Monday , August 21 2017
Home / اداریہ / عوامی رقومات کا بیجا استعمال

عوامی رقومات کا بیجا استعمال

سرکاری خزانے پر بوجھ ڈالنے والے فیصلوں کے خلاف آواز کو سنی ان سنی کرنے والی حکومتوں کو رائے دہندوں سے ایک استرداد کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مرکز کی بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت پر سرکاری فنڈس کے بیجا استعمال کے الزامات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ لکھنو میں عالمی یوم ہوگا تقاریب بڑے پیمانہ پر منعقد کرنے والی اترپردیش حکومت پر سابق چیف منسٹر مایاوتی نے تنقید کی ہے ۔ بی ایس پی سربراہ نے یوگا ڈے کے نام پر فنڈز اور وسائل کے بیجا استعمال پر احتجاج کیا ہے ۔ خود مایاوتی کے دور حکومت میں لکھنو میں ہاتھیوں کے مجسموں کی تنصیب پر سرکاری فنڈس کا مان مانی طریقہ سے استعمال کیا گیا تھا ۔ حکومتوں یا حکمراں پارٹی کو اپنی پسند کی پالیسیوں پر دلچسپی رہتی ہے ۔ ہر پارٹی حکومت میں موافق پارٹی پالیسیوں کی وجہ سے اس ملک اور ریاستوں کے عوام کے ٹیکسوں کا بیجا استعمال ہوتا رہا ہے ۔ ترقیاتی کاموں ‘ روزگار اور بہبودی اقدامات کے بجائے جب حکومتیں فضول خرچی کے ذریعہ اپنے پروگراموں کو ترجیح دیتی ہیں تو اس کے نتائج منفی نکلتے ہیں اور عوامی مسائل کو بھی جوں کا توں چھور دینا ہوتا ہے ۔ آر ایس ایس نظریہ کو فروغ دینے والی بی جے پی حکومت کی پالیسیوں پر تنقیدیں کرنے والوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آر ایس ایس نظریاتی لیڈر پنڈت دین دیال اپادھیا کی صدی سالگرہ تقریب مانے کے لئے حکومت نے حال ہی میں فنڈس کا بیجا استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔ ہریانہ کی اپوزیشن نے حکومت کے اس منصوبہ کی شدید مخالفت کی ‘ آر ایس ایس لیڈر دین دیال اپادھیا صرف آر ایس ایس والینٹرس اور بی جے پی قائدین کے گرو ہوسکتے ہیں ۔ اس سے ساری ریاست یا ملک کے عوام کا کوئی واسطہ نہیں ہوگا ۔ بی جے پی حکومت میں ملک کی کئی ہندو تنظیموں نے یہ شکایت کی ہے کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں مندروں کو آنے والے عطیہ جات کا غلط استعمال کر رہی ہیں ۔ ملک بھر میں مندروں کو ملنے والی رقومات کو مرکز اور ریاستی حکومتوں نے مندروں کی رقومات کو بھی نہیں بخشا ہے ۔ حال ہی میں اختتام پذیر 6 ویں آل انڈیا ہندو کنونشن میں ہندو ودھی دینی پریشد کے ایک رکن نے یہ اطلاع آر ٹی اے کے ذریعہ حاصل کر کے انکشاف کیا تھا کہ مندر فنڈس کا بیجا استعمال ہو رہا ہے ۔ اس ثبوت میں دستاویزات بھی پیش کئے گئے ۔ سیاسی فوائد کے لئے تشہری حربے استعمال کرتے ہوئے ملک کے ٹیکس دہندگان کی رقم کو من مانی طریقہ سے ذاتی پارٹی اغراض پر خرچ کیا جا رہا ہے ۔ اوڈیشہ کی بی جے ڈی نے اس جانب توجہ دلاتے ہوئے مرکز کی بی جے پی زیر قیادت این ڈی حکومت پر الزام عائدکیاتھا کہ ٹیکس دہندگان کی کروڑہا روپئے کی رقم تو وہ پبلسٹی پر خرچ کر رہی ہے ۔ مودی فیسٹول کے نام پر سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دینے والوں نے صرف مودی کے وکاس کے تشہیری حربے پر کروڑہا روپئے خرچ کرنے شروع کئے ہیں ۔ اگر یہ سلسلہ یوں جاری رہا تھا تو پھر ہندوستان کے عوام اس من مانی اور فضول خرچی کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ انتخابات کے وقت اس پارٹی کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا ۔ ملک کے قومی وسائل کا تحفظ کرنا ہر حکومت کی دیانتداری پالیسی ہونا چاہئے مگر دیکھا یہ جا رہا ہے کہ مرکز میں جس پارٹی کی حکومت ہوتی ہے یہ ریاست میں حکمراں پارٹی کو اپنے منشور کے مطابق کام کرنے سے اپنی مقبولیت کو فروغ دینے کی فکر رہتی ہے ۔ ایسے میں سرکاری فنڈس کا بے دریغ استعمال سخت ہوتا ہے ۔ ملک کو کالا دھن لانے اور رشوت کے خاتمہ کے لئے نوٹ بندی کرنے جیسے فیصلوں سے پریشان کرنے والی حکومت اگر عوامی فنڈس کا بیجا استعمال کرتی ہے تو بیروزگاری ’ مہنگائی‘ پیداوار میں کمی اور دیگر عوامی مسائل کی یکسوئی کے لئے وہ کس طرح کام کرے گی اس پر عوام کی توجہ ضرور ی ہے ۔ مایاوتی نے اپنی حکومت میں جو غلطیاں کی تھیں آج کا اس کا خمیازہ بھگتنے کے بعد مودی یا آدیتیہ ناتھ یوگی حکومتوں پر تنقید کر رہی ہیں کہ یوگا ڈے منا کر فنڈس تباہ کیا جا رہا ہے ۔ عوام کے سامنے سچائی آنے کے بعد وہ اپنے منتخب حکمراں کو سبق سیکھانے کا بھی اختیار رکھتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT