Friday , June 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / عہد ساز شخصیت

عہد ساز شخصیت

حضرت مفتی حافظ محمد ولی اﷲ قادری

روئے زمین پر بعض ایسی ہستیاں نمودار ہوتی ہیں جو تادیر اپنے نقوش چھوڑ جاتی ہیں اور ایک دنیا ان ذوات قدسیہ کی تعلیمات اور افکار سے مستفید ہوتی رہتی ہے ۔ دکن کی انہی شخصیت ساز ہستیوں میں ایک گرانقدر ہستی حضرت مولانا مفتی حافظ محمد ولی اﷲ قادری رحمۃ اللہ علیہ شیخ العقائد جامعہ نظامیہ کی ہے ۔ جن کے فیض صحبت سے ہزارہا چراغ علم روشن ہوئے اور ایک جہاں کو روشن و منور کررہے ہیں ۔ حضرت ممدوح نے سینکڑوں پتھروں کو حسن سلیقہ سے تراش کر ہیرا بنایا ہے۔
مخفی مبادکہ تعلیم و تربیت اور تدریس و تزکیہ پیغمبرانہ فرائض اور نبوت کی وراثت ہے ۔ بہت سے افراد تعلیم وتربیت کے شعبے سے وابستہ ہوتے ہیں لیکن معدودے چند ہی فکرسازی اور شخصیت سازی کا ہنر جانتے ہیں،طالب علم کی استطاعت ، رجحان اور قابلیت و صلاحیت کے مطابق تیار کرنا اور مقاصد نبوت کے لئے استعمال کرنا نیز تاحیات اس کو ایک مشن پر مرکوز و سرگرداں بنائے رکھنا اور دوسروں کیلئے اخلاق و کردار کے قابل تقلید نمونہ بنانا بلاشبہ پیغمبرانہ وراثت کا جزہے جو ہر کسی کا حصہ نہیں ۔
حضرت مولانا مفتی محمد ولی اﷲ قادری رحمۃ اللہ علیہ نے بیسوی صدی کے اوائل میں حیدرآباد دکن کے ایک مذہبی گھرانے میں ایسے وقت آنکھ کھولی جب کہ دکن پر آصفیہ سلطنت کی گرفت مضبوط تھی ، گرچہ ہندوستان ایک بڑے انقلاب کی طرف پیشقدمی کررہا تھا تاہم دکن کی صورتحال قابو میں تھی آصفیہ حکومت کو استحکام حاصل تھا اور جامعہ نظامیہ میں حضرت شیخ الاسلام امام محمد انواراﷲ فاروقی فضیلت جنگ بانی جامعہ نظامیہ قدس سرہ العزیز کو دیکھنے والی اور صحبت بافیض میں رہ کر درجۂ کمال کو پہنچنے والی ہستیاں موجود تھیں۔ حفظ قرآن مجید کے بعد شاہ وقت اعلحضرت میر عثمان علی خاں مرحوم کی جانب سے خصوصی اسکالرشپ پر جامعہ نظامیہ میں اجلہ شیوخ کرام کی نگرانی میں فراغت حاصل کی اور اسی جامعہ میں بحیثیت استاذ مقرر ہوئے ۔ آپ نے اپنی زندگی میں ملت اسلامیہ پر متعدد آزمائشی وقت کو آتے جاتے دیکھا ، انقلابات زمانہ کا مشاہدہ کیا۔
سلطنتوں اور حکومتوں کے عروج وزوال کو دیکھا ، تخت و تاج کی شان و شوکت اور بے وقعتی و بے وقاری کو دیکھا ، قوم و ملت کے لٹنے اور اُجڑنے کے بعد قوم و ملت کے باہمت و فکرمند افراد کو بازیابی کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے دیکھا ۔ علمی اداروں میں علمی ، فکری اور معاشی بحرانوں کا مشاہدہ کیا، خود اپنی ذاتی زندگی میں کئی نشیب و فراز سے گزرے بالآخر حق الیقین اور عین الیقین کی منزل پر پہنچے اور ہم   خوشہ نشینوں اور نعلین برداروں کو اپنی بیش بہا زندگی کے انمول تجربات کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے بارہا قوم و ملت کی تقدیر کے بارے میں فرماتے ؎
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر اُمم کیا ہے
شمشیر و سناں اول ، طاؤس و رباب آخر
غیرقوم کی اسلام کے خلاف منصوبہ بند سازشوں اور مذہبی رہنماؤں کی ناعاقبت اندیشی اور باہمی ریشہ دوانیوں کے بارے میں فرماتے   ؎
دین کافر ، فکر و تدبیر جہاد
دینِ ملا فی سبیل اللہ فساد
اتحادملت پر کافی زور دیتے اور فرماتے کہ آج کے دور میں اُمت اسلامیہ کو ایمان مجمل اور ایمان مفصل کی بنیاد پر جمع ہونے کی ضرورت ہے ۔ جس کاعقیدہ ایمان مفصل میں بیان کردہ عقائد پر قائم ہو ، اس سے تناؤ اور برسرپیکار ہونے کے بجائے اُمت اسلامیہ کے عمومی کاز اور دشمنان دین کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے اور قوم و ملت کی ارتقاء کے لئے متحدہ جدوجہد کو ناگزیر قرار دیتے۔
تقریباً آٹھ دہے آپ جامعہ نظامیہ سے وابستہ رہے ۔ فرماتے تھے کہ میں نے نظامیہ میں سات آٹھ بڑے بڑے انقلابات دیکھے ہیں لیکن جو اہل ایمان ہوتے ہیں ان کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ترجمہ : ’’یقینا اﷲ تعالیٰ اہل ایمان کی مدافعت فرماتا ہے‘‘۔
علاوہ ازیں حضرت قبلہ علیہ الرحمہ بار بار حضرت امام شافعیؒ کا ایک قول ذکر فرماتے : ترجمہ : میں صوفیہ کرام کی خدمت میں دس سال رہا ہوں ، میں نے ان سے اتنے طویل عرصے میں صرف اور صرف دو ہی چیزیں سیکھی ہیں اپنے وقت اور اپنے نفس کی حفاظت کرنا ۔ یعنی وقت تلوار کے مانند ہے اگر تم اس کو نہیں کاٹوگے تو وہ تمکو ختم کردیگا اور اگر تم اپنے نفس کو حق و اطاعت میں مشغول و مصروف نہ کرو تو وہ تم کو باطل میں مشغول کردے گا ۔
حضرت قبلہ علیہ الرحمۃ کو قرآن مجید سے حد درجہ لگاؤ تھا بلکہ ساری زندگی قرآن مجید کی خدمت میں صرف کردی اور جب بھی قرآن مجید کی تلاوت فرماتے رقت طاری ہوجاتی اور آنسو رواں دواں ہوجاتے اور جب حفاظ کرام کی جانب سے قرآن مجید کی طرف بے رغبتی اور اس کے معانی سے بے اعتنائی اور فخر و مباحات کی خاطر قرآن مجید کی تلاوت کرنے کو ملاحظہ فرماتے تو برہم ہوتے اور فرماتے حضور پاک صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا : میری اُمت پر عنقریب ایک وقت آئے گا جس میں صرف اسلام کے نام کے علاوہ کچھ باقی نہیں رہے گا ، اسی طرح قرآن مجید کے الفاظ و حروف کے علاوہ کچھ نہیں رہیگا ، لوگ انبیاء کی طرح کلام کریں گے اور ان کے دل بھیڑیوں کی مانند ہوں گے ۔
ارشاد الٰہی ہے :’’ جس کو ہم نے کتاب عطا کی ہے وہ اس کی کماحقہ تلاوت کرتے ہیں‘‘۔ کماحقہ تلاوت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے کہ قرآن مجید کو تجوید کے قواعد کو ملحوظ رکھتے ہوئے پڑھنا ، اس کے معانی و مفاہیم کو سمجھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا ہی قرآن مجید کی تلاوت کا حق ہے ، بناء بریں آپ حفاظ کرام کو علم دین حاصل کرنے کی ترغیب دیتے اور فرماتے کہ حفاظ کے لئے علم دین حاصل کرنا ضرورت ہے اور علماء کے لئے حفظ کرنا زینت ہے۔
تاحیات قرآن مجید اور علوم اسلامیہ کی خدمت کرتے رہے اور متعدد افراد کی فکرسازی کی اور ان کو سیدھے راستے پر قائم فرمایا ۔ آپ کا مطالعہ حد درجہ وسیع تھا ، جن کا مطالعہ وسیع ہوتا ہے ان کے نظریات و افکار میں بھی وسعت و آفاقیت ہوتی ہے وہ دین میں شدت پسندی کے حد درجہ خلاف تھے ۔ بہت ہی کم ایسے افراد روئے زمین پر رونما ہوتے ہیں جن کے نقوش سے کئی نسلیں مستفید ہوتی ہیں  ؎
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT