Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / عید الفطر کے لیے سیویوں کی قلت ، قیمتوں میں اضافہ

عید الفطر کے لیے سیویوں کی قلت ، قیمتوں میں اضافہ

ہاتھ کی تیار کردہ سیویوں کی قدر زیادہ ، کاریگروں کی عدم دستیاب
حیدرآباد۔20جون(سیاست نیوز) رمضان المبارک کے اختتام کے ساتھ ہی عید کی تیاریوں کی دھوم شروع ہوجاتی ہے اوران تیاریوں میں سیویوں کو کافی اہمیت حاصل ہوتی ہے اور شہر حیدرآباد میں انتہائی منفرد ’ ہاتھ کی سیویاں‘ کافی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں اور بیشتر حیدرآبادی گھرانوں میں ہاتھ کی تیار کردہ سیویاں ہی شیر خورمہ میں استعمال کی جاتی ہیںلیکن بتدریج یہ صنعت مفقود ہوتی جا رہی ہے اور اسی لئے اس مرتبہ رمضان کے دوران ’ہاتھ کی سیویاں ‘ مہنگی فروخت کی جا رہی ہیں اور ان سیویوں کی قلت کے سبب لوگوں کو ان کے حصول میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ شہر حیدرآباد میں عیدالفطر کے موقع پر تیار کئے جانے والے شیر خورمہ کا اہم جز سیویاں ہوتی ہیں اور ان کے بغیر شیر خورمہ کا تصو ر نہیں کیا جا سکتا۔ بتایاجاتا ہے کہ ہاتھ کی سیویاں جو تیار کی جاتی ہیں ا س کے کاریگر کی قلت اور اس میں ہونے والی محنت کے سبب ہاتھ کی تیار کردہ سیویاںبازار میں کم ہی پہنچ رہی ہیں جس کے سبب اس کی قیمت 350روپئے کیلو گرام تک پہنچ چکی ہے۔ ٹھوک تاجرین کا کہنا ہے کہ انہیں جب ہاتھ کی تیار کردہ سیویاں حاصل ہی نہیں ہو رہی ہیں تو وہ کس طرح اس کی فروخت کو معمول پر لانے کے اقدامات کریں؟ تیارکنندگانن کا کہنا ہے کہ انہیں کاریگر نہ ملنے کے سبب وہ بھاری مقدار میں سیویاں تیار نہیں کر پا رہے ہیں جس کے سبب بتدریج یہ صنعت مفقود ہوتی جا رہی ہے اور مشین کی تیار کی جانے والی سیویاں تیزی سے فروخت کی جانے لگی ہیں ۔دونوں شہروں کے تجارتی بازارو ںمیں ہاتھ کی سیویوں کی بڑھتی مانگ کو دیکھتے ہوئے تیارکنندگان کوشش کر رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ سیویاں تیار کی جائیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ کاریگر کی عدم دستیابی اور جز وقتی کام سے انکار کئے جانے کے سبب وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ اس صنعت سے وابستہ کاریگروں کو سال بھر اس صنعت میں کام نہ ہونے کے سبب وہ دوسرے کاموں کی جانب متوجہ ہونے لگے ہیں جس کے سبب وہ اب اس جز وقتی کام کا حصہ نہیں رہے اسی طرح سال میں دو ماہ چلنے والے اس کام سے ان کی گذر بسر بھی مشکل ہو چکی تھی جس کے سبب انہیں دوسرے کاروبار اختیار کرنے پڑے ۔ ٹھوک تاجرین کا کہنا ہے کہ جب ہاتھ کی تیار کردہ سیویاں تیار ہی کم کی جا رہی ہیں تو ایسی صورت میں ان کی فروخت اور قیمتوں کے معمول پرآنے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا کیونکہ جب تک پیداوار میں اضافہ نہیں ہوگا اس وقت تک قیمتوں میں گراوٹ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تیارکنندگان کا کہنا ہے کہ اس صنعت سے وابستہ کاریگروں کو حکومت کی جانب سے مدد فراہم کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تو حیدرآباد کی منفرد ہاتھ کی سیویاں باقی رہیں گی بصورت دیگر ان سیویوں کی تیاری کا عمل کسی بھی وقت بند ہو سکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT