Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / عمرخالد اور انیربان کی ضمانت پر فیصلہ کل تک محفوظ

عمرخالد اور انیربان کی ضمانت پر فیصلہ کل تک محفوظ

دونوں طلباء کا مقدمہ کنہیا سے مختلف، ضمانت کی مخالفت استغاثہ کا بیان
نئی دہلی ۔ 16 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کی ایک عدالت نے غداری کے مقدمہ میں گرفتار جے این یو طلبہ عمرخالد اور انیربان بھٹا چاریہ کی درخواست ضمانت پر اپنا فیصلہ 18 مارچ تک محفوظ کردیا۔ پولیس نے ان دونوں کی ضمانتوں کی اس بنیاد پر مخالفت کی تھی کہ ان کے خلاف سنگین الزامات ہیں اور یہ دونوں ہی یونیورسٹی میں منعقدہ متنازعہ تقریب کے اصل منتظمین تھے، عمرخالد اور بھٹاچاریہ 23 فبروری سے جیل میں ہیں اور جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار سے روا رکھے گئے سلوک کی بنیاد پر اپنی ضمانتوں کیلئے درخواست کی تھی۔ انہوں نے استدلال پیش کیا تھا کہ اس واقعہ کیلئے ملک سے غداری کے الزامات لاگو نہیں ہوسکتے۔ ایڈیشنل سیشنس جج نے بحث کی سماعت کی۔ دونوں ملزمین نے کہا کہ کنہیا کی طرح انہیں بھی راحت دی جانی چاہئے چونکہ وہ عدالتی تحویل میں ہیں اور پوچھ گچھ کیلئے پولیس کو اب ان کی تحویل کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم پولیس نے دعویٰ کیا کہ عمرخالد اور انیربان کا معاملہ کنہیا کمار سے مختلف ہے۔ طلبہ یونین کے صدر نے اس تقریب کا اہتمام نہیں کیا تھا۔ جے این یو اسٹاف، طلبہ اور سیکوریٹی گارڈس کے علاوہ 10 آزاد عینی شاہدین نے توثیق کی ہیکہ اس تقریب میں ہند دشمن نعرے لگائے گئے تھے۔ استغاثہ نے کہا کہ ’’ہجوم کو اکسانے نعرے لگائے گئے۔ یہ دو افراد، عمر اور انیربان نے اس ہجوم کی قیادت کی جو مخالف ہند نعرے لگا رہا تھا۔ پولیس کو اپنے دو سیل فونس بھی دستیاب ہوئے ہیں جس سے ثبوت ملتا ہے کہ اس تقریب کے دوران انیربان اور عمر کی جانب سے ہند مخالف نعرے لگائے گئے تھے‘‘۔ استغاثہ نے مزید کہا کہ دو ملزمین کے ای میلس سے دستیاب پوسٹرس سے پتہ چلتا ہیکہ جے این یو انتظامیہ کی طرف سے اجازت نامہ واپس لئے جانے کے باوجود انہوں نے اس تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ تاہم ملزمین کے وکیل نے کہا کہ تقریب سے قبل یا بعد کوئی پرتشدد واقعہ پیش نہیں آیا۔ انیربان کے وکیل نریدیپ پائیس نے استدلال پیش کیا کہ ایسی کئی اطلاعات ہیں اور حتیٰ کہ پولیس نے بھی کہا ہیکہ اس واقعہ سے متعلق کئی ویڈیوز میں توڑجوڑ کی گئی ہے۔

اس واقعہ پر جے این یو کی رپورٹ نے بھی کہا ہیکہ باہری افراد نے نعرہ بازی کی تھی۔ عمر خالد کے وکیل جواہر رانا نے اپنے موکل کو کنہیا کمار جیسے مساویانہ سلوک کی بنیاد پر ضمانت دینے کی درخواست کی اور کہا کہ کنہیا کے خلاف بھی ایسے ہی الزامات تھے لیکن انہیں ضمانت دیدی گئی۔ عمر کا مقدمہ بھی کنہیا سے مختلف نہیں ہے۔ ان تینوں کنہیا، عمر اور انیربان کے علاوہ دیگر سات افراد کے خلاف بھی ایسے ہی الزامات عائد کئے گئے تھے لیکن انہیں چھوڑا جاچکا ہے۔ ایک مقامی وکیل یشپال بھی آج کی سماعت کے دوران موجود تھا جس نے 15 اور 17 فروری کے دوران پٹیالہ ہاؤز کورٹ کامپلکس میں جے این یو طلبہ اور میڈیا نمائندوں پر حملہ کیا تھا اور یہ واقعہ وہاں نصب کیمروں میں فلمبند ہوگیا تھا۔ انتہائی سخت ترین سیکوریٹی انتظامات کے درمیان مقدمہ کی سماعت کی گئی۔ متعلقہ مقدمات کے تمام وکلاء کو پولیس پہرہ میں لایا اور لے جایا گیا۔

TOPPOPULARRECENT