے ۔ جی ایس ٹی کو نیا بالواسطہ ٹیکس قانون قرار دیا جا رہا ہے ۔ اراضی اور عمارتوں کی فروخت کی معاملتوں پر اسٹامپ ڈیوٹی عائد ہوتی رہے گی ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے لوک سبھا میں جو قوانین منظوری کیلئے پیش کئے تھے ان میں یہ بات واضح ہوگئی ہے ۔ برقی کو بھی جی ایس ٹی کے دائرہ کار سے باہر رکھا گیا ہے  ۔
مرکزی حکومت یکم جولائی 2017 سے جی ایس ٹی پر عمل آوری کا ارادہ رکھتی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں مرکزی محاصل ‘ سرویس ٹیکس اور ریاستوں کے ویاٹ اور دوسرے بالواسطہ محاصل اور ٹیکسیس کو مینوفیکچرنگ اشیا اور خدمات پر یکجا کردیا جائیگا ۔ مرکزی جی ایس ٹی بل ان چار بلوں میں شامل ہے جسے مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی لیز یا کریہ پر دیتا ہے یا پھر کسی اراضی پر قبضہ کا لائسنس جاری کیا جاتا ہے تو اسے خدمات کی فراہمی کے زمرہ میں شامل کیا جائیگا ۔ اس کے علاوہ کوئی بھی عمارت ‘ بشمول تجارتی ‘صنعتی یا اقامتی کامپلکس کو تجارت یا کاروبار کیلئے لیز پر دیا جاتا ہے چاہے وہ پوری عمارت ہو یا اس کا کچھ حصہ ہو وہ بھی اس بل کے مطابق خدمات کی فراہمی کے زمرہ میں شمارکیا جائیگا ۔ جی ایس ٹی بل کے مطابق اگر کوئی اراضی فروخت کی جاتی ہے یا کوئی عمارت فروخت کی جاتی ہے تو اس کو کسی شئے کی فراہمی یاکسی سرویس کی فراہمی کے زمرہ میں شامل نہیں کیا جائیگا تاہم اگر کوئی زیر تعمیر عمارت فروخت کی جاتی ہے تو اس کو اس زمرہ میں شمار کیا جائیگا ۔ عمارت یا اراضی کی راست فروخت کی معاملتوں پر جی ایس ٹی لاگو نہیں ہوگا ۔ سابقہ بلوں کے مسودہ میں اشیا کی فہرست میں ہر منقولہ جائیداد سوائے رقم اور سکیورٹیز کو اس زمرہ میں شامل کیا گیا تھا تاہم اس میں ’’ سرویس ‘‘ کا قابل عمل دعوی بھی شامل تھا جسے اشیا کے زمرہ میںشامل نہیں کیا گیا تھا ۔ یہ سمجھا جارہا تھا کہ جی ایس ٹی منقولہ جائیدادوں کی فراہمی جیسے اراضیات اور عمارتوں پر بھی اسٹامپ ڈیوٹی کے علاوہ عائد کیا جائیگا لیکن جو بلز پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے ہیں ان میں اب اس کی واضح صراحت ہوچکی ہے ۔
ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال سرویس ٹیکس تجارتی اور صنعتی یونٹوں کیلئے ادا کئے جانے والے کرایہ پر عائد ہوتا ہے ۔ حالانکہ اسے رہائشی یونٹس کیلئے استثنی حاصل ہے ۔ ایک رئیل اسٹیٹ تجارتی کمپنی کے سینئر ڈائرکٹر کا کہنا ہے کہ حالانکہ سرویس ٹیکس فی الحال زیر تعمیر اپارٹمنٹس کی فروخت پر عائد ہوتا ہے لیکن اس کی شرح قدرے کم ہے کیونکہ اس میں کمی کی گنجائش بھی ہے ۔ یہ ٹیکس عائد کرتے ہوئے یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ اپارٹمنٹ کی تعمیر میںاستعمال کی جانے والی اراضی کی مالیت کتنی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی قوانین سے یہ پتہ چلانے میں مدد ملے گی کہ آیا اس طرح کی معاملتوں کیلئے کم شرح پر جی ایس ٹی عائد کیا جاتا ہے کہ اس میںسابقہ کمی کے طریقہ کار کو ہی طئے کیا جاتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار شرح کا تعین کرنے والی کمیٹی پر بھی ہوگا جو اپنی سفارشات کو ماہ اپریل میں قطعیت دینے والی ہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرویس ٹیکس فی الحال زیر تعمیر اقامتی مکانات کی خریدی کیلئے ادا کی جانے والی رقومات پر عائد کیا جاتا ہے جبکہ اس میں قدرے تخفیف بھی کی جاتی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں جو 18 فیصد کی شرح ہے وہ کم ہوکر تقریبا 6 فیصد ہوجاتی ہے ۔ حکومت اس بات کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ جی ایس ٹی کو ہر طرح کے تنازعات سے پاک رکھا جائے ۔ حکومت نے جو بلز پارلیمنٹ میں پیش کئے ہیں ان میں یہ واضح طور پر صاف کردیا گیا ہے کہ جی ایس ٹی ہر اس اراضی کی لیز پر عائد ہوگا ہر اس عمارت پر عائد ہوگا یا ہر اس کامپلکس ‘ عمارت یا سیول ڈھانچہ یا اس کے جزوی حصے کی تعمیر پر عائد ہوگا جس کی مکمل قیمت یا جزوی ادائیگی اس عمارت کی تعمیر مکمل ہونے کے سرٹیفیکٹ کی اجرائی سے قبل ادا کی جائیگی یا پھر اس عمارت میں کسی کے مقیم ہونے سے پہلے ادا کی جائیگی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی میں مرکزی محاصل جیسے اکسائز اور سرویس ٹیکس اور مقامی محاصل جیسے ویاٹ ‘ تفریحی ٹیکس ‘ لکژری ٹیکس کو یکجا کیا جائیگا تاہم اس میں الیکٹریسٹی ڈیوٹی کو شامل نہیں کیا جائیگا ۔

TOPPOPULARRECENT