Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / عمومی ادویات کی قیمتوں پر قانون سازی کی تجویز ‘ شعبہ طب کا اعتراض

عمومی ادویات کی قیمتوں پر قانون سازی کی تجویز ‘ شعبہ طب کا اعتراض

ڈاکٹرس کو مریضوں کیلئے عمومی ادویات ہی تجویز کرنے کا پابند بنانے پر حکومت کا غور
حیدرآباد۔25اپریل(سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے قلب کے آپریشن کو قابل دسترس کرنے کے اقدامات کے تحت اسٹنٹ کی قیمت میں کمی لانے کے فیصلہ کے بعد اب عمومی ادویات کی تجویز کے متعلق قانون سازی پر غور کئے جانے کے عمل کے ساتھ ہی شعبہ طب کی جانب سے مختلف اعترضات کئے جانے لگے ہیں۔ حکومت ہند کا احساس ہے کہ ماہر اطباء کی جانب سے مہنگے اور معیاری ادویات تجویز کئے جانے کے سبب عوام علاج کو مہنگا تصور کرنے لگے ہیں جبکہ ان ادویات کے متبادل سستے داموں میں بھی دستیاب ہیں لیکن اکثر ڈاکٹرس کی جانب سے ان ادویات کو تجویز ہی نہیں کیا جا رہا ہے جس کے سبب عمومی ادویات بازاروں میں بھی عدم دستیاب ہونے لگی ہیں ۔ مرکزی حکومت نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ جس طرح اسٹنٹ کی قیمت میں 75فیصد تک کی کمی لائی گئی ہے اسی طرح بہت جلد قانون سازی کے ذریعہ ڈاکٹرس کو اس بات کا پابند بنایاجائے گا کہ وہ صرف عمومی ادویات ہی مریضوں کو تجویز کریں تاکہ کسی بھی مرض کے علاج میں مریض کو اس بات کا احساس نہ ہو کہ انہیں تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ علاج کے سبب معاشی مشکلات میں مبتلاء ہو رہے ہیں۔ حکومت کے اس منصوبہ کے متعلق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ قومی سطح پر عمومی ادویات بنانے والی کمپنیاں بھی موجودہ صورتحال سے پریشان ہیں اور وہ بھی ان ادویات کی تیاری کے لئے مجبور ہو رہی ہیں جو ڈاکٹرس تجویز کر رہے ہیں لیکن اب جبکہ حکومت نے عمومی ادویات (جنرک میڈیسن) کی تجویز کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے تو ایسی صور ت میں ہندستان کی 85فیصد آبادی کو راحت حاصل ہوگی کیونکہ مہنگی ادویات کی تجویز کے سبب مریضوں کی بڑی تعداد ڈاکٹرس سے رجوع ہی نہیں ہوا کرتی تھی اور جو لوگ رجوع ہوتے تھے ان میں بیشتر لوگ ادویات خریدنے میں تامل برتنے لگتے تھے لیکن اب جنرک میڈیسن کو عام کاجانے لگے تو وہ کمپنیاں جو مہنگی ادویات بناتی تھیں وہ بھی عمومی ادویات بنانے پو مجبور ہو جائیں گی اوریہ ادویات کافی سستی ہوا کرتی ہیں بلکہ ان ادویات کے متعلق میڈیکل شاپس کا کہنا ہے کہ ان کی فروخت سے آمدنی نہیں ہوتی اسی لئے بیشتر میڈیکل شاپس پر جنرک میڈیسن کی فروخت عمل میں نہیں لائی جاتی بلکہ وہی ادویات فروخت کی جاتی ہیں جو ڈاکٹرس کی جانب سے تجویز کی جاتی ہیں حالانکہ ڈاکٹرس کی جانب سے تجویز کردہ ادویات کا متبادل جنرک میں موجود ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں دینے سے اجتناب کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں نہ آمدنی ہے اور نہ ہی عوام انہیں قبول کرتے ہیں کیونکہ عوام کا بھی یہ ذہن ہے کہ ڈاکٹر نے جو ادویات تحریرکی ہیں وہ ادویات ہی خریدی جائیں گی ان کے متبادل پر غور نہیں کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT