Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / غربت اور تعلیمی پسماندگی مسلمانوں کی ترقی میں اہم رکاوٹ

غربت اور تعلیمی پسماندگی مسلمانوں کی ترقی میں اہم رکاوٹ

عہدیداروں کا اعتراف ، سدھیر کمیشن آف انکوائری کی سروے کی پیشرفت کا جائزہ
حیدرآباد 13 مئی (سیاست نیوز) مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کا جائزہ لینے والے سدھیر کمیشن آف انکوائری نے آج ضلع کلکٹر رنگاریڈی اور مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا۔ رنگاریڈی کلکٹریٹ میں منعقدہ اِس اجلاس میں کمیشن کے صدرنشین جی سدھیر کے علاوہ ارکان عامر اللہ خان اور ایم اے باری شریک تھے۔ کلکٹر حیدرآباد رگھونند راؤ نے ضلع سے تعلق رکھنے والے تمام اعلیٰ عہدیداروں اور مختلف محکمہ جات کے انچارج عہدیداروں کو اجلاس میں طلب کیا تھا۔ تمام محکمہ جات نے اپنی اسکیمات کی رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ اسکیمات میں اقلیتوں کی حصہ داری اطمینان بخش ہے۔ کمیشن کا احساس ہے کہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات کی حد تک کارکردگی بہتر ہے تاہم دیگر اسکیمات میں اقلیتوں کی حصہ داری صفر کے برابر ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ اسکیمات سے ناواقفیت ہے۔ کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ بینکوں سے قرض، چھوٹے کاروبار کے آغاز اور اسی طرح کی دیگر اسکیمات کے معاملہ میں اقلیتیں دوسرے طبقات کے مقابلہ کافی پسماندہ ہیں۔ تعلیمی پسماندگی اور شعور کی کمی کے نتیجہ میں وہ اسکیمات کے فوائد حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ کمیشن کے استفسارات پر عہدیداروں نے اعتراف کیاکہ مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد بمشکل اُن سے رجوع ہوتے ہیں۔ وہ اسکیمات سے واقف نہیں اور کوئی رضاکارانہ تنظیم یا مسلمانوں کے نمائندے اُنھیں واقف کرانے کی زحمت نہیں کرتے۔ کمیشن نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی اسکیمات کے بارے میں اقلیتوں میں شعور بیداری کی مہم شروع کریں اور اِس سلسلہ میں رضاکارانہ تنظیموں کی خدمات حاصل کی جائیں۔ اقلیتوں سے متعلق اسکیمات جیسے شادی مبارک، اوورسیز اسکالرشپ، اقلیتی فینانس کارپوریشن کی قرض اسکیم اور اسکالرشپ جیسی اسکیمات کے نتائج سے کمیشن کو واقف کرایا گیا۔ عہدیداروں نے اِس بات کا اعتراف کیاکہ مسلمانوں میں غربت اور تعلیمی پسماندگی اُن کی ترقی میں اہم رکاوٹ ہے۔ کمیشن کے صدرنشین اور ارکان نے اقلیتی اسکیمات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بینکوں سے مربوط اسکیمات میں اقلیتوں کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔ اُنھوں نے اسکیمات پر عمل آوری میں شفافیت کا مشورہ دیا۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ مسلم اقلیت کے ذمہ دار شخصیتوں کو چاہئے کہ وہ غریب اقلیتوں کی رہنمائی کریں۔ بینک عہدیداروں نے بتایا کہ اگر کوئی بینک کے لئے رجوع ہوتا ہے تو اُس کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہوتا جس کے سبب بینک قرض کی منظوری سے قاصر ہے۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے اسٹاف کی کمی کی شکایت کی جس پر کمیشن نے حکومت کی توجہ مبذول کرنے کا تیقن دیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے اپنے طور پر شروع کردہ سروے کا کام 50 فیصد مکمل ہوگیا۔ کمیشن نے آج سروے کی پیشرفت کا جائزہ لیا جس میں یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ ہر شعبہ میں مسلمان نظرانداز کئے گئے ہیں۔ سرکاری ملازمتوں میں اُن کی نمائندگی بمشکل ایک فیصد ہے۔ سدھیر کمیشن آنے والے دنوں میں دیگر اضلاع میں اس طرح کے اجلاس منعقد کرے گا۔

TOPPOPULARRECENT