Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / عوامی مطالبے پر سزائے موت کی بحالی ممکن : اردغان

عوامی مطالبے پر سزائے موت کی بحالی ممکن : اردغان

استنبول ۔ 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ اگر عوام مطالبہ کرتے ہیں‘ تو وہ سزائے موت کی بحالی کے لیے تیار ہیں۔ ترک صدر استنبول میں اپنی رہائش گاہ کے باہر اپنے حامیوں سے خطاب کر رہے تھے جہاں سزائے موت کی دوبارہ بحالی کے لیے نعرہ بازی کی جارہی تھی۔ دوسری جانب یورپی یونین کے حکام نے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ملک میں سزائے موت کو بحال کیا تو اس کے یورپی یونین میں شمولیت کا راستہ بند ہوسکتا ہے۔ رجب طیب اردوغان بغاوت کی کوشش کے بعد پولیس اہلکاروں اور سرکاری عملے پر ہونے والے کریک ڈاؤن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ترکی میں ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور فوجی افسران اور ججوں کو برطرف یا حراست میں لیا جا چکا ہے۔ ترکی کے مغربی اتحادیوں نے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے اور صدر اردغان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دیکھ بھال کر کوئی قدم اٹھائیں۔ تاہم منگل کو اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوغان کا کہنا ہے کہ ترکی ایک ’جمہوری ریاست ہے جہاں قانون کی بالادستی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر ترک عوام یہ مطالبہ کرتے ہیں اور پارلیمان اس قانون سازی کی منظوری دے دیتی ہے تو وہ سزائے موت بحال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آپ عوام کے مطالبے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘ ترک صدر کا کہنا تھا کہ ’آج کیا امریکہ میں سزائے موت نہیں ہے؟ روس میں؟ چین میں؟ دنیا بھر کے ممالک میں؟ صرف یورپی یونین کے ممالک میں سزائے موت نہیں ہے۔‘ خیال رہے کہ ترکی نے 2004 میں یورپی یونین کا رکن بننے کی کوششوں کے سلسلے میں ملک میں سزائے موت کا قانون ختم کر دیا تھا۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ فوجی بغاوت قصداً کروائی گئی تھی تاکہ ملک پر ان کی گرفت مزید مضبوط ہوجائے۔

TOPPOPULARRECENT