Tuesday , August 22 2017
Home / سیاسیات / عوام کے غذائی انتخاب میں کوئی مداخلت نہیں

عوام کے غذائی انتخاب میں کوئی مداخلت نہیں

بنگال حکومت اقلیتوں کی بہتری کیلئے سرگرم : ممتابنرجی کا دعوی
کولکتہ 21 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر مغربی بنگال نے ممبئی میں حالیہ عرصہ میں گوشت کی فروخت پر عائد امتناع کے معاملہ میں کہا کہ ان کی حکومت عوام کے غذائی انتخاب میں کوئی مداخلتن ہیں کریگی ۔ ممتابنرجی نے یہاں اقلیتی بہبود مقدمہ کے ایک پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کون کیا کھانا چاہتا ہے یہ اس کا اپنا انتخاب ہے ۔ ہم عوام کے غذائی انتخاب میں کوئی مداخلت نہیں کرینگے ۔ انہوں نے تاہم مہاراشٹرا کی بی جے پی ۔ شیوسینا حکومت کا حوالہ نہیں دیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی ریاست میں کسی تقسیم پسندانہ کوشش کی اجازت نہیں دینگی ۔ یہاں سب کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ وہ نیتاجی انڈور اسٹیڈیم میں خطاب کر رہی تھیں جہاں سینکڑوں اقلیتی طلبا موجود تھے ۔ اس موقع پر ممتابنرجی نے اقلیتوں کے میرٹ لانے والے طلبا میں ایوارڈز تقسیم کئے ۔ یہ طلبا اسکولی سطح سے ریاست کے سیول سرویس امتحانات تک سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والوں کی ان کی زندگی اور کیرئیر میں ہر طرح کی مدد کرنے کو تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے ریاست میں اقلیتی ترقی کیلئے 2,400 کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں جبکہ سابقہ بائیں بازو کی حکومت نے اقلیتوں کیلئے بہت کم اقدامات کئے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ 236 کروڑ روپئے کے صرفہ سے عالیہ یونیورسٹی قائم کی گئی اور اس کے پارک سرکس کیمپس کا قیام 62 کروڑ روپئے کے صرفہ سے عمل میں لایا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT