Wednesday , August 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / عمل قبر میں ساتھ رہتا ہے

عمل قبر میں ساتھ رہتا ہے

ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں ایک جنازہ کے ساتھ جا رہا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ جنازہ کے آگے دو نوجوان کشتی لڑ رہے ہیں، جن میں سے ایک گورا اور دوسرا کالا ہے، جب کہ گورا اکثر کالے کو پچھاڑ دیتا ہے۔ جب میں نے لوگوں سے پوچھا کہ ’’یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘ تو لوگوں نے کہا: ’’ہم کو تو کچھ بھی نظر نہیں آرہا ہے‘‘۔ پھر جب میں لوگوں کے ساتھ قبرستان پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ خوبصورت نوجوان قبر میں اترا اور میت کے ساتھ ایسا لپٹ گیا، جیسے ماں بچے سے لپٹتی ہے۔
پھر جب ہم جانے لگے تو وہ کالا شخص ہمارے آگے آگے چل رہا تھا، میں نے اس سے پوچھا کہ ’’تم کون ہو؟‘‘۔ اس نے کہا: ’’تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟‘‘۔ میں نے کہا: ’’ہمارا کام ہی تحقیق کرنا ہے‘‘۔ اس نے کہا: ’’میں اس مردہ کا اعمال بد ہوں اور وہ شخص جو مردہ سے لپٹ گیا، اس کے نیک اعمال ہیں۔ اب وہ مردہ کے ساتھ ہمیشہ رہے گا۔ اس کی نیکیاں غالب تھی، لہذا میری کچھ نہ چلی۔ اگر برائیاں غالب ہوتیں تو میں قبر میں اس کے ساتھ رہتا اور اس کو تکلیف دیتا رہتا‘‘۔
حدیث شریف میں ہے کہ ’’انسان کا عمل قبر میں اس کے ساتھ رہتا ہے‘‘۔ اگر مردہ کے اعمال نیک ہوں تو اس کے عمل کرنے والے کو خوش خبری پہنچاتے ہیں، سختیوں اور عذابوں سے بچاتے ہیں اور اگر اس کے اعمال برے ہوتے ہیں تو اس اعمال والے کی قبر میں اندھیرا ہو جاتا ہے، اس کی قبر میں تنگی پیدا ہو جاتی ہے، اس کو عذاب دیا جاتا ہے اور اسے سختیوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ نہ خوشی باقی رہتی ہے اور نہ غمی، لیکن اچھے اور برے عمل کا بدلہ اور نیک نامی باقی رہتی ہے۔
ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ یمن میں ایک مردہ کو دفن کرنے کے بعد جب لوگ جانے لگے تو قبر سے کسی کو پٹکنے کی آواز آئی۔ پھر ایک کالا کتا قبر سے باہر نکلا۔ ان بزرگ نے کہا: ’’تو کون ہے؟‘‘۔ اس نے کہا: ’’میں مردہ کا برا عمل ہوں‘‘۔ بزرگ نے پوچھا: ’’یہ پٹکنے کی آواز کیسی تھی؟‘‘۔ کہا: ’’یہ مردہ قرآن پاک زیادہ پڑھتا تھا، لہذا قرآن نے مجھے پٹک کر باہر نکال دیا‘‘۔ الغرض جن کا عمل صالح ہو تو عمل بد کو باہر نکال دیتا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے: ’’آپ کا رب سزا دینے والا اور بالیقین بڑی مغفرت اور مہربانی والا ہے‘‘۔ (انعام) (مرسلہ)

TOPPOPULARRECENT