Monday , May 29 2017
Home / اداریہ / غربت کی شکار مسلم آبادی

غربت کی شکار مسلم آبادی

دیوانے کیا کریں گے تواضع بہار کی
جوشِ جنوں میں پہلے گریبان تو گیا
غربت کی شکار مسلم آبادی
شہر حیدرآباد کے علاقہ پرانے شہر میں مسلم آبادی میں غربت کا شکار خاندانوں کے بارے میں این جی او کے حالیہ سروے نے اربن سلم علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کی ابتر زندگی کی عکاسی کی ہے۔ یہ بتایا گیا ہیکہ پرانے شہر کے مسلمانوں کی اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی گذار رہی ہے۔ ریاست تلنگانہ کی مختلف سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں سے وابستہ قائدین بھی ایماندارانہ طور پر یہ اعتراف کرتے ہیں کہ تلنگانہ میں زائد از 60 فیصد مسلم آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گذارتی ہے۔ حیدرآباد چونکہ عالمی سطح پر ایک ترقی یافتہ اور کامیاب شہر تسلیم کیا جاتا ہے مگر داخلی طور پر اس شہر میں مقیم شہری آبادی خاص کر مسلمانوں کی معاشی، سماجی اور تعلیمی کیفیت سروے کے مطابق نہ صرف ابتر ہے بلکہ کئی مسلم خاندان قرض کے بوجھ تلے دب کر صحت جسمانی سے بھی محروم ہورہے ہیں۔ اس سروے نے پرانے شہر کی مسلم آبادی کی صورتحال کی عکاسی کی ہے جو 5000 نفوس سے پوچھے گئے سوالات اور ان کی رائے پر مبنی حقیقی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے۔ استحصالی طاقتوں کا شکار یہ مسلم آبادی اپنی غربت اور پسماندگی، بنیادی سہولتوں کے فقدان اور دیگر صحت عامہ کے مسائل سے دوچار ہے۔ اس آبادی کے مسلم بچے بھی اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے مواقع سے بھی محروم ہیں۔ یہاں کے خودغرض سیاستداں، محکمہ و بدعنوان بیوریوکریٹس نے پرانے شہر کی مسلم آبادی کو کمزور اور پسماندہ طبقات سے بھی بہت پیچھے ڈھکیل دیا ہے۔ انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ مسلم طلباء کی تعداد معمولی ہے۔ شہر کی آبادیوں، محلوں، کالونیوں اور بستیوں کا پرانے شہر کی بستیوں اور وہاں رہنے والوں کی حالت کا تقابل کیا جائے تو اس میں واضح فرق نظر آئے گا۔ اس شہر کے مسلمانوں کو دیگر علاقوں کے مسلمانوں کی طرح سیاسی سرپرستی سے محرومی کا مسئلہ نہیں ہے۔ پرانے شہر میں مسلمانوں کی سرپرستی کرنے والی سیاسی جماعت اور اس کے ارکان ہر دم ان کی بہتری کے دعوے کرنے کیلئے موجود ہیں۔ اس کے باوجود یہاں کے مسلمانوں کی زندگی ان مسلمانوں سے زیادہ خراب اور ابتر ہے جہاں سے مسلمانوں کو سیاسی سطح پر محروسی کا احساس ہوتا ہے۔ یہاں تاریخ کے حوالے سے یہ بات سمجھ میں آ سکتی ہے کہ قوم کو بنانے، بگاڑنے، جوڑنے اور توڑنے میں قیادت کا کردار مرکزی اور بنیادی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات بطور مثال پیش کی جاتی ہے کہ اگر ڈپٹی کمشنر نالائق یا بدنیت ہو تو ضلع کا کچھ نہیں بگڑتا لیکن استاد، بدنیت اور جاہل ہو تو وہ نسلیں تباہ کرجاتا ہے اور اگر لیڈر نالائق ہو تو وہ اپنے علاقہ اور قوم کا ستیاناس کرجاتا ہے۔ پرانے شہر کے حوالے سے قیادت کی بدنیتی پر کئی شکایات منظر پر آچکی ہیں اور قیادت کی خرابیوں کے نوحے پر افسوس کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے۔ پرانے شہر کی مسلم آبادیوں کی غربت و صحت کے بارے میں کئی بار رپورٹس منظرعام پر آچکی ہیں مگر بے حس قیادت کا ضمیر بیدار ہونے سے رہا ہے۔ پرانے شہر کے عوام کے صحت عامہ کا معاملہ بھی سنگین ہے۔ گھر گھر جاکر سروے کے ذریعہ حاصل کردہ ڈیٹا سے بھی پتہ چلتا ہیکہ مالی ابتری کے ساتھ ساتھ ان مسلم بستیوں کے خاندانوں میں صحت کی ابتری کا مسئلہ بھی سنگین ہے۔ مقامی جماعت کے سیاستداں ثلاثہ کا ذکر چاہے کسی بھی عنوان سے کیا جائے اس دور یادگار میں ان کا حال ناقابل بیان ہے۔ غریب عوام سے ان کے بارے میں پوچھیں تو کچھ کہنے سے زیادہ چھپ چھپ کر رونے اور کوسنے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں لیکن انہیں معلوم کرانے کی ضرورت ہے کہ وہ ہی طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ غربت کا شکار بنا کر انہیں بے ہمت کردیا گیا ہے اور ان کے حافظوں پر وقت کی دھول ڈال کر اپنی دولت، طاقت اور شہرت میں اضافہ کرنے میں سرگرم ہیں۔ یہ لوگ خود کو پرانے شہر کے ’’سیاسی وحدت الوجود‘‘ سمجھ کر جتنی خرابیاں پیدا کرنا تھا کرچکے ہیں اب اپنی غربت اور پسماندگی سے باہر آنے کیلئے ان نااہلوں کے ہاتھوں مزید بیوقوف بننے کو تیار نہ ہوں۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور الیکشن کمیشن
انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کی ان دنوں شدت سے مخالفت کے بعد الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مختلف تجاویز اور مشوروں کا جائزہ لیا مگر کسی قطعی نتیجہ پر پہنچنا اس کیلئے مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ پیپر بیالٹ کا مطالبہ کرنے والی پارٹیوں کا احساس ہیکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں الٹ پھیر کرنے کی گنجائش ہے۔ اس شکایت کو دور کرنے کی غرض سے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کل جماعتی اجلاس طلب کرکے متبادل طریقوں کا جائزہ لیا۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کجریوال کا کہنا ہیکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ساتھ چھیڑچھاڑ ایک آسان عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے 90 سکنڈ کیلئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین دیجئے میں مشین کا مدر بورڈ تبدیل کرکے دکھاوں گا گویا وہ پیپربیالٹ کے عمل کا احیاء کرنے پر بھی یہ کہیں گے کہ مجھے 90 سکنڈ کیلئے بیالٹ باکس دیجئے میں اپنے حق میں بیالٹ پیپر پر اسٹامپس لگالوں گا۔ انتخابات میں ناکام ہونے والی پارٹیوں کو شکایت کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی عذر ہوتا ہے اور کامیاب پارٹی اس طرح کے عذر کو تسلیم نہیں کرتی۔ ہندوستان میں انتخابات کو منصفانہ اور آزادانہ بنانے کیلئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو کامل اختیار دیا گیا ہے بلاشبہ الیکشن کمیشن اپنی اس ذمہ داری کو پوری دیانتداری اور اہلیت کے مظاہرہ کے ساتھ انجام دے رہا ہے۔ جہاں تک الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنے اور ایک پارٹی کے حق میں بٹن دبانے کی شکایت کو دور کرنے کیلئے اس کمیشن کے پاس کوئی حل طلب تجویز نہیں ہے البتہ کمیشن نے VVPAT (ووٹر کے تصدیق شدہ پیپر) کی آزمائشی کوشش کو لانے پر زور دیا ہے۔ کمیشن کے اجلاس میں شریک 7 قومی سیاسی پارٹیوں اور 35 ریاستی پارٹیوں کے نمائندوں کی بات پر غور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے ان کی تشویش کو دور کرنے پر غور کیا ہے مگر کمیشن انتخابی دھاندلیوں کی عام شکایات کو کس طرح دور کرسکے گا یہ ناقابل قیاس ہے کیونکہ ہر کامیاب پارٹی اپنی جیت کو حق بجانب اور ہر ناکام پارٹی کو اپنی ناکامی کی وجہ تلاش کرنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ مل ہی جاتا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT