Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / عیدالاضحی سے قبل سرکاری اداروں میں اقلیتی قائدین کی نامزدگی ناممکن

عیدالاضحی سے قبل سرکاری اداروں میں اقلیتی قائدین کی نامزدگی ناممکن

ضلعی سطح کے قائدین کی فہرست عدم وصول ، چیف منسٹر کی ہدایت کے باوجود رپورٹ کی پیشکشی میں تاخیر
حیدرآباد۔24 اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر کی جانب سے عیدالاضحی سے قبل سرکاری اداروں پر اقلیتی قائدین کی نامزدگی کے پروگرام میں تاخیر ہوسکتی ہے کیوں کہ مقررہ پروگرام کے مطابق اضلاع سے پارٹی سینئر قائدین کی فہرست ابھی تک پیش نہیں کی گئی۔ چیف منسٹر نے مسلم ارکان قانون ساز کونسل اور مختلف کارپوریشنوں کے مسلم صدور نشین کو مختلف اضلاع کی ذمہ داری دی تھی تاکہ وہ دورہ کرتے ہوئے 2001ء سے پارٹی میں متحرک قائدین اور کارکنوں کی فہرست تیار کریں۔ انہیں ضلع کے وزیر، رکن پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی سے مشاورت کے ذریعہ رپورٹ تیار کرنے اور 23 اگست تک ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی تاہم بتایا جاتا ہے کہ ابھی تک بیشتر اضلاع کی رپورٹ ڈپٹی چیف منسٹر کو موصول نہیں ہوئی۔ دراصل جن افراد کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی وہ متعلقہ ضلع کے وزیر اور عوامی نمائندوں سے مشاورت کا عمل مکمل نہیں کرسکے جس کے بعد فہرست کی پیشکشی میں تاخیر ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر نے رپورٹ کی پیشکشی کے سلسلہ میں مسلم صدور نشین اور ایم ایل سیز کی توجہ مبذول کرائی تاکہ سرکاری عہدوں پر تقررات کا عمل شروع کیا جاسکے۔ فہرستوں کی پیشکشی کے بعد ڈپٹی چیف منسٹر اور وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی فہرست کا جائزہ لیں گے اور ناموں کو قطعیت دی جائے گی ۔ فہرست کی تیاری میں جس انداز سے تاخیر ہورہی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عیدالاضحی سے قبل سرکاری عہدوں پر تقررات کا عمل شروع نہیں ہوپائے گا۔ اطلاعات کے مطابق ہر ضلع کے وزیر اور عوامی نمائندوں نے اپنے اپنے طور پر حامیوں کی فہرست تیار کرلی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہی فہرست چیف منسٹر کو روانہ کردی جائے۔ ہر ضلع تین افراد کے انتخابات کے لیے طویل فہرستیں تیار کرلی گئیں جس سے خود حکومت کو دشواری ہوسکتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہر ضلع میں عوامی نمائندے اور متعلقہ وزیر باہم مشاورت کے ذریعہ متفقہ طور پر ایک فہرست تیار کرتے تاکہ تقررات کے عمل میں سہولت ہوتی۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر ضلع میں عہدے کے خواہشمند افراد کی تعداد 100 سے زائد ہے اور گریٹر حیدرآباد کے حدود میں خواہشمندوں کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ اضلاع سے موصولہ رپورٹ کو شارٹ لسٹ کرتے ہوئے ان میں سے تین قائدین کا انتخاب کیا جائیگا جنہیں کسی اقلیتی یا عام زمرے کے ادارے میں نامزد کیئے جانے کا امکان ہے ۔ چیف منسٹر نے اقلیتی قائدین کو سرکاری عہدے دینے کا تیقن دیا لیکن دیگر طبقات کے قائدین اسی طرح کے تیقن کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ادارے کے تقررات کے سلسلہ میں چیف منسٹر دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے قائدین سے بھی مشاورت کریں گے۔ جن اقلیتی اداروں پر تقررات باقی ہیں، ان میں اقلیتی کمیشن، اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی شامل ہے۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ان اداروں پر فوری تقررات کا امکان نہیں ہے اور یہ معاملہ عیدالاضحی کے بعد ہی زیرغور آئے گا۔ حکومت آئندہ ماہ اسمبلی اجلاس طلب کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اگر اسمبلی اجلاس طلب کی جائے تو تقررات کا عمل مزید آگے بڑھ جائے گا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT