Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / غداری قانون کی جمہوریت میں گنجائش نہیں

غداری قانون کی جمہوریت میں گنجائش نہیں

تنسیخ کی وکالت، جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کی قرارداد
نئی دہلی ۔ 8 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جے این یو اسٹوڈنٹس یونین نے آج ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے ملک سے غداری کے قانون کی تنسیخ کیلئے تمام تر امکانات تلاش کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ یونین نے کیمپس میں متنازعہ افضل گرو پروگرام کے دوران تخریبی نعروں کی مذمت کا اعادہ بھی کیا۔ یونین نے کل رات منعقدہ کونسل اجلاس کے بعد کہا کہ افضل گرو پروگرام کے دوران لگائے گئے تخریب پسند نعرے جے این یو کے جمہوری اقدار کی نمائندگی نہیں کرتے۔ یونین نے عمر خالد اور انیربن بھٹاچاریہ کی فی الفور رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اجلاس میں اس بات کو یقینی بنانے کی جدوجہد کا فیصلہ کیا گیا کہ جے این یو کے معطل طلبہ کو بحال کیا جائے اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات بشمول ملک سے غداری سے دستبرداری اختیار کی جائے۔ اس کے علاوہ ملک سے غداری کے قانون کو تعزیرات ہند سے منسوخ کرنے کیلئے بھی تمام ممکنہ راستے اختیار کئے جائیں گے کیونکہ یہ انگریز دور کا سیاہ قانون ہے جس کی جمہوری سماج میں کوئی جگہ نہیں۔ کونسل نے رجسٹرار بھوپیندر زیوتشی سے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا جنہوں نے اے بی وی پی اور بی جے پی کے ساتھ مل کر جے این یو کو نشانہ بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ کونسل نے فوج کو خصوصی اختیارات سے متعلق قانون افسپا کی تنسیخ اور اقلیتوں ، آدیواسی و دلتوں کے خلاف حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کو روکنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT