Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / عید و تہواروں کی خریداری ، بازاروں میں ہجوم

عید و تہواروں کی خریداری ، بازاروں میں ہجوم

پیشہ ور مجرم فائدہ اٹھانے کوشاں ، جعلی نوٹوں کا چلن ، عوام اور تجار کو چوکنا رہنے کی ضرورت
حیدرآباد۔23جون(سیاست نیوز) عید و تہواروں کی خریداری کیلئے بازاروں میں رہنے والے ہجوم کا پیشہ ور مجرم فائدہ اٹھاتے ہیں ان سے چوکنا رہتے ہوئے خود کو دھوکہ دہی سے بچانا معصوم تاجرین کی اپنی ذمہ داری ہے۔ پر ہجوم بازار جعلی کرنسی کو بازار میں چلانے والوں کے لئے بہترین مقامات ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ایسے بازار جہاں فٹ پاتھ و ٹھیلہ بنڈی راں کے کاروبار عروج پر ہوتے ہیں ان مقامات پر جعلی نوٹوں کے چلن کو آسان سمجھا جاتا ہے اسی لئے ماہ رمضان المبارک کے دوران بڑے تاجرین کے ساتھ ساتھ چھوٹے تاجرین کو بھی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ذرائع کے بموجب ہندستانی بازاروں میں قریب 400کروڑ کے جعلی نوٹ موجود ہیں جن میں 1000‘500اور 100کے نوٹ شامل ہیں۔جعلی نوٹ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے کی جانے والی اب تک کی متعدد کوششوں کے باوجود گزشتہ تین برسوں کے دوران اضافہ ہی دیکھا جا رہا ہے۔ 2013-14کے دوران 4.9لاکھ جعلی کرنسی نوٹ پکڑے گئے تھے اور 2014-15کے ریکارڈس کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں 5.9لاکھ جعلی کرنسی کی نشاندہی کی گئی۔ اسی طرح 2015-16کے دوران 6.3لاکھ جعلی کرنسی کی نشاندہی ہو پائی جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ہندستان میں جعلی کرنسی کو تیزی سے بڑھاوا ملتاجا رہا ہے اور اس پر قابو پانے کے اقدامات میں متعلقہ عہدیدار ناکام ہوتے جا رہے ہیں۔جعلساز جو جعلی نوٹوں کی تیاری کے ذریعہ ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں وہ عوام کو دھوکہ دہی کا شکار بناتے ہوئے انہیں نقصان پہنچانے کے مرتکب بننے لگے ہیں۔ سیکوریٹی ایجنسیوں کا دعوی ہے کہ ملک میں جعلی کرنسی بنگلہ دیش سے پہنچائی جاتی ہے جبکہ اس کی تیاری پاکستان میں ہوتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق ہندستانی بازاروں میں فی الحال 500روپئے کے نوٹوں کے 1646کروڑ روپئے گشت کر رہے ہیںاور اسی طرح 100روپئے کے 1642کروڑ روپئے گشت کر رہے ہیں 10کے نوٹ کی تفصیلات کے بموجب بازار میں 3229کروڑ روپئے کے کرنسی نوٹ موجود ہیں لیکن دس روپئے کے جعلی نوٹ دلچسپی کا سبب نہیں ہیں۔ ابتداء میں جعلساز صرف بڑی کرنسی پر توجہ مرکوز کیا کرتے تھے اور 1000یا500کے کرنسی نوٹ تیار کرتے ہوئے بازار میں لائے جاتے تھے لیکن اب یہ جعلساز 100کے نوٹ کی تیاری پر بھی توجہ دے رہے ہیں اور 100روپئے کے جعلی کرنسی نوٹ بازار میں لائے جا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 1000کی ایک جعلی نوٹ کی تیاری پر 39روپئے خرچ آتا ہے اور 500کی نوٹ کی تیاری پر بھی تقریبا اتنا ہی خرچ آتا ہے اس کے باوجود 500کی نوٹ زیادہ تیار کی جاتی ہے اور 1000کی نوٹ کی تیاری میں احتیاط کی جاتی ہے۔39روپئے میں تیار کی جانے والی ہزار کی نوٹ 300-400روپئے میں فروخت کی جاتی ہے اور ان نوٹوں کو بازار میں چلاتے ہوئے دھوکہ باز مکمل رقم کے فائدے حاصل کرنے لگتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ہندستان میں جعلی کرنسی کا سب سے زیادہ چلن دہلی ‘ اتر پردیش اور مہاراشٹرا میں ہے اور شہر حیدرآبار اور تلنگانہ میں جعلی کرنسی پڑوسی ریاست سے ہی داخل کی جا رہی ہے۔ پہلی مرتبہ ایسا کہا جا رہا ہے کہ 100روپئے کے جعلی نوٹ بھی بازار میں تیزی سے گشت کرنے لگے ہیں کیونکہ ان نوٹوں پر کوئی زیادہ توجہ مرکوز نہیں کرتا ۔ تاجرین اور عوام دونوں کو ہی خریداری کے وقت چوکنا رہتے ہوئے خود کو دھوکہ دہی کا شکار ہونے سے بچانے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT