Monday , August 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / عورت کیلئے چارشوہروں کا مسئلہ

عورت کیلئے چارشوہروں کا مسئلہ

مردوں کیلئے چارعورتوں کو نکاح میں رکھنے کی اجازت پر اسلام دشمن طاقتوں نے ہمیشہ ہی واویلا مچایا ہے،لیکن چارعورتوں کی اجازت کا ایک خاص پس منظر ہے وہ یہ ہے کہ جب کسی کا انتقال ہوجاتا اوراسکی یتیم بچیاں خاندان کے بعض افرادکی نگہداشت میں ہوتیں اوروہ ان کے مال اورجمال کی وجہ ان کواپنے نکاح میں لے آتے چونکہ وہ باپ کے سایہ سے محرومی کی وجہ       بے یارومددگارہواکرتیں،نہ تو ان کے حقوق کا کوئی تحفظ ہوتا اورنہ ہی دکھ درد میں ان کا کوئی ہمدردوبہی خواہ ، مہربھی ان کے حیثیت کے مطابق نہیں رکھا جاتا تھا اورنہ تو نکاح کے بعد اس کے حقوق اداکئے جاتے تھے اس لئے اللہ  سبحانہ نے یہ حکم دیا ’’اگرتم کو اس بات کا ڈرہوکہ تم یتیم بچیوں کے معاملہ میں انصاف نہیں کرسکوگے (توپھران سے نکاح نہ کرو)اپنی پسند کے مطابق اورعورتوں سے دودو،تین تین،چارچارعورتو ں سے نکاح کرلو،لیکن اگرتم کو اس بات کا خوف ہو کہ تم ان میں عدل وانصاف کے تقاضے پورے نہیں کر سکوگے توپھرایک ہی پر اکتفاء کرو‘‘۔(النساء ۴ )
اس آیت پاک سے یہ بات واضح ہے کہ ایک سے زیادہ نکاح کی رخصت سے استفادہ اس وقت بہترہے جبکہ بیوں کے حقوق عدل وانصاف کے ساتھ اداہوں،اس سے یہ مفہوم مخالف بھی نہیں لیا جا سکتا کہ عدل وانصاف نہ کرسکوتو ایک سے زائد عورت کو نکاح میں رکھنا ناجائزہے ،بلکہ مقصود عدل وانصاف کی تقاضوں کی تکمیل کرنے کی تلقین ہے ،یہ بھی کہ عدل وانصاف کے تقاضے اختیاری دائرہ کارکے ہوںجیسے بودوباش،لباس وپوشاک ، خوردونوش وغیرہ جیسی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔ان میں کسی طرح کا کوئی تسامح اورناانصافی خلاف عدل ہے،باقی رہا قلبی میلان اورمحبت یہ ایک غیراختیاری امرہے ،جوانسان کے بس کی بات نہیں۔اس لئے اموراختیاری میں عدم انصاف کا اگرکوئی خدشہ ہوتوپھروہ ایک سے زائد نکاح کا اراد ہ نہ کرے۔

دوسری بات یہ کہ اسلام سے پہلے کئی ایک عورتیں ایک مرد کی زوجیت میں رہا کرتی تھیں،تعدادکی کوئی پابندی نہیں تھی،حقوق کی ادائیگی کا توکوئی تصورہی نہیں تھا،اسلام نے عدل کے تقاضوں کی تکمیل کی ہدایت کے ساتھ چارکی تحدیدکی۔اس طرح اسلام نے سماج کی ایک بہت بڑی اخلاقی ومعاشرتی خرابی کی کامیاب اصلاح کی ہے ،انسانی فطرت اس بات کی متقاضی ہے کہ بعض خاص حالات میں ایک سے زائد بیویوں کونکاح میں رکھنے کی اس کواجازت ملے،اسلام پر حرف زنی کرنے والوں کو مذاہب عالم کا مطالعہ کرنا چاہئے ،ہندودھرم،سکھ دھرم،یہودی وعیسائی مذاہب وغیرہ میں بیک وقت کئی عورتوںکو بیوی بنائے رکھنے کا مذہبی حق حاصل ہے ، ہندودھرم کے بعض مذہبی پیشواؤں کے ہاں لاتعداد بیویوں کا ہونا ان کی مذہبی کتابوں سے ثابت ہے۔اسی طرح یہود ونصاری کی کتابوں میں بھی اسکاثبوت ملتاہے ، رامائن،گیتا،ویداورعیسایوں کی بائبل یہودیوں کی تالمودمیں اسکی صراحتیں دیکھی جا سکتی ہیں۔
ہمارے بھارت میں ایک سے زائد بیویوں کے رکھنے پر کوئی قانونی پابندی نہیں تھی،۱۹۵۴؁ ء میں شادی کا قانون (میریج ایکٹ )پاس کیا گیا،جس میں ہندؤں کیلئے ایک سے زیادہ بیویاں رکھنا غیر قانونی قراردیا گیا تھا ، مسلمانوں کو ان کی مذہبی رخصت سے استفادہ کی صورت پر کوئی قانونی روک نہیں لگائی گئی جبکہ وہ کسی حکومت کے ادارہ کے ملازم نہ ہوں،البتہ ملازم کیلئے حکومت کی  اجازت سے اسکو مقید کیا گیا ، ’’کمیٹی برائے اسلام میں عورت کا مقام ‘‘کی ایک رپورٹ جو ۱۹۷۵؁ میں شائع ہوئی اسکے صفحات ۶۶/۶۷ میں مذکورہے ’’کہ ۱۹۶۱؁ء سے ۱۰۹۱؁ء تک ایک سے زیادہ شادیوں کیلئے ہندؤں کا تناسب %۰۶،۵ رہا،جبکہ مسلمانوں کا%۳۱،۴تھا‘‘( اسلام پر چالیس اعتراضات /۷۲)

غیراسلامی سماج میں منکوحات کے ساتھ داشتاؤں کا چلن بھی عام رہا ہے ،اوراس وقت بھی سماج اس لعنت سے پاک نہیں ہے ،یہ سب غیر فطری اورغیراسلامی طرززندگی کے تحائف ہیں جوسماج کی پاکیزہ روایات کی تطہیرپر ایک سوالیہ نشان ہیں۔ نیزمغربی تہذیب نے تو آزادیٔ نسواںکا نعرہ دیکراپنے معاشرہ کو نکاح کے بندھنوں سے آزاد کیا ہے،اورناجائزصنفی تعلقات کی حوصلہ افزائی کرکے ایک ایساسماج تشکیل دیا ہے جواس وقت سخت محرومی کا شکار ہے،قلبی راحت وسکون اورمعاشرتی تحفظات سے محرومی کے ساتھ جسمانی لاعلاج امراض آتشک ،سوزاک اورایڈز جیسے عذاب بھگت رہا ہے۔ایک عورت کے اگر کئی شوہر ہوںتب بھی اس صورت میں لاعلاج امراض میں مبتلاہونے کا شدید خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔اوراب اس خطرہ کے یقینی آثارظاہر ہوچکے ہیں موجودہ طبی سائنس نے بھی بعد تحقیق دلائل وشواہد کی روشنی میں پورے وثوق کے ساتھ اسکو تسلیم کرلیا ہے ۔
اسلام دشمن طاقتوں نے چاربیوں کی اجازت پر سخت اعتراضات کرتے ہوئے ایک سوال یہ بھی اٹھا یا ہے جب ایک مردکو چاربیوں کی اجازت ہے تو پھر عورت کو بھی چارشوہررکھنے کی اجازت ملنی چاہئے،اس اعتراض سے وہ مسلمان بھی متاثرہوتے ہیں جو تعلیم یافتہ اورترقی پسند کہلاتے ہیں۔ظاہر ہے یہ ایک ایسا غیر فطری سوال ہے جس کو عقل ودانش کبھی قبول نہیں کرسکتی،لیکن جب تعصب کے پردے عقل وفہم پر چھاجاتے ہیں تووہ اس کے قبیح ہونے کو محسوس کرتے ہوئے بھی عداوت ودشمنی کا وطیرہ اختیار کرکے اعتراض کرنے والوں کے ساتھ اعتراض کرنے میں شامل ہوجاتے ہیں۔اسلام دشمنی وعداوت اگرعروج پر پہنچ جائے تو یہ کوتاہ فہم اوربھی ناقابل قیاس عقلی اعتراضات کھڑے کر سکتے ہیں ،مردوعورت کے درمیان انسانی اعتبار سے بہت سے امورمیں مساوات کے باوجود کئی ایک تخلیقی وصنفی کیفیات میں اختلاف ہے۔یہ اختلاف فطری وناگزیرہے،جیسے اولادکی پیدائش اوررضاعت وپرورش وغیرہ کہ تخلیقی اعتبارسے مردکا فطرتااس میں کوئی رول ممکن ہی نہیں ۔
ایک عورت کے اگرچارمردہوں تواولا یہ مسئلہ خودبڑی بے حیائی کا ہے جس کو کوئی دانش وعقل والا ہرگزگوارہ نہیں کرسکتا مردعورت کی فطری غیرت جس کا ہر سلیم الفطرت انسان مالک ہے اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ مردعورت میں کسی اورمرد کی شراکت کو ہر گزپسند نہ کرے ،نہ ہی عورت کی غیرت وحمیت اس کو برداشت کر سکتی ہے کہ چارمرد اسکے شوہر ہوں،گوکہ بعض غیر مسلم طبقات میں مذہبی اعتبار سے دروپدی کا تصورہے جس کو وہ اپنے مذہبی اعتقاد کی وجہ باعث فخر سمجھتے ہیں، کچھ دنوں پہلے اس طرح کا واقعہ ہمارے ہندوستان کی اخبارات کی زینت بنا تھا۔

اسلام دشمنی وعداوت میں عورت کو اس جیسے غیر فطری حق کے دیئے جانے کی متعصبانہ حمایت کرنے والوں کو یہ بھی غورکرنا چاہئے کہ ایک عورت کے اگر چار مرد ہوںتو پھر اس عورت سے ہونے والی اولاد کی نسبت کس مردکی طرف کی جاسکے گی ؟یہ ایک اہم مسئلہ ہے کسی زمانہ میں طوائفوں کا رواج زیادہ تھا ان کا کوئی ایک شوہر نہیں ہواکرتا تھا،توان سے ہونے والی اولاد کو معاشرہ نا پسند یدہ نگاہ سے دیکھتا تھا،اورہر جگہ ان کو باپ کے متعین نہ ہونے کی وجہ سخت ندامت اٹھانی پڑتی،نفسیاتی طورپر ان بچوں کا بچپن بڑے کرب واضطراب میں گزرتا۔
چند دنوں قبل کیرالہ ہائیکورٹ کے جج نام نہاد مسلم کمال پاشاہ نے عورتوں کی ترقی پسند کے عنوان سے جاری اجلاس میں اسلام پر کئی اعتراضات کئے او ر اسلام کو عورت مخالف اور نظام اسلام کو ایک فرسودہ نظام قرار دیا اور عورتوں کو بیک وقت چار مردوںکو نکاح میں رکھے جانے کی حمایت کی اس تناظر میں صرف اتناہی کہا جاسکتا ہے کہ ان جیسے نام نہاد مسلمانوں کو اسلام پر نکتہ چینی کرنے کے بجائے اگر وہ خود اپنی عقل ودانش سے اس مسئلہ کو حق بجانب سمجھتے ہیں تو پھر ان کو اپنے گھروں سے اس عمل کا آغازکرنا چاہئے ،اسلام سے ان کا کوئی تعلق تو حقیقت میں نہیں ہے صرف یہ کہ ان کا نام مسلمان ہے ، اگر وہ اسلامی احکام کی حقانیت اور اس کے انسانی فطرت کے عین مطابق ہونے کو نہیں مانتے تو کسی نے ان کا ہاتھ نہیں تھاما، وہ بے غیرتی کا لبادہ اوڑھ کر جو چاہے کرتے پھریں لیکن خواہش یہ ہے کہ وہ اسلام کا ٹائٹل نکال دیں ۔

TOPPOPULARRECENT