Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / عوام اور طلبہ کو شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا مشورہ

عوام اور طلبہ کو شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا مشورہ

تلنگانہ اکیڈیمی فار لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ میں شجرکاری، جناب محمد محمود علی کا خطاب
حیدرآباد۔24جولائی (سیاست نیوز)حکومت تلنگانہ کی معلنہ اسکیم ہریتا ہرم پروگرام کے تحت ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی نے آج تلنگانہ اکیڈمی فار لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ واقع گچی باؤلی میں شجر کاری مہم میں حصہ لیا اور عوام کو بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہوئے اس کی دیکھ بھال پر بھی توجہ مرکوز کرنے کی تلقین کی۔جناب محمد محمود علی نے اس موقع پر شجرکاری کی اہمیت و افادیت سے طلباء اور عوام کو واقف کروانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طلباء کی جانب سے   کئے جانے والے عمل سے معاشرے میں مثبت تبدیلی آتی ہے ۔ انھوں نے مزید کہاکہ حکومت تلنگانہ قحط سالی کا خاتمہ اور آلودگی سے پاک نظام کے قیام کو یقینی بناناچاہتی ہے جس کیلئے درختوں کی تعداد میں اضافہ بے حد ضروری ہے اور جاریہ سال اچھی برسات کی توقع ہے اسلئے زیادہ سے زیادہ شجرکاری کامنصوبہ تیار کیاگیا ہے۔اپوزیشن کی جانب سے درختوں کے متعلق بے بنیاد تنقیدوں کاجواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے کیا جانے والا ہر کام ریاست اور اس کے عوام کے مفاد میں ہوتا ہے اسلئے حکومت تنقیدوں کی پرواہ کئے بنا اپنا کام جاری رکھے گی۔  درختوں کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے  ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ درخت قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے درختوں کو انہوں نے زندگی کا ضامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرہ ارض پر موجود تمام جانداروں کیلئے قدرتی آکسیجن کی حیثیت رکھتے ہیںاور یہ نہ صرف فضائی آلودگی سے پیدا ہوئے کاربن ڈائی آکسائڈ کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ تازہ آکسیجن فراہم کرتے ہیں ۔نائب وزیر اعلی نے بتایا کہ ترقی یافتہ ملک امریکہ میں ایک شخص کے حصے میں 7  ہزار سے زائد درخت آتے ہیں  جبکہ اس کے مقابلے  ہمارے ملک میں درخت کافی کم تعداد میں ہیں۔ حکومت نے تلنگانہ کو سنہرے تلنگانہ کے ساتھ ساتھ سر سبزو شاداب بنانے کا عزم رکھتی ہے اور اس سلسلے میںریاست میں چار کروڑ درخت لگانے پر عمل آوری کررہی ہے  تاہم اس سلسلے میں عوام کی توجہ کی ضرورت ہے اگر ہر شخص ایک  پودہ لگادے تو اتنے درخت ہو جائیں گے اور ہرا بھرا صحت مند تلنگانہ تشکیل پائے گا۔ اس موقع پر رکن اسمبلی سیری لنگم پلی ، ریمنڈ پیٹر آئی اے ایس،  پردیپ چندا آئی اے ایس،  کے علاوہ دیگر موجودتھے۔

TOPPOPULARRECENT