Saturday , September 23 2017
Home / مضامین / عکس و خیال

عکس و خیال

کے این واصف
اردو زبان میں انگریزی سے کئی الفاظ لئے گئے ہیں جنہیں ہم بلا تکلف بولتے اور لکھتے بھی ہیں، جن میں ’’فوٹوگرافر‘‘ اور ’’فوٹو گرافی‘‘ شامل ہیں۔ ہم اسے کبھی عکاس اور عکاسی نہیں کہتے۔ لفظ ’’مصور‘‘ ہم عام طور سے پینٹر (Painter) کیلئے ہی استعمال کرتے ہیں۔ یہ دونوں فن ایک جیسے ضرور ہیں مگر ان کی تخلیق کے آلات الگ الگ ہیں۔ مصور برش (Brush) اور رنگوں کی مدد سے کینوس پر اپنے شاہکار تخلیق کرتا ہے اور فوٹو گرافر  کا برش اس کا کیمرہ اور روشنی اس کا پینٹ (Paint) ہوتے ہیں۔ فوٹو گرافر کسی شخص یا منظر کو اپنے زاویہ سے دیکھتا ہے اورپھر اسے اپنے کیمرے میں قید کر کے کاغذ پر منتقل کرتا ہے جبکہ مصور (Painter) کسی منظر کو دیکھتا ہے اور اسے اپنے ذہن میں محفوظ کرتا ہے اور پھر اس منظر کو کینوس پر منتقل کرتا ہے لیکن ایک پروفیشنل فوٹو گرافر ہونے کے باوجود ہماری ذاتی رائے میں مصور (پینٹر) کو فوقیت حاصل ہے اور اسے باعتبار رتبہ ہم بڑا مانتے ہیں اور ہم نے اسے عکس و خیال کا نام دیا ہے ۔
پچھلے ہفتہ ریاض میں ایک نمائش کا انعقاد عمل میں آیا۔ یہ نمائش ایک ہی موضوع پر ’’عکس و خیال‘‘ کا ایک بہترین امتزاج تھا ۔ نمائش میں پیش کی گئی تصویریں اور پینٹنگس فن تعمیر کے تہذیبی ورثہ پر مبنی تھیں ۔ اس نمائش میں معروف پینٹر (Painter) مسز صبیحہ مجیداور راقم ( کے این واصف) نے اپنے فن پاروں کو نمائش کیلئے پیش کیا تھا اور اس نمائش کا اہتمام سفارت خانہ ہند ریاض نے کیا تھا ۔ سلسلہ تھا یوم جمہوریہ ہند تقریب کا ۔ ہم اس سلسلہ میں فن کے قدر دان اور فن شناس قائم مقام سفیر ہند ہیمنت کوٹلوار اور سفارت کار ڈاکٹر حفظ الرحمن کے مشکور ہیں جنہوں نے ہمیں ایک بین الاقوامی سطح کا پلاٹ فارم بخشا اس نمائش کے انعقاد کیلئے۔

ہندوستانی سفارت خانے ہر سال یوم جمہوریہ ہند کے موقع پر شاندار پیمانہ پر ایک تقریب کا اہتمام کرتے ہیں جس میں دنیا کے کئی سفارت کار اور اعلیٰ عہدیدار شرکت کرتے ہیں ۔ اس موقع پر سفارت خانہ ہندوستانی کمیونٹی کی کچھ نمائندہ شخصیات کو بھی مدعو کرتا ہے۔ متذکرہ نمائش سفارت کی اس تقریب کا ایک اہم حصہ تھی اور تقریب میں شریک سینکڑوں مہمانوں کا مرکز توجہ بھی رہی۔ سفارت کاروں اور دیگر مہمانوں نے دونوں آرٹسٹوں کی ستائش کی اور شخصی طور پر انہیں مبارکباد پیش کی۔
اس نمائش میں مسز صبیحہ مجید نے “Kingdom on Canvas” کے عنوان سے سعودی عرب کے قدیم طرز تعمیر پر اپنی کئی پینٹنگس (Paintings) پیش کیں جبکہ راقم نے Indias Architectural Heritage کے عنوان سے ہندوستان کی معروف تاریخی عمارتوں کی تصویریں آویزاں کی تھیں۔ راقم اپنے اس پراجکٹ پر پچھلے دوہائیوں سے کام کر رہا ہے ۔ ہمارے کیمرے میں ہندوستان کی تقریباً تمام بڑی اور معروف تاریخی عمارتیں محفوظ ہیں جن کی ہم نے 2005 ء سے اب تک بڑے پیمانہ پر متعدد نمائش انڈین قونصلیٹ جدہ ، سفارت خانہ ہند ریاض اور لو لوہائپر مارکٹ کے تعاون سے پیش کرچکے ہیں۔

صبیحہ مجید ایک پیدائشی آرٹسٹ ہیں۔ فن مصوری ان کے رگ و پے میں ہے ۔ فن انہیں ورثہ میں ملا ہے ۔ ان کے والد ڈاکٹر عبدالمجید اور ان کی والدہ مسز رشیدہ ہندوستان کے معروف آرٹسٹوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ لہذا اس میدان میں صبیحہ کا تجربہ ان کی عمر کے برابر ہے ۔ وہ آرٹسٹ ہی نہیں پیدا ہوئی ہیں۔ انہوں نے ایسے ماحول میں آنکھیں کھولی ہیں جس گھر کا اڑھنا بچھونا آرٹ تھا ۔ پھر صبیحہ کو جیون ساتھی بھی ایک بہترین آرٹسٹ ہی ملا۔ اسی طرح آرٹ سے ان کا رشتہ مزید مستحکم ہوگیا ۔ یہ آرٹسٹ جوڑی یعنی ایاز صدیقی اور صبیحہ مجید پچھلے 14 سال سے ریاض میں مقیم ہیں۔ ایاز کا تعلق دہلی اور صبیحہ کا تعلق آرٹ و کلچرل کیلئے مشہور ریاست راجستھان کے شہر اودے پور سے ہے ۔ ایاز اور صبیحہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے (BFA) فائن آرٹس میں ڈگری حاصل کی ہے ۔ اس کے علاوہ صبیحہ نے نیشنل میوزیم انسٹی ٹیوٹ دہلی سے ایم اے بھی کیا۔ صبیحہ کیلئے فائن آرٹس میں ڈگری حاصل کرنا صرف ایک ضابطہ کی تکمیل تھی ورنہ ان کا گھر ہی خود ایک بڑی درس گاہ ہے ۔ صبیحہ نے اپنے تعارف میں لکھا کہ ’’میں نے بچپن میں کھلونوں سے نہیں بلکہ برش اور رنگوں سے کھیلا ہے‘‘۔

صبیحہ نے 1989 ء میں بین الاقوامی پینٹنگ مقابلوں میں پہلا انعام حاصل کیا اور بحیثیت بہترین آرٹسٹ ماسکو کا دورہ کیا ۔ 1990 ء میں اودے پور میں مہاراجہ فتح سنگھ ایوارڈ حاصل کرنے کے علاوہ انہوں چین میں منعقد بین الاقوامی Batik نمائش میں حصہ لیا ۔ وہ قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں مسلسل حصہ لیتی رہی ہیں۔

صبیحہ کے مطابق وہ شہرہ آفاق فنکاروں میں Pablopicasso ، Michelangelo ، Vangogh ، ایم ایف حسین اور راجہ روی ورما سے متاثر ہیں۔
فوٹو گرافی ہو یا پینٹنگ یہ ایک مہنگا شوق ہے ۔ ہر آرٹسٹ اپنے میدان میں وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے یا کرتا ہے وہ ملک اور قوم کیلئے ایک سرمایہ ہوتا ہے ۔ مگر وہ اپنا ٹارگٹ اپنے بل بوتے پر پورا نہیں کر سکتا۔ صبیحہ جیسی ذہین آرٹسٹ جس کی بنائی تصویروں پر حقیقت کا گمان ہوتاہے،اپنے میدان میں اعلیٰ ترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکتی ہیں، کئی شاہکار تخلیقات کو کینوس پر منتقل کرسکتی ہیں ۔ اگر انہیں ارباب مجاز ، کارپوریٹ ہاؤز یا ایسے ادارے جو فن اور فنکاروں کی ہمت افزائی کرتے ہیں، اپنا دست تعاون دراز کریں۔ صبیحہ اور ان جیسے آرٹسٹوں کی ہمت افزائی ہونی چاہئے ۔ ہمارا آرٹ ہماری شناخت ہے ، ہمارا کلچرل ورثہ ہے ، ہماری تاریخ ہے ، اس کی بقاء اور ترقی ہمارا فرض ہے ۔ ارباب مجاز آرٹ کے قدرداں اور ذ ی حیثیت شخصیات کو اس کی سرپرستی کرنی چاہئے تاکہ عکس و خیال کی یہ دنیا آباد و شاداب رہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT