Wednesday , August 16 2017
Home / Top Stories / عوام ایندھن کی اصل قیمت سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے پر مجبور

عوام ایندھن کی اصل قیمت سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے پر مجبور

پٹرول 24.75 روپئے فی لیٹر ، ٹیکس 31.20 روپئے
ڈیزل 24.86 روپئے فی لیٹر، ٹیکس 27.05 روپئے
نئی دہلی 9 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے عوام کی جیب پر بوجھ عائد ہوتا ہے ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ بین الاقوامی مارکٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے ملک میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ۔ جی ہاں ! ملک میں جو ٹیکسیس عائد کئے جاتے ہیں وہ در اصل پٹرول کی حقیقی قیمت سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ ہندوستان میں ایک سال میں پانچ مرتبہ اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ دارالحکومت دہلی میں پٹرول کی قیمت 60.70 روپئے فی لیٹر ہے ۔ اس میں 31.20 روپئے تو محاصل میں چلے جاتے ہیں۔ صنعتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ گیسولین کی اوسط قیمت اور بیرونی زر مبادلہ کے ماہ اکٹوبر کی دوسرے نصف میں شرح کے اعتبار سے ریفائنریز میں فی لیٹر پٹرول پیداوار کی قیمت 24.75 پیسے ہوتی ہے ۔ کمپنی مارجن اور دوسرے اخراجات عائد کرنے کے بعد پٹرول ایک پٹرول پمپ ڈیلر کو 27.24 روپئے فی لیٹر کے حساب سے سربراہ کیا جاتا ہے ۔ اس پر 19.06 روپئے کی اکسائز ڈیوٹی عائد کی جاتی ہے جو مرکزی حکومت حاصل کرتی ہے اور پھر ڈیلر کمیشن فی لیٹر 2.26 پیسے فی لیٹر دیا جاتا ہے ۔ ویاٹ یا سیلس ٹیکس 12.14 روپئے عائد کیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں دہلی میں پٹرول کی قیمت فی لیٹر 60.70 روپئے فی لیٹر ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت فی لیٹر 45.93 روپئے فی لیٹر ہے ۔ تاہم ریفائنری میں اس کی قیمت 24.86 روپئے ہے ۔ مارجن عائد کرنے کے بعد پٹرول پمپ ڈیلر کو فی لیٹر 27.05 روپئے فی لیٹر ڈیزل فراہم کیا جاتا ہے ۔ اس پر اکسائز ڈیوٹی 10.66 روپئے اور ڈیلر کمیشن فی لیٹر 1.43 روپئے عائد کیا جاتاہے ۔ دہلی میں ویاٹ سے اس پر مزید 6.79 روپئے عائد کئے جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں دہلی میں اس کی قیمت 45.93 ہوجاتی ہے ۔ مرکزی حکومت نے جاریہ سال 7 نومبر سے پٹرول پر اکسائز ڈیوٹی میں فی لیٹر 1.60 روپئے اور ڈیزل پر فی لیٹر 40 پیسے کا مزید اضافہ کیا ہے تاہم تیل کمپنیوں نے فی الحال اسے صارفین پر منتقل نہیں کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT