Saturday , August 19 2017
Home / مضامین / عید کے موقع پر سیاہ پٹیاں

عید کے موقع پر سیاہ پٹیاں

 

ہرش مندر
ہندوستان کے کچھ شہروں میں یہ عید مغموم رہی ۔ روایتی طور پر عید کی نماز ادا کرنے لوگ مغموم انداز میں مساجد کو پہونچے تھے ۔ لیکن کچھ افراد نے اپنی آستینوں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں تاکہ اپنی برہمی کا علامتی اظہار کرسکیں۔ جن لوگوں نے یہ پٹیاں اس لئے نہیں بھی باندھی تھیں کہ آیا محبت و امن کے اس تہوار کے موقع پر احتجاج کرنا بھی چاہئے یا نہیں ‘ وہ بھی اپنے دلوں میں تکلیف محسوس کر رہے تھے ۔ ان کے دلوں میں خوف تھا اور حیرانی تھی ۔ وہ سوچ رہے تھے کہ ہمارے ملک کو کیا ہوگیا ہے ؟ ۔ اس ملک میں ہماری جگہ کیا ہے ؟ ۔ ہم ہمیشہ یہ سمجھتے تھے کہ ہم جس ملک سے محبت کرتے ہیں وہاں ہم مساوی درجہ کے شہری ہیں ۔ کیا ہم غلط تھے ؟ ۔

شائد اس عید پر سب سے زیادہ خاموشی اور غم ہریانہ کے ضلع فرید آباد کی بلبھ گڑھ تحصیل کے کھنداؤلی گاؤں میں تھا ۔ عید سے چند ہی دن قبل اس کمسن نوجوان کو اس کے گاؤں کے قریب ہی ایک ٹرین میں ہجوم نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا تھا ۔ اس کا بڑے بھائی شاکر دہلی کے ایک دواخانہ میں چاقو سے پہنچنے والے زخموں کا علاج کروا رہا ہے ۔ کئی لوگوں نے عید کی نماز جاتے ہوئے اپنے ہاتھوں پر سیاہ پٹیاں باندھی تھیں۔ بچوں کے سوائے شائد ہی کسی نے عید کی خوشیوں اور ہنسی کا اظہار کیا ہوگا ۔
یہی وہ گاؤں تھا جس کا ہم نے عید کے دوسرے دن دورہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ صرف یہ کہہ سکیں کہ ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ میرے ساتھ سینئر کارکن جان دیال اور نوشرن سنگھ ‘ پروفیسر اتل سود اور میرے رفیق انیربن بھٹا چاریہ اور امن برادری کے انوارالحق ‘ محمد عامر ‘ سرور مندر ‘ ظفر اقبال ‘ چنچن اور افسر عالم بھی تھے ۔ ہم نے گاوں میں ان کے گھر کے باہر ہجوم دیکھا ۔ سی پی آئی ایم کے قائدین کا ایک وفد سبھاشنی علی کی قیادت میں وہاں کا دورہ کر رہے تھا ۔ گاؤں کے کئی بڑے جنید کے والد جلال الدین کے ساتھ گروپس کی شکل میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ گاؤں کی خواتین جنید کی والدہ سائرہ بیگم کے ساتھ گھر میں تھیں اور نوجوان افراد جنید کے بھائیوں کے ساتھ سڑک کی سمت بیٹھے ہوئے تھے ۔ جنید کے والد خوفزدہ ‘ بدحواس اور گھبرائے ہوئے بیٹھے تھے جبکہ ان کی والدہ کا غم بانٹا نہیں جاسکتا تھا ۔ گاوں میں لوگ اس خیال کا اظہار کر رہے تھے کہ وہ گاوں سے باہر جانے ‘ پیدل چلنے اور ٹرین میں سفر کرنے یا بسوں میں جانے سے کتنا خوف محسوس کر رہے ہیں۔ وہ لوگ ٹوپی پہننے ‘ داڑھی رکھنے یا برقعہ پہننے سے گھبرا رہے ہیں۔ مسلمان کی کسی نشانی کے اظہار سے خوف محسوس ہو رہا ہے ۔

جنید کا بڑا بھائی ہاشم 18 سالہ نوجوان ہے ۔ اس نے جنید کے تعلق سے ہم سے بات کی ۔ دونوں بھائیوں نے مدرسوں میں تعلیم حاصل کی ۔ ہاشم نے سورت میں اور جنید نے نوہ میں پڑھائی کی ۔ یہ لوگ رمضان اور عید کیلئے اپنی سالانہ چھٹیوں میں گھر آئے تھے ۔ یہ خاندان غریب ہے اور ان کے والد اور بھائی اپنی چھوٹی سی زمین پر کاشت کے ذریعہ ‘ معمولی مزدوری کرتے ہوئے یا ٹیکسی چلاتے ہوئے اپنا گذارا کرتے ہیں ۔ ہاشم اور جنید نے اپنے لئے علیحدہ راستہ اختیار کیا تھا ۔ وہ لوگ حافظ قرآن بن کر امام بننا چاہتے تھے ۔

انہوں نے متھرا جانے والی لوکل ٹرین میں اپنے ساتھ پیش آئے سانحہ کو ایک بار پھر دہرایا ۔ اس ٹرین میں یہ لوگ صدر بازار اسٹیشن سے عید کی خریداری جامع مسجد علاقہ سے کرنے کے بعد سوار ہوئے تھے ۔ اوکھلا اسٹیشن پر ایک بڑا ہجوم ٹرین میں داخل ہوا اور اس ہجوم نے ان لڑکوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنی نشستیں انہیں دیدیں۔ جنید نے پہلے ہی ایک معمر شخص کیلئے کسی جھگڑے سے قبل ہی اپنی نشست فراہم کردی تھی ۔ جب اس کے بھائیوں نے اپنی جگہ چھوڑنے سے انکار کیا تو اس ہجوم نے ان کی ٹوپیاں کھینچی ‘ ان کی داڑھی کھینچی ‘ انہیں تھپڑ رسید کیا اور مارپیٹ کی ۔ ان پر فرقہ وارانہ منافرت کے طعنے کسے ۔ ان لڑکوں کو بلبھ گڑھ کے ان کے اسٹیشن پر اترنے نہیں دیا گیا ۔ اس کی بجائے بلبھ گڑھ سے اساؤتی اسٹیشن تک نو منٹ کے سفر میں اس ہجوم نے ان لڑکوں پر چاقووں سے حملہ کردیا ۔ یہ لڑکے چیختے رہے ۔ خون کمپارٹمنٹ کے فرش پر بہتا رہا ‘ تماش بینوں نے حملہ آوروں کو مزید اکسایا ‘ لوگوں نے اس واقعہ کا ویڈیو بنایا لیکن کسی نے ان معصوم لڑکوں کی مدد نہیں کی ۔

دیہی اسٹیشن اساؤتی پر انہیں پلیٹ فارم پر پھینک دیا گیا ۔ اسٹیشن پر بھی کسی نے لڑکوں کی مدد نہیں کی حالانکہ وہاں ریل اسٹاف موجود تھا ۔ اس کے علاوہ کئی چھوٹے موٹے کاروباری اور دوکاندار بھی وہاں موجود تھے ۔ ایک بھائی نے کسی طرح پلوال میں ایک خانگی دواخانہ کو فون کرنے میں کامیابی حاصل کی اور ایک ایمبولنس 45 منٹ بعد پہونچی ۔ اس وقت تک جنید کا خون اتنا بہہ گیا تھا کہ وہ فوت ہوگیا تھا ۔ میرے دوستوں اور میں نے اساؤتی اسٹیشن کا بھی دورہ کیا اور اس وقت ڈیوٹی پر رہنے والے آفیسر سے بات کی ۔ اس کا کہنا تھا کہ گارڈ نے یہ پیام بھیجا تھا کہ ایک نعش ٹرین سے پھینکی گئی ہے ۔ لیکن اس وقت میں کنٹرولس پر تھا ۔ میں اپنے ٹیبل سے نہیں اٹھ سکتا تھا ۔ میرے پاس اسٹاف بھی بہت کم تھا ۔ کئی پلیٹ فارمس ایک ہی داخلہ سے پہونچنے والے دوکانداروں اور ٹھیلہ بنڈی رانوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے کچھ نہیں دیکھا ۔ نہ انہوں نے زخمیوں کو دیکھا اور نہ مہلوک لڑکے کو اور نہ ہی ایمبولنس کو آتے ہوئے دیکھا ۔ صرف ایک مسلم دوکاندار نے سرگوشی کی کہ نعش اسٹیشن کے داخلہ پر 45 منٹ تک پڑی رہی اور سبھی کو نظر آ رہی تھی ۔ اس شخص کے پاس بھی سر عام کچھ کہنے کی ہمت نہیں تھی ۔
کچھ لوگوں کا سوال تھا کہ آپ اس کیلئے مودی حکومت کو کیوں ذمہ دار قرار دیتے ہیں ؟ جواب بہت واضح تھا کہ ایک سروے کے مطابق گئؤ رکھشا کے نام پر 2010 کے بعد سے جتنے بھی حملے ریکارڈ ہوئے ہیں ان میں 97 فیصد حملے نریندر مودی کے سیاسی اقتدار سنبھالنے کے بعد ہوئے ہیں۔ اس وقت کے دوران صرف دو مواقع ایسے تھے جب انہوں نے سر عام گائے کے نام پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے ۔ انہوں نے 29 جون کو احمد آباد کے سابرمتی آشرم میں بھی یہ مذمت کی تھی لیکن ان کے تازہ ترین بیان میں یہ اعتراف نہیں تھا کہ ملک میں نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اپنی پارٹی اور آر ایس ایس سے جڑی تنظیموں کی جانب سے پھیلائی جانے والی فرقہ وارانہ منافرت کی سیاست کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ اس طرح کے ہر واقعہ پر خاموشی اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے نہ اس طرح کے واقعات پر برہمی ظاہر کی ہے اور نہ ہی غمزدہ افراد کا دکھ بانٹنے کی کوشش کی ہے ۔ ان کے وزرا اور ان کی پارٹی کے منتخبہ نمائندے اس طرح کے حملے کرنے والوں کی مدافعت میں اتر آئے ہیں۔ ان کے ایک کابینی وزیر نے تو اس طرح کے حملے کے ایک ملزم کی موت کے بعد اس کی نعش کو ترنگے میں لپیٹا تھا ۔
ایسے وقت میں جبکہ اس طرح کے ہجوم کے حملوں کے خلاف احتجاج ملک بھر کے کئی ٹاؤنس اور شہروں میں پھیل گیا اور ملک کے باہر بھی احتجاج ہوا تو کچھ لوگوں نے سوال کیا آپ اسی وقت حرکت میں کیوں آتے ہیں جب مسلمانوں اور دلتوں ہی کو ہلاک کیا جاتا ہے ؟ ۔ اس کا جواب بھی بہت واضح تھا ‘ اس لئے کیونکہ حالیہ برسوں میں نفرت پر مبنی حملوں کا اصل نشانہ یہی لوگ بنے ہیں۔ انگریزی صحافت میں اس طرح کے حملوں کے تعلق سے جو سروے ہوئے ہیں ان کے مطابق اس طرح کے حملوں میں 86 فیصد مہلوکین مسلمان تھے اور 8 فیصد دلت تھے ۔
عید کے موقع پر غم اور مذمت کیلئے جو سیاہ پٹیاں باندھی گئی تھیں ان سے ملک کا ضمیر جاگنا چاہئے کیونکہ یہ نفرت اب ملک کا معمول بن رہی ہے ۔ نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ تمام ہندوستانیوں کو اس عید پر سیاہ پٹیاں باندھنی چاہئے تھیں۔

TOPPOPULARRECENT