Friday , September 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / عوامی مسائل کے مستقل حل کیلئے منصوبہ بند پیش قدمی

عوامی مسائل کے مستقل حل کیلئے منصوبہ بند پیش قدمی

کسانوں کی خودکشی واقعات کیلئے سابق حکومتیں ذمہ دار: پوچارم سرینواس ریڈی
نظام آباد:15؍ اکتوبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاست میں ہونے والی کسانوں کی خودکشی کی اموات کے ذمہ دار سابق حکومتیں ہیں۔ ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہی تلنگانہ حکومت کو خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر زراعت پوچارام سرینواس ریڈی نے کیا۔ مسٹر پوچارام سرینواس ریڈی نے کہا کہ متحدہ ریاست میں کانگریس 42 سال، تلگودیشم 16 سال حکمرانی کی ہے اور ان کی حکومت کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ عدم منصوبہ بندی کی وجہ سے تلنگانہ ریاست کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ کسانوں کو مسائل پیش آرہے ہیں۔ اقتدار میں رہتے ہوئے کوئی بھی کام نہیں کیا اپوزیشن میں رہتے ہوئے کسانوں کے ساتھ مگر مچھ کے آنسو بہارہے ہیں۔ کسانوں کی امواتیں اور پانی کی عدم سربراہی اور بارش پر منحصر ہونے کی وجہ سے فصلوں کے نقصان کے سبب خودکشی کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ کانگریس، تلگودیشم دونوں پارٹیاں اقتدار کے دوران پراجیکٹوں کی تعمیرمیں کوئی منصوبہ بندی نہیںکی۔ گوداوری، کرشنا ندیوں کے پانی استعمال میں بچاوت کمیٹی کے قواعد کے مطابق پانی کو استعمال کیا جاتا تو کسانوں کیلئے فائدہ مند ہوتا۔300 ٹی ایم سی پانی  کے عدم استعمال 1200 ٹی ایم سی پانی ضائع ہوتے ہوئے سمندر میں چلے جارہا ہے اگر یہ پانی کا استعمال کیا جاتا تو تلنگانہ سرسبز و شاداب ہوتا تھا۔ کانگریس کے دور حکومت میں پرانہیتا چیوڑلہ کے نام پر ہزاروں کروڑوں پر خرچ کرتے ہوئے صرف کنال کی کھدوائی کی گئی اور پراجیکٹ کی تعمیر نہیں کی گئی اور ایک گنٹہ بھی سیراب نہیں ہواکروڑوں روپئے کے خرچ سے فنڈ کو ضائع کیا گیا ۔ مسٹر پوچارام سرینواس ریڈی نے کہا کہ پوتی ریڈی پاڑو سے وائی ایس آر کے دور حکومت میں  پانی کے استعمال کیلئے پراجیکٹ تعمیرکے اقدامات کئے گئے تو اس کا خیر مقدم کون کئے تھے ۔ حندری نواکو آبی سہولتیں کس کے دور میں فراہم کی گئی۔ نظام ساگر کے مانجرا ندی پر48 پراجیکٹ اور سری رام ساگر کے گوداوری ندی پر 187 پراجیکٹوں کی تعمیر خاموش تماشائی رہے۔ ان تمام کاموں کو خاموشی کے ساتھ انجام دیا گیا۔ تلنگانہ کو نقصانات کے باوجود بھی خاموش تماشائی رہے۔ 15ماہ قبل اقتدار پر آنے والی ٹی آرایس حکومت پر اور چیف منسٹر چندر شیکھر رائو کو نشانہ بنانے پر سخت اعتراض کیا۔ پدیاترا کے نام پر گمراہ کرنے اور الزام عائد کرتے ہوئے اگر ان پراجیکٹوں کو تلنگانہ کے مفادات کیلئے تعمیر کیا جاتا تو بہتر ہوتا اور آج صورتحال کچھ اور ہوتی۔ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو تلنگانہ کے عوام کو مستقل مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہے اور منصوبہ بند طریقہ سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ تلگودیشم، کانگریس عوام کو گمراہ کرنے کے خاطر حکومت پر الزام عائد کررہے ہیں۔کالیشورم پراجیکٹ 3200 کروڑ روپئے سے تعمیر کرنے کیلئے سنگ بنیاد رکھی گئی ہے اور زیر التواء پراجیکٹ کی جدید تعمیر کیلئے کوشش کی جارہی ہے اسمبلی میں اپوزیشن پارٹیوں کو بحث کا موقع فراہم کیا گیا تو اسپیکر پوڈیم پر احتجاج کرتے ہوئے کسانوں سے دلچسپی کا ثبوت پیش کیا۔ اپوزیشن کو کسانوں سے دلچسپی نہیں ہے اور کانگریس و تلگودیشم کو پراجیکٹوں کے مسئلہ پر بات کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ٹی آرایس کے دور حکومت میں برقی کو باقاعدہ طورپر سربراہ کیا جارہا ہے تلنگانہ سے ہمیشہ کیلئے خشک سالی کا خاتمہ اور سرسبز و شاداب کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں جس سے سابق میں برقی سربراہی پراحتجاج کرنے والے کسانوں پر گولیاں برسائی گئی۔ ان پٹ سبسیڈی 5 سال میں ایک مرتبہ بھی منظور نہیں کی گئی اور سابق چیف منسٹر کسانوں کے خلاف اقدامات کرنے کے باوجود بھی خاموش تماشائی تھے۔ جبکہ ٹی آرایس حکومت 50 فیصد قرضہ جات کی معافی کی گئی اور مزید 50 فیصد قرضہ جات کی معافی کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ ٹی آرایس پر تنقید کرنے کا کانگریس اور تلگودیشم کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ اس موقع پر اراکین اسمبلی جیون ریڈی( آرمور)،پرشانت ریڈی ( بالکنڈہ)، ہنمنت شنڈے(جکل)، باجی ریڈی گوردھن (نظام آباد رورل)بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT