Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / عوام کی توجہ ہٹانے نئے اضلاع کی تشکیل کا شوشہ

عوام کی توجہ ہٹانے نئے اضلاع کی تشکیل کا شوشہ

اضلاع پر سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں سے حصول رائے کا مشورہ ، ڈاکٹر ملوروی
حیدرآباد ۔ 23 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ حکومت کی ناکامی سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے نئے اضلاع کا شوشہ چھوڑا گیا ہے ۔ نئے اضلاع کی تشکیل سے قبل سیاسی جماعتوں اور عوامی منتخب نمائندوں اور دانشوروں کی رائے حاصل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ڈاکٹر ملو روی نے کہا کہ انتظامیہ کو عوام سے قریب کرنے کے لیے اور عہدیداروں کا عوام سے رابطہ بڑھانے کے لیے نئے اضلاع کی تشکیل ضروری ہے ۔ تاہم عوامی سہولیات کو نظر انداز کر کے ٹی آر ایس اس کو سیاسی مفادات کا مسئلہ بنا رہی ہے ۔ نئے اضلاع کی تشکیل پر کانگریس کو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ تاہم نئے اضلاع کی تشکیل کے لیے جو پیمانہ اپنایا جارہا ہے وہ قابل اعتراض ہے ۔ حکومت اس کی عوام سے فوری وضاحت کریں ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نئے اضلاع کی تشکیل کے لیے کلکٹرس سے تجاویز وصول کررہے ہیں جب کہ انہیں عوامی منتخب نمائندوں دیا ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل سے قبل یو پی اے حکومت کی جانب سے اپنائی گئی ۔ پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر ملو روی نے کہا کہ جمہوریت میں عوامی منتخب نمائندوں کو اہمیت دینا لازمی ہے ۔ اضلاع کی تشکیل سے قبل اس کے معاشی حالت ، قدرتی وسائل ، پینے کے پانی کی سہولت ٹرانسپورٹ نظام کے علاوہ دوسری سہولتوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ انتظامیہ عوام کے قریب پہونچ سکے ۔ ریاست میں عوام کئی مسائل سے دوچار ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت اپنے اقتدار کے 2 سال مکمل کررہی ہے ۔ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں عوام سے جو بھی وعدے پورے کئے گئے ہیں ان میں ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا ۔ ایک ایسے وقت جب عوام مشکلات میں مبتلا ہیں ان پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے راحت فراہم کرنے کے بجائے حکومت نئے اضلاع کی تشکیل کو اہمیت دے رہی ہے ۔ ریاست میں خشک سالی سے عوام پریشان اور پینے کے مسائل ہیں دھوپ کی لو سے کئی افراد فوت ہوگئے ۔ کلکٹرس کے اجلاس میں ان مسائل پر توجہ دینے کے بجائے نئے اضلاع کی تشکیل پر مشاورت کرنا غیر مناسب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ130 سالہ کانگریس پارٹی کے لیے کامیابی اور شکست کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ انہوں نے عوامی اکثریت کو مد نظر رکھتے ہوئے نئے اضلاع تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT