Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / عوامی حقوق اور آزادی خیال کو دبانے حکومت کی سازش

عوامی حقوق اور آزادی خیال کو دبانے حکومت کی سازش

صدر ہیومن رائٹس فورم جیون کمار کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 9 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : عوامی تحریک سے تشکیل شدہ نئی ریاست تلنگانہ میں بھی اب عوامی تحریکوں کو آہنی پنجہ سے کچلنے کے اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ گذشتہ 50 سال سے عوامی تحریکوں کو کچلنے کے لیے جاری اقدامات دوبارہ پھر دہرائے جارہے ہیں اور افسوس کہ نو تشکیل شدہ ریاست تلنگانہ میں بھی پولیس کو اختیارات کے نام پر کھلی چھوٹ دی جارہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ہیومن رائٹس فورم ( ایم آر ایف ) کے صدر مسٹر جیون کمار نے کیا جو آج یہاں ایک پریس کانفرنس کو مخاطب تھے ۔ ریاست تلنگانہ میں بے روزگار نوجوانوں کے مسائل اور روزگار کے سرکاری موقع فراہم کرنے کے لیے منعقد کی گئی بے روزگاروں کی ریالی کے بعد فورم نے ایک تحقیقاتی کمیٹی کو قائم کیا تھا ۔ ماہرین انسانی حقوق تنظیموں اور سیاسی تنظیموں سے وابستہ افراد پر مشتمل اس کمیٹی نے اپنی فیاکٹ فنڈنگ رپورٹ میں ان تجربات کا اظہار کیا ہے ۔ پریس کانفرنس کے دوران مسٹر جیون کمار نے کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ اور حقائق کو میڈیا کے سامنے پیش کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے منعقدہ اس ریالی کو ناکام بنانے کی ہر ممکنہ کوشش کی گئی اور ریاستی وزراء سوائے جے اے سی کے خلاف زہر افشانی کے کوئی اور کام پر نہیں تھے ۔ 22 فروری کو منعقدہ اس ریالی کو ناکام بنانے کے لیے پولیس نے انتھک کوشش کی ۔ عدالت سے مشروط اجازت کے بعد جے اے سی نے عدالت سے اپنی درخواست کو واپس لے لیا تھا ۔ اور ناگول میں اجلاس ممکن نہ ہونے کے سبب پرامن طور پر سندریا ویگنان کیندرم سے اندرا پارک دھرنا چوک تک ریالی نکالنے کا اعلان کیا تاہم 21 فروری کی رات ہی سے پولیس نے اضلاع میں گرفتاریاں شروع کردیں ۔ اور 22 کی صبح جے اے سی قائدین بشمول چیرمین کودنڈا رام و دیگر قائدین کو ان کے مکانات پر نظر بند کردیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے اہم راستوں اور اضلاع سے شہر آنے والوں راستوں پر ناکہ بندی کرتے ہوئے شہر کو پولیس نے عملا اپنے محاصرہ میں لے لیا تھا ۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریالی کا 15 روز قبل ہی اعلان کیا گیا تھا تاہم پولیس نے طرح طرح سے جے اے سی قائدین کو ہراساں و پریشان کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ جن حقائق کو پیش کیا گیا اس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تلنگانہ کی تشکیل میں قربانیوں اور تحریکوں کی اصل ذمہ دار جے اے سی کو کمزور کرنے کی سرکاری طور پر کوشش جاری ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ فیاکٹ فنڈنگ میں یہ نتیجہ برآمد ہوا ہے کہ عوامی حقوق اور دستور کی جانب سے دئیے گئے بنیادی حقوق ، آزادی اظہار خیال جیسے حقوق کو سابقہ حکومتوں کی طرح یہ حکومت بھی دبانے کے اقدامات پر عمل پیرا دیکھائی دیتی ہے ۔ انہوں نے ایچ آر ایف کی جانب سے مطالبہ کیا کہ جس طرح تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ رویہ اختیار کیا گیا اس پر ایک برسر کار جج سے ذریعہ تحقیقات عمل میں لائے جاتے ہیں اور ملازمتوں پر تقررات کے لیے حکومت کو چاہئے کہ وہ باضابطہ اطمینان بخش بیان جاری کرے اور کارکنوں اور بے روزگار نوجوانوں پر عائد مقدمات کو برخواست کیا جائے ۔ اس موقع پر سید بلال نائب صدر ایچ آر ایف حیدرآباد کمیٹی ، وی بالراجو ، سکریٹری اور سنجیو کمار رکن و دیگر موجود تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT