Wednesday , September 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / عوام کی سہولت کیلئے کاغذنگر کو ضلع بنانا ناگزیر

عوام کی سہولت کیلئے کاغذنگر کو ضلع بنانا ناگزیر

سرپورٹاؤن ۔ 11نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع عادل آباد کے مشرقی عادل آباد کو الگ ضلع بنانے کیلئے گذشتہ 30 تا 40 سالو سے عوام اور سیاسی قائدین کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ لیکن علحدہ ضلع بنانے میں حکومتیں ناکام ہوتی آرہی ہیں ۔ 30سال قبل حیدرآباد سے کچھ علاقہ کو علحدہ کرتے ہوئے رنگاریڈی ضلع کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ اس وقت ضلع عادل آباد کو دو اضلاع بنانے کی تجویز پیش کی گئی تھی تاکہ ضلع عادل آباد کیلئے منڈلوں کو علحدہ کرتے ہوئے دو اضلاع کا قیام عمل میں لایا جائے اور مشرقی عادل آباد کے عوام کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر جاکر اپنے مسائل کی یکسوئی کرنے میں آسانی ہو ‘ اس لئے ضلع عادل آباد کو دو حصوں میںتقسیم کرنے کیلئے تلنگانہ حکومت بھی کوشا ں ہیں ۔ اس لئے ضلع عادل آباد کے مشرقیعادل آباد کے کاغذنگر مستقر کو ضلع بنانے کیلئے تمام تعلقہ کے علاقوں کے عوام کے ساتھ پڑوسی تعلقہ کے عوام بھی کاغذنگر کو ضلع بنانے کیلئے احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں تاکہ مشرقی عادل آباد کو علحدہ ضلع کا قیام کرتے ہوئے کاغذنگر کے نام کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے تاکہ عوام کو ہر اعتبار سے سہولت ہو اور کاغذنگر کو ضلع بنانے پر درمیانی علاقہ ہوگا اور مشرقی عادل آباد میں کاغذ نگر ( درمیانی) سنٹر کاعلاقہ ہوگا ۔ ایک طرف چنور تعلقہ اور منچریال تعلقہ 100کلومیٹر کے اندرون ضلع ہوگا اور دوسری طرف کامرگاؤں بجور منڈل کو بھی 100کلومیٹر کافاصلہ ہوگا ۔ اس کے برخلاف اکثر مشرقی عادل آباد کو قائم کرتے ہوئے منچریال کو ضلع بنایا گیا تو بجور منڈل اور کامرگاؤں کے لوگوں کو کم از کم 160 کلومیٹر کا فاصلہ ہوگا اور ضلع مستقر کو آنے کیلئے کافی دشواریوں کا سامنا کرنے پڑے گا ۔ اس لئے عوام کی سہولت کیلئے کاغذنگر کو ضلع بنانے کیلئے 7نومبر کو کاغذنگر میونسپل وائس چیرمین کشور بابو کی نگرانی میں کاغذ نگر کو ضلع بنانے کیلئے سرپورٹاؤن میں عوامی شعور بیداری مہم چلائی گئی اور خاص طور پر سرپور ٹاؤن ہفتہ واری بازار میں عوام میں مہم چلاتے ہوئے کاغذ نگر کو ضلع بنانے کیلئے تمام طبقات کے لوگوں کو احتجاجی جلسہ منعقد کرتے ہوئے علحدہ ضلع کے طور پر کاغذنگر کو بنانے کا مطالبہ کرنے پر زور دیا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT