Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / عمر کھیڑ میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے وفد کو پولس نے ریلیف تقسیم کرنے سے روکا

عمر کھیڑ میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے وفد کو پولس نے ریلیف تقسیم کرنے سے روکا

ممبئی،19 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)گنیش وسرجن کے جلوس کے دوران مہاراشٹر کے ایوت محل ضلع کے عمرکھیڑ نامی علاقے میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد کا جائزہ لینے کے لئے جمعیۃ علماء مہا راشٹر (ارشد مدنی) کا ایک وفدکو آج پولس انتظامیہ نے متاثرین میں ریلیف تقسیم کرنے سے روکا نیز ایس پی نے وفد میں شامل افراد کو دھمکی بھی دی کہ اگر وہ ریلیف تقسیم کرنے سے باز نہیں آئے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ جمعیۃ علماء مہارشٹر کے نائب صدر حافظ مسعود احمد جو وفد کی قیادت کررہے تھے کو پولس سپرنٹنڈنٹ اکھلیش کمار نے طلب کیا اور ان سے تلخ کلامی کی اور کہا کہ اگر وہ ریلیف تقسیم کرنے باز نہیں آئیں گے تو ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی کیونکہ اس سے امن و امان کو خطرہ ہوسکتا نیز مکمل امن قائم ہونے تک کسی بھی بیرونی امداد کی تقسیم کی پولس اجازت نہیں دیگی۔اس وفد میں شامل حاجی عبد الرفیق،حاجی حبیب الرحمٰن،اورعبد الرحمٰن نے بتایا کہ فساد کی بعد سے علاقہ کے لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ،اور لوگ اپنے مکان کو چھوڑ کر عارضی طور پر محفوظ مقامات پر چلے گئے ہیں۔شہر میں کاروبار بند ہیں،جس کی وجہ سے روزی روزگار کے مسائل بھی پیدا ہوگئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جن کے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ،ان میں کچھ مکانات ایسے ہیں جن میں کئی کئی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ،وہ بے سہارا بیٹھے امداد کے منتظر ہیں۔ ان کے لئے دو وقت کی روٹی کا بھی انتظام کرنا مسئلہ بن گیا ہے ۔ پولس کی مخالفت کے بعد وفد نے ایک لاکھ روپیہ نقد جمعیۃ علماء کے مقامی ذمہ داران کے سپرد کردیا اور واپس چلے گئے ۔ واضح رہے کہ جمعرات کی شب گنیش وسرجن جلوس کے درمیان دو گنیپی منڈلوں کے درمیان تنازعہ ہوا ،اور ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا، شر پسندوں نے کچھ پتھر مسلم بستیوں پر بھی پھینکے جس کے بعد مسلم نوجوانوں نے مداخلت کی اور یہ آپسی جھگڑا فرقہ وارانہ روپ میں بدل گیا۔دونوں فرقوں کے درمیان ہونے والے پتھراؤ کے نتیجے میں ایک گنپی کی مورتی ٹوٹ گئی جس کے بعد پولس نے 30 مسلم نوجوانو ں کو گرفتار کیا۔ جن 30 مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا انہیں17ستمبر 2016 بروز سنیچر عمر کھیڑ کی نچلی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہیں12ستمبرتک پولس تحویل میں دیئے جانے کے احکامات عدالت نے جاری کیئے حالانکہ سرکاری وکیل نے دس دنوں کی پولس تحویل طلب کی تھی لیکن دفاعی وکلاء کی مخالفت کے بعد صرف چار دنوں کی تحویل دی گئی۔ پولس نے اس معاملے میں ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 535,307,324,436 و یگر کے تحت مقدمہ درج کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT