Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / عوام کے شدید احتجاج پر ٹرمپ کی شکاگو ریلی منسوخ

عوام کے شدید احتجاج پر ٹرمپ کی شکاگو ریلی منسوخ

امریکہ کی تاریخ کا شاذ و نادر واقعہ ۔ ریپبلیکن پارٹی لیڈر پر نفرت کی سیاست کو ہوا دینے کا الزام
شکاگو 12 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ڈونالڈ ٹرمپ کو آج یہاں شکاگو میں اپنی انتخابی مہم کے سلسلہ میں منعدہ ریلی کو منسوخ کرنے پر مجبور ہونا پڑا کیونکہ یہاں سکیوریٹی اندیشے لاحق ہوگئے تھے ۔ یہاں سینکڑوں افراد نے جمع ہو کر ٹرمپ کی نفرت کی سیاست کے خلاف احتجاج کیا اور مخالفین کا ٹرمپ کے حامیوں سے ٹکراؤ بھی ہوا ۔ ریپبلیکن پارٹی کے امکانی صدارتی امیدوار کے خلاف یہ سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ تھا ۔ رئیل اسٹیٹ کے تاجر ڈونالڈ ٹرمپ صدارتی امیدوار بننے کی مہم میں متنازعہ اور نفرت پر مبنی بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے پہلے تو اپنی ریلی کو احتجاج کی وجہ سے قدرے تاخیر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ یہ ریلی شکاگو پویلین میں یونیورسٹی آف الینائیوس میں منعقد ہونے والی تھی تاہم بعد میں اسے منسوخ کرنے کا اعلان کردیا گیاک یونکہ سینکڑوں افراد نے وہاں جمع ہوکر احتجاج شروع کردیا تھا ۔ احتجاجیوں کا ٹرمپ کے حامیوں سے ٹکراؤ بھی ہوا تھا ۔ امریکہ میں پیش آنے والے واقعات میں یہ شاذ و نادر پیش آیا واقعہ ہے جہاں ایک سیاسی ریلی کو عوام کے احتجاج کی وجہ سے منسوخ کرنا پڑا ہے ۔ ٹرمپ کے مخالفین ٹیڈ کروز اور مارکو روبیو نے اس واقعہ پر اپنے رد عمل میں کہا کہ یہ افسوس کا دن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے متنازعہ سیاسی طرز عمل کی وجہ سے ایسا ہوا ہے جس کے نتیجہ میں سماج میں نفرت کا ماحول پیدا ہو رہا ہے

۔ عینی شاہدین نے کہا کہ ہزاروں افراد ٹرمپ کی ریلی میں جمع ہوئے تھے جن میں سے چند سو افراد آڈیٹوریم میں داخل ہوگئے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اس ریلی کی مخالفت کرینگے ۔ آڈیٹوریم میں ٹرمپ کے حامیوں اور احتجاجیوں کے مابین تصادم بھی ہوا ۔ احتجاجیوں نے یہاں پرچم لہرائے اور نعرے لگائے ۔ شکاگو پولیس نے کہا کہ تاحال کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔ ٹی وی کیمروں پر دکھایا گیا کہ حامیوں اور احتجاجیوں کے مابین تلخ کلامی ہو رہی ہے اور کچھ پرتشدد واقعات بھی ہوئے ہیں۔ تقریبا تمام نیوز چینلوں پر یہ ریلی راست نشر کی جا رہی تھی ۔ جس وقت سے ٹرمپ نے اپنی مہم شروع کی تھی ان کی ریلیوں میں احتجاج کیا جا رہا ہے ۔ کچھ لوگ یہ احتجاج کر رہے ہیں اور انہیں ریلیوں کے مقام سے باہر کیا جا رہا ہے ۔ ٹرمپ اپنی انتخابی ریلیوںمیں مسلسل متنازعہ ریمارکس کر رہے ہیں اور ان کے ریمارکس کے خلاف یہ اب تک کا سب سے بڑا احتجاج تھا ۔ ٹرمپ نے کہا کہ احتجاجیوں کی تعداد 2 تا 3 ہزار تھی جبکہ ان کے حامیوں کی تعداد 25 ہزار سے زائد کی تھی ۔ ٹرمپ نے کہا کہ حالانکہ اظہار خیال کی آزادی کی خلاف ورزی کی گئی ہے لیکن انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ نفاذ قانون کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے ریلی منعقد نہیں کرینگے ۔ کچھ معمولی جھڑپیں پیش آئی ہیں لیکن کوئی بڑا ٹکراؤ نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی کو زخمی ہونے کا موقع نہیں دینا چاہتے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام حالات کے باوجود ریلی منعقد کرسکتے تھے لیکن چونکہ وہ کسی کا زخمی ہونا یا تشدد کو پسند نہیں کرتے اس لئے انہوں نے ریلی منسوخ کردی ہے ۔

تخریبی مہم پر ہلاری کلنٹن کی تشویش
ڈیموکریٹک صدارتی دوڑ میں سب سے آگے رہنے والی ہلاری کلنٹن نے اپنے حریفوں کی تخریبی انتخابی مہم پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم سب کو ملکر عوام کی برہمی دور کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا تعلق خواہ کسی پارٹی سے ہو لیکن ہماری رائے اہمیت رکھتی ہے اور یہ واضح ہے کہ امریکی سیاست میں تشدد کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT