Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / غربت کی سطح میں نمایاں کمی لیکن ہنوز کئی چیلنجس درپیش

غربت کی سطح میں نمایاں کمی لیکن ہنوز کئی چیلنجس درپیش

صنفی ، ذات پات اور مذہبی تفریق آج بھی برقرار، عالمی طاقتوں نے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں فاصلے بڑھا دیئے : حامد انصاری
نئی دہلی ۔ 3 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری نے آج کہا کہ ملک میں غربت کی شرح کافی کم ہوئی ہے لیکن اب بھی ایسے کئی چیلنجس درپیش ہیں جن سے نمٹا ضروری ہے۔ انہوں نے آج ایشیائٹک سوسائٹی برائے قومی یکجہتی کے زیراہتمام 2015ء اندراگاندھی میموریل لکچر دیتے ہوئے کہا کہ 1973-74ء میں غربت کی شرح 54.9 فیصد تھی جو نیشنل سیمپل سروے کے مطابق 2004-05ء میں کم ہوکر 27.5 پہنچ گئی۔ گذشتہ ایک دہے میں مزید بہتری واقع ہوئی ہوگی۔ ان سب کے باوجود آج بھی تین چیلنجس درپیش ہیں۔ نائب صدرجمہوریہ نے ان چیلنجس کی صراحت کرتے ہوئے کہا کہ صنفی، ذات پات اور مذہبی حدبندیاں آج بھی برقرار ہیں۔ اسی طرح عالمی طاقتوں نے بڑے شہروں اور دیہاتوں کے درمیان فرق کو مزید بڑھا دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ زیادہ ترقی یافتہ ریاستوں اور ان ریاستوں کے مابین تفریق بڑھ گئی ہے جو معاشی بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض قابل قدر کارناموں کے باوجود ملک کے بیشتر حصوں میں عوامی ادارے بنیادی خدمات فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ حامد انصاری نے کہا کہ آج کے دور میں درپیش چیلنجس کے عنوان پر انہیں خطاب کا جو موقع ملا یہ ایک اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساوات کو فروغ دینے میں مدد کیلئے جن بنیادی اجزاء کی ضرورت ہے وہ اب بھی کئی معاملات میں پوری طرح تقسیم نہیں ہوپائے ہیں۔ جمہوریت کی کامیابی کیلئے جن شرائط کا بھیم راؤ امبیڈکر نے تذکرہ کیا تھا، ان کا حوالہ دیتے ہوئے حامدانصاری نے کہا کہ اس فہرست میں جو ضروریات تھی، شاید آج بھی ان میں چند کی کمی پائی جاتی ہے۔ اس طرح کی تفریق یا تخریب کئی سوالات ابھار رہی ہے۔ جمہوری سطح پر تحریک نے اقتدار کیلئے زبردست جدوجہد کو فروغ دیا ہے لیکن لاکھوں شہریوں کو اب تک وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکا جو غربت سے دوچار ہیں۔ انہوں نے سماجی انصاف کی ضرورت پر زور دیا۔ نائب صدرجمہوریہ نے کہاکہ انتخابات میں رائے دہندگان کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا لیکن مقننہ کی حقیقی کارکردگی میں کمی آئی ہے۔ آج ہم عجیب و غریب صورتحال سے دوچار ہیں۔ 1952ء سے 1974ء تک لوک سبھا میں ہر سال 100 نشستیں ہوا کرتی تھیں لیکن 2000ء سے 2015ء تک کسی بھی سال یہ تعداد 85 سے آگے نہیں بڑھ پائی بلکہ چند سال صرف 46 نشستیں ہی ہوپائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت میں نمائندگی کا نظام بھی منقسم ہوچکا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہیکہ تمام شہریوں کو مساوی مواقع یقینی بنائے جائیں اور بالخصوص کمزور طبقات کو طاقتور بنایا جائے۔

TOPPOPULARRECENT