Tuesday , August 22 2017
Home / ہندوستان / عمر خالد اور دیگر دو طلبہ جے این یو سے خارج

عمر خالد اور دیگر دو طلبہ جے این یو سے خارج

کنہیا کمار پر دس ہزار روپئے جرمانہ ، اعلیٰ سطحی کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر فیصلہ
نئی دہلی ۔ 25 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ( جے این یو ) نے عمر خالد اور دیگر دو طلبہ کو مختلف میعاد تک کیلئے خارج کردیا جبکہ کنہیا کمار پر 10,000 روپئے جرمانہ عائد کیا گیا ہے ۔ افضل گرو کو پھانسی کے خلاف 9 فروری کو کیمپس میں منعقدہ پروگرام کے سلسلے میں یہ کارروائی کی گئی ۔ عمر خالد کو جہاں ایک سمسٹر کیلئے خارج کردیا گیا وہیں ایک اور اسٹوڈنٹ لیڈر نیربن بھٹاچاریہ کو 15 جولائی تک اور مجیب گتو کو دو سمسٹرس کیلئے برطرف کیا گیا ہے ۔ بھٹاچاریہ پر آئندہ پانچ سال کیلئے جے این یو میں کسی بھی کورس میں داخلہ پر پابندی لگادی ہے ۔ جے این یو اسٹوڈنٹس یونین صدر کنہیا کمار ، عمر خالد اور انیربن بھٹاچاریہ کو فروری میں ملک سے غداری کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا ۔ متنازعہ پروگرام کے سلسلہ میں ان کی گرفتاری عمل میں آئی اور اس وقت وہ ضمانت پر ہیں۔ گرفتاری کے ساتھ ہی وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ۔ یونیورسٹی کیمپس میںدو سابق اسٹوڈنٹس بنوجیوتسنا لہری اور دروپدی کے داخلے پر پابندی لگادی گئی جب کہ اشوتوش کمار کو ایک سال کیلئے ہاسٹل کی سہولیات اور کومل موہتی کو 21 جولائی تک ان سہولیات سے محروم کردیا گیا ہے ۔ یونیورسٹی نے 9 فروری کو منعقدہ پروگرام کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ کمیٹی نے اے بی وی پی رکن سوربھ شرما کو جنھوں نے اس پروگرام پر اعتراض کیا تھا اُس دن ٹرافک روکنے کا قصوروار قرار دیا گیا اور اُن پر 30,000 روپئے جرمانہ عائد کیا گیا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایشوریہ ادھیکاری جن کا نام رپورٹ میں درج نہیں تھا اُن پر بھی یہی جرمانہ عائد کیا گیا۔ اعلیٰ سطحی کمیٹی نے مختلف افراد کے بیانات ، ویڈیو کلپس اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد اپنی یہ رپورٹ تیار کی ہے ۔ سینئر یونیورسٹی عہدیدار نے بتایا کہ یونیورسٹی نے تین طلبہ کو خارج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انیربن بھٹاچاریہ کو 15 جولائی تک خارج کردیا گیا ، وہ کسی بھی کورس یا کیمپس میں آئندہ پانچ سال تک کسی کورس میں داخلہ کیلئے اہل نہیں ہوں گے ۔ عمر خالد کو ایک سمسٹر کیلئے اور مجیب گتو کو دو سمسٹرس کیلئے خارج کیا جارہا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ 14 طلبہ بشمول کنہیا کمار پر مالی جرمانے عائد کئے گئے ہیں۔ عمر خالد اور انیربن کو فرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے اور کیمپس میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کا قصور وار پایا گیا وہیں مجیب کو نعرہ لگانے والوں میں شریک ہونے کا قصور وار پایا گیا ۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں انتظامیہ کی جانب سے بھی کوتاہیوں کی نشاندہی کی تاہم اس کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT