Tuesday , October 17 2017
Home / ہندوستان / غداری قانون کی تنسیخ کیلئے کوئی رسمی نمائندگی موصول نہیں ہوئی

غداری قانون کی تنسیخ کیلئے کوئی رسمی نمائندگی موصول نہیں ہوئی

2014 میں ملک میں غداری کے 47 مقدمات درج ہوئے تھے ۔ لوک سبھا میں منسٹر آف اسٹیٹ داخلہ کا بیان
نئی دہلی 15 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) جے این یو طلبا تنظیم کے صدر کنہیا کمار کی غداری کے الزام میں گرفتاری کے بعد اس قانون سے متعلق پیدا شدہ مباحث کے دوران حکومت نے آج کہا کہ اسے قدیم دور سے چلے آ رہے اس قانون کی تنسیخ کے مطالبہ کے ساتھ کوئی درخواست یا نمائندگی موصول نہیں ہوئی ہے ۔ لوک سبھا کو آج مطلع کیا گیا کہ 2014 میں سارے ملک میں غداری کے قانون کے تحت جملہ 47 مقدمات درج کئے گئے تھے جبکہ جاریہ سال صرف ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے منسٹر آف اسٹیٹ داخلہ ہری بھائی پارتی بھائی چودھری نے کہا کہ حکومت کو غداری سے متعلق قانون پر نظر ثانی یا اس قانون کی تنسیخ کیلئے کسی گوشے سے کوئی نمائندگی موصول نہیں ہوئی ہے ۔ انہوں نے تاہم کہا کہ اکٹوبر 2012 میں وزارت داخلہ نے وزارت قانون و انصاف سے خواہش کی تھی کہ تعزیرات ہند کے دفعہ 124A کے استعمال کا جائزہ لے اور اس میں ضروری ترامیم کی تجاویز پیش کرے ۔ وزارت قانون کی جانب سے لا کمیشن سے یہ خواہش کی گئی تھی کہ وہ اس مسئلہ کا جائزہ لے

اور ملک میں فوجداری قوانین کا جامع جائزہ لیتے ہوئے اقدام کئے جائیں۔ چودھری نے کہا کہ 11 ڈسمبر 2014 کو لا کمیشن نے یہ اطلاع دی تھی کہ اس نے کچھ امور پر توجہ کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے سب گروپس قائم کئے ہیں تاکہ ان کا جائزہ لیا جاسکے ۔ وزیر موصوف نے کہا کہ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو نے 2014 کے بعد سے دفعہ 124A کے تحت درج کردہ مقدمات کا جائزہ لینا شروع کیا ہے ۔ یہ دفعہ نفرت پھیلانے یا تحقیر سے متعلق ہے یا پھر حکومت کے قانون کے تعلق سے عدم پسندیدگی کا اظہار کرنے سے متعلق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2015 سے متعلق ڈاٹا کو ہنوز جمع کیا جا رہا ہے ۔ وزیر موصوف کے پیش کردہ 2014 کے ڈاٹا کے مطابق ملک میں صرف آٹھ ریاستوں میں اس قانون کا استعمال کیا گیا تھا جہاں جملہ 47 مقدمات درج کئے گئے تھے ۔ سب سے زیادہ 18 مقدمات جھارکھنڈ میں درج کئے گئے تھے جبکہ 16 مقدمات کے ساتھ بہار دوسرے نمبر پر تھا ۔ اس قانون کے تحت اب تک ملک میں صرف ایک مقدمہ میں سزا سنائی گئی ہے اور وہ جھارکھنڈ میں ہوا ہے ۔ غداری کے الزام میں گذشتہ مہینے جے این یو طلبا تنظیم کے صدر کنہیا کمار کی گرفتاری کے بعد سارے ملک میں احتجاج شروع ہوگیا تھا اور یہ مطالبات کئے جا رہے تھے کہ ملک میں اس قانون کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ کہا جا رہا تھا کہ اس قانون کے ذریعہ اظہار خیال کی آزادی کو سلب کیا جا رہا ہے ۔ کنہیا کمار فی الحال عبوری ضمانت پر ہے جبکہ اس کے ساتھی طلبا عمر خالد اور انیربن بھٹا چاریہ فی الحال عدالتی تحویل میں ہیں ۔ ان پر بھی غداری کے الزام ہیں۔

TOPPOPULARRECENT