Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / !!عیسائی مشنریز کے بعد مسلمانوں پر شکنجہ کسنے کی کوشش

!!عیسائی مشنریز کے بعد مسلمانوں پر شکنجہ کسنے کی کوشش

دو سال میں 13000 این جی اوز کے خلاف کارروائی
حیدرآباد ۔ 12۔ جولائی (سیاست نیوز) آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کو ہمیشہ سے ہی یہ شکایت رہی ہے کہ ملک میں عیسائی مشنریز اور مسلم ادارے ہندوؤں کا مذہب تبدیل کروانے میں مصروف ہیں ۔ خاص کر غریب و پسماندہ  ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ہندو ، ہندو مذہب ترک کر کے عیسائیت یا اسلام قبول کر رہے ہیں۔ حالانکہ  ہندو مذہب میں لاکھوں بھگوان اور انہیں مانے والی بے شمار ذاتیں ہیں۔ ہندوؤں میں چھوت چھات ادنیٰ و اعلیٰ میں فرق کے باعث ہی پسماندہ ذات سے تعلق رکھنے والے ہندو اپنا مذہب ترک کرتے ہیں۔ بہرحال چونکہ ملک میں ہندو توا کی طاقتوں کو اقتدار حاصل نہیں ہوا تھا اور ا قتدار ملا بھی تو وہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام تھے ، اس لئے ماضی میں انہیں عیسائی مشنریوں اور مسلم اداروں و مدارس کے خلاف اقدامات کرنے کی ہمت نہیں ہوئی لیکن دو سال قبل جیسے ہی نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوا ، سنگھ پریوار کے خفیہ ایجنڈہ پر عمل شروع ہوگیا  اس کیلئے سب سے پہلے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، ساتھ ہی عیسائی مشنریز کے خلاف گھیرا تنگ کیا گیا ۔ فرقہ پرستوں کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ جو بھی دامن اسلام میں پناہ لیتا ہے اسے کوئی دنیاوی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ مسلمان تو آخرت سدھارنے اور سنوارنے کی بات کرتے ہیں۔ اس کے باوجود آر ایس ایس ، بی جے پی ، وشواہندو پریشد کے قائدیین نے مدرسوں کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا ۔ ان مدرسوں کو جو دین کے قلعہ ہوتے ہیں۔ دہشت گردوںکی پناہ گاہ قرار دینے لگے ۔ حد تو یہ ہے کہ راجستھان اور ملک کی بعض دوسری ریاستوں میں دینی مدارس اور مسلم خیراتی اداروں پر نظر رکھی جانے لگی ۔ ان کی تفصیلات اکٹھا کرنے کا عمل شروع ہوگیا ۔ دوسری جانب مودی حکومت میں عیسائی مشنریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی گئی ۔ ان کارروائیوں کی وجوہات ایف سی آر اے ( فارن کانٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ) کی خلاف ورزیاں بتائی گئیں ۔ جون 2015 ء میں ایک رپورٹ منظر عام پر آئی جس میں بتایا گیا تھا کہ اپریل 2015 ء میں حکومت نے 8875 این جی اوز کے لائسنس مسنوخ کئے۔ اس کے بعد مزید 4470 غیر سرکاری رضاکارانہ تنظیموں ، تعمیراتی اداروں کے لائسنس منسوخ کردیئے گئے ۔ اس کی وجہ سے جہاں ایف سی آر اے کی خلاف ورزیاں بتائی گئیں وہیں فرقہ پرستوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ان این جی اوز کے ذریعہ عیسائی مشنریاں ہندوؤں کا مذہب تبدیل کروا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ ہندوستان میں سرگرم این جی اوز میں 20 ہزار سے زائد ایسے ادارے ہیں جو غریب ہندوستانیوں کی مدد میں سرگرم ہیں۔ مودی حکومت نے جن این جی اوز کے لائسنس منسوخ کئے ان میں گرین  پیپسی اور فوڈ فاؤنڈیشن بھی شامل ہیں ۔ اگرچہ حکومتی اداروں کو مسلم اداروں کے خلاف کارروائی کا موقع ہاتھ نہیں آرہا تھا ۔ ایسے میں ڈاکٹر ذاکر نائک کا قصہ سامنے آتا ہے۔ سنگھ پریوار کی نظریں مسلم خیراتی اداروں ، دینی مدارس اور دیگر اداروں کو بیرونی ممالک سے حاصل ہونے والے عطیات پر مرکوز ہوگئیں ہیں جبکہ ہندوستانی مسلمان عیسائی مشنریز کے بعد مسلم اداروں کے خلاف شکنجہ  کسنے حکومت و مرکزی و ریاستی اداروں کے ارادوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ساتھ ہی اس بات کو لے کر مطمئن بھی ہیں کہ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے لاکھوں مدارس مقامی اہل خیر حضرات کی مالی مدد سے چلتے ہیں، ان میں اکثریت ایف سی آر اے (فارن کانٹریبیوشن ریگولیشن ایکٹ) کے بارے میں کوئی علم ہی نہیں ہے۔ مسلم و غیر مسلم دانشوروں کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ م ودی حکومت مسلمانوں میں مسل کی اختلافات کو ہوا دے کر سارے مسلمانوں کو نشانہ بنانے سنگھ پریوار کے خصوصی ایجنڈہ پر عمل پیرا ہے اور وہ بڑی مکاریوں کے ساتھ آہستہ آہستہ اپنے اہداف کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ ایسے میں مسلمانوں کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے ورنہ سرکاری ادارے بیرونی ممالک سے زکوٰۃ و صدقات اور خیرات (فنڈس) کی وصولی کے بہانہ کسی بھی دینی مدرسہ، کسی بھی مسلم خیراتی ادارے ، یہاں تک کہ شخصیت کو نشانہ بناسکتے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT