Wednesday , October 18 2017
Home / اضلاع کی خبریں / عوام کا سکون ختم ‘ تجارتی سرگرمیاں ٹھپ

عوام کا سکون ختم ‘ تجارتی سرگرمیاں ٹھپ

نرمل ۔ 13 نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)  مرکزی حکومت کی جانب سے 8 نومبر کی درمیانی شب سے 500 اور 1000 کے نوٹوں کا چلن بند ہوجانے کے بعد ہر شخص پریشان ہے جبکہ تعطیلات کے باوجود بینکس کھلے رہنے کی وجہ سے ہر بینک پر ہزاروں لوگوں کا ہجوم اُمڈ آیا ہے جس میں خواتین کی بہت بڑی تعداد نوٹوں کی تبدیلی کے لئے قطار میں ٹہری نظر آ رہی ہیں تو کچھ لوگ  اس بات کو لیکر بہت زیادہ فکرمند ہیں کہ یہ وقت شادیوں کے سیزن کا ہے اور کافی رقم درکار ہے جبکہ نئے قوانین میں صرف دس ہزار روپئے تک بینک سے نکالنے کی حکومت  کی پالیسی نے عوام اور کھاتہ داروں کا سکون چھین لیا ۔ کوئی سمجھ نہیں پا رہا ہے کہ آخر یہ  کیا ہو رہا ہے ۔ مارکٹ میں ایک عام آدمی بھی معمولی ترکاری کی خریدی کے لئے بھی مجبور ہوگیا ہے جس کے پاس بھی دیکھیں پانچ سو اور ایک ہزار کی نوٹ نظر آ رہی ہے کئی تجارتی ادارے پریشان حال ہے کے آخر گاہکوں کو کیا سمجھا یا جایا ۔ ملک بھر میں  نوٹوں کی تبدیلی کے لئے عوام میں غیر معمولی تجسس پایاجاتا ہے۔ ہر طبقہ پریشان حال ہے کہ آخر کیا ہو رہا ہے ۔ تقاریب کا انتظام کیسے ہوگا کئی شادیاں ملتوی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ بینک عہدیدار غیر معمولی وقت مقررہ سے زیادہ کام کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے موصول احکامات پر عمل آوری کرتے ہوئے ہر کھاتہ دار کو سمجھاتے ہوئے حالات سے واقف کروا رہے ہیں ممکنہ تعاون کر رہے ہیں تاہم وہ حکومت کے احکامات کو نظرانداز نہیں کرسکتے کیونکہ نوٹوں کی تبدیلی کے لئے صرف چار ہزار روپئے کی سہولت ہے جبکہ شادی بیاہ کے گھروں میں اس رقم سے ترکاری بھی خرید ی نہیں جاسکتی ۔ کھاتہ دار اور عام شہری اخباری نمائندوں سے بار بار گذارش کر رہے ہیں کہ حکومت کے اس  فیصلہ پر قلم کے ذریعہ عوامی تکالیف کی طرف توجہ دلائیں ۔ کئی لوگوں نے بینک کے پاس وزیراعظم پر شدید تنقید کرتے ہوئے یہ کہتے سنے گئے کہ ملک میں پانچ سو اور ایک ہزار کی نوٹوں کا چلن بند کرکے وزیراعظم جاپان چلے گئے ۔ حقیقت میں عوام کی پریشانیوں کو بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری کوئی ٹھوس قدم عوام کی سہولت کے حق میں اٹھائے کیونکہ ملک کی تاریخ میں بھی بینکس کے پاس اس قدر ہجوم آج تک کسی نے نہیں دیکھا۔ تاہم تمام تجارتی سرگرمیاں مکمل مفلوج ہو کر رہے گئی ہیں۔ عام شہریوں  نے بارہا کہا ہے کہ ہم نے زندگی میں ایسی مشکل گھڑی بھی نہیں دیکھی ۔ لوگوں کو یہ کہتے منا گیا ہے کہ باربار ہر نیوز میں اچھے دنوں کی آمد کی خبریں سنتے سنتے عوا م بیزار  ہوگئے ہیں کیا مرکزی حکومت کے یہی اچھے دن ہیں ۔ نوٹوں کے چلن نے کئی گھروں میں ماتم کا ماحول پیدا کر دیا ۔ شادی بیاہ کے گھروں میں سکون باقی نہیں رہا ۔ ہر شخص وزیراعظم کو یہی تنقید کا نشانہ مناتے ہوئے دیکھے گئے ۔

TOPPOPULARRECENT