Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / عہدہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کیلئے دو دعویدار

عہدہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کیلئے دو دعویدار

ایم جے اکبر کے خلاف سازش، سکریٹری اقلیتی بہبود کو مقامی سیاسی جماعت کی سرپرستی
حیدرآباد۔/5مارچ، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود پر تسلط حاصل کرنے کیلئے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود ایم جے اکبر کے تبادلہ کے بعد اس عہدہ کی ذمہ داری کس کو دی جائے گی اس پر تجسس برقرار ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں پہلے ہی عہدیداروں کی کمی ہے اور موجودہ عہدیدار ایک سے زائد ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جیسا اہم عہدہ منصوبہ بند سازش کے ذریعہ خالی کردیا گیا اور اب اس عہدہ کیلئے دو دعویدار میدان میں ہیں۔ اقلیتی بہبود میں ڈائرکٹر کا عہدہ کلیدی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ تمام اقلیتی اداروں کا بجٹ محکمہ فینانس سے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کو جاری ہوتا ہے اور وہ اسے اداروں کو الاٹ کرتے ہیں۔ اقلیتی بہبود میں قواعد کی خلاف ورزی پر آواز اٹھانا محکمہ کے سکریٹری اور ان کے ہمنوا عہدیداروں کو ناگوار گزرا چونکہ انہیں مقامی سیاسی جماعت کی سرپرستی حاصل ہے لہذا حکومت پر مسلسل دباؤ بناتے ہوئے ایم جے اکبر کا ڈائرکٹر کے عہدہ سے تبادلہ کردیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب اس عہدہ کی زائد ذمہ داری کون سنبھالے گا کیونکہ پہلے ہی موجودہ عہدیدار ایک سے زائد ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔ حکومت کو باقاعدہ ڈائرکٹر کے تقرر میں کافی وقت لگ جائے گا اور ویسے بھی حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر مسلم عہدیداروں کی کمی ہے۔ ایم جے اکبر کو بے اثر کرنے کیلئے پہلے انہیں عہدیدار مجاز وقف بورڈ کی ذمہ داری سے ہٹایا گیا اس کے بعد سروے کمشنر وقف کے عہدہ کو بھی چھین لیا گیا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود اور ان کے قریبی عہدیداروں نے منصوبہ بند انداز سے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کو جائزہ اجلاس طلب کرنے سے روک دیا اور ان کے اختیارات کم کردیئے گئے۔ اس صورتحال کے باوجود ایم جے اکبر نے ڈائرکٹر کے عہدہ پر پوری دیانتداری کے ساتھ اسکیمات پر موثر عمل آوری کی کوشش کی۔ آخر کار ان کی نیک نامی اور حق گوئی دیگر عہدیداروں کو پسند نہیں آئی اور نتیجہ تبادلہ کی صورت میں منظر عام پر آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود یا منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کو ڈائرکٹر کی زائد ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔ سکریٹری اپنے موجودہ عہدہ کے علاوہ عہدیدار مجاز وقف بورڈ اور ویجلنس آفیسر اقلیتی بہبود جیسے اہم عہدوں کی زائد ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں جبکہ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کو میناریٹی اسٹڈی سرکل اور 70اقامتی اسکولس سے متعلق سوسائٹی کے سکریٹری کی زائد ذمہ داری ہے۔ ایسے میں ڈائرکٹر کی ذمہ داری سنبھالنا آسان نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جلال الدین اکبر کے خلاف مہم میں سکریٹری سے قربت رکھنے والے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ایک ریٹائرڈ عہدیدار نے اہم رول ادا کیا اور مختلف فرضی اداروں اور افراد کے نام سے ڈائرکٹر کے خلاف حکومت کو شکایات روانہ کی گئیں۔ مذکورہ شخص کی سکریٹری اور منیجنگ ڈائرکٹر  سے قربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بورڈ آف ڈائرکٹرس کے اجلاس میں قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مذکورہ شخص کو بازمامور کرنے کی قرارداد منظور کی گئی جس کی ایم جے اکبر نے مخالفت کی تھی۔ کارپوریشن کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی ایسے شخص کو دوبارہ بازمامور کیا گیا جس پر سنگین الزامات ہیں اور معاملہ ہائی کورٹ میں زیر دوران ہے۔ ریٹائرمنٹ کے باوجود تمام مراعات کے ساتھ برقراری نے سرپرستی کرنے والے عہدیداروں کے بارے میں محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں اور ملازمین میں کئی شبہات پیدا کردیئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص کی سرگرمیاں ناقابل بیان ہیں اور محکمہ میں یہ بات مشہور ہوچکی ہے کہ وہ بازماموری کیلئے اعلیٰ عہدیداروں کی خدمت میں کسی بھی حد تک جانے کیلئے شہرت رکھتا ہے۔ محکمہ کی ہر سطح پر اس مسئلہ پر ہی عہدیدار اور ملازمین کو اظہار خیال کرتے ہوئے پایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انگریزی سے نابلد اس شخص کو اعلیٰ عہدیدار اپنے سر کا تاج بنائے ہوئے ہیں اور اس کی مخالفت کے نتیجہ میں ایک دیانتدار اور اعلیٰ عہدیدار کا تبادلہ کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ ایم جے اکبر کے تبادلہ کے بعد اب محکمہ میں مخصوص ٹولے کا غلبہ ہوچکا ہے۔ محکمہ میں یہ چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ سکریٹری اقلیتی بہبود اگر ڈائرکٹر کے عہدہ کی ذمہ داری سنبھالیں تو انہیں اپنے سیاسی آقاؤں کے حق میں فیصلے کرنے میںکوئی رکاوٹ نہیں رہے گی۔

TOPPOPULARRECENT