Monday , September 25 2017
Home / اضلاع کی خبریں / غریبوں کو رہائشی اراضی سے مجوزہ بے دخل کی شدید مخالفت

غریبوں کو رہائشی اراضی سے مجوزہ بے دخل کی شدید مخالفت

عادل آباد /14 ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) سنہرے تلنگانہ کا خواب دیکھاکر اقتدار حاصل کرنے والے ٹی آر ایس قائدین عادل آباد کے غریب افراد کو رہائشی مکانات و رہاشئی اراضی فراہم کرنے کے بجائے دو سال قبل کانگریس کے دور میں مستقر عادل آباد کے سروے نمبر 170 میں 1400 افراد کو فراہم کردہ رہائشی اراضی سے بے دخل کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہے جس کے پیش نظر دو دن قبل آر ڈی او مسٹر سدھاکر ریڈی ، تحصیلدار مسٹر سبھاش چندر بوس کے تعاون سے زائد از 400 رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا جس پر اظہار افسوس کرتے ہوئے سابق ریاستی وزیر مسٹر سی رامچندر ریڈی نے متاثرہ افراد کو تیقن دیا کہ وہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوکر رہائشی پٹہ جات حاصل کردہ افراد کی بازآبادکاری کے علاوہ حکومتی نمائندوں کے اقدام سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دلانے کا بھی تیقن دیا ۔ موصوف مستقر عادل آباد کے دفتر ضلع کلکٹریٹ کے روبرو کل جماعتی دھرنا کے موقع پر خطاب کر رہے تھے ۔ قبل از بی جے پی قائد مسٹر پی شنکر نے اپنے خطاب میں دو دن قبل سرکاری عہدیادروں کی کارروائی پر سخت تنقید کریت ہوئے سروے نمبر 170 کے 1400 افراد کو تیقن دیا کہ وہ کل جماعتی اتحاد کے ذریعہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیام گاہ پر دھرنا منظم کرتے ہوئے انصاف کیلئے جدوجہد کریں گے ۔ تلگودیشم قائد مسٹر یونس اکبانی نے اپنے خطاب میں 1400 ضرورت مند افراد کو پٹہ جات جاری کرنے کے بعد ایم آر او کی جانب سے 194 افراد کو غیر مستحق قرار دینے پر سرکاری عہدیادروں کی خدمات کو شکوک بنایا اور کہا کہ ریاستی حکومت ریاست میں 23000 رہاشئی مکانات تعمیر کروانے کا تیقن دینے کے بعد تاہم ضلع میں کوئی تعمیراتی کا کا آغآز نہیں ہوا ۔ مسٹر سعید خان کانگریس قائد نے پانے خطاب میں کہا کہ کانگریس اندراماں اسکیم کے تحت ضرورت مند افراد میں ریاستی مکانات تعمیر کرنے کی غرض رہائشی اراضی فارہم کی تھی ۔ ضلع میناریٹی و ٹاون کمیٹی کانگریس صدر مسٹر ساجد خان نے اپنے خطاب میں سروے نمبر 170 میں رہائشی اراضی حاصل کردہ افراد سے خواہش کی کہ اپنی اپنی اراضی پر رہائشی مکانات تعمیر کرتے ہوئے گذر بسر کریں اور کسی بھی جماعت کے سیاسی قائد کو رقم ادا کرنے سے اجتناب کریں ۔ بغیر کسی معاوضہ کے تمام سرکاری کارروائی کرنے کا تیقن دیا ۔ اس موقع پر سروے نمبر 170 میں رہائشی مکانات منہدم سے متاثرہ خواتین نے بھی اشکبار ہوتے ہوئے بازآبادکاری کا مطالبہ کر رہی تھیں ۔ یومیہ محنت مزدوری کریت ہوئے بیواہ کی زندگی اپنے بچوں کے سہارے گذارنے والی خواتین اپنا پیٹ کاٹ کر ایک ایک روپیہ جما کرتے ہوئے حاصل شدہ رہائشی اراضی پر مکانات کی تعمیراتی کام گرام پنچایت سے اجازت ( جس کا معاوضہ پانچ ہزار روپئے ادا کرتے ہوئے ) حاصل کیا تھا ۔ آر ڈی او تحصیلدار کو پولیس کی مدد سے منہدم کرنے پر مقامی رکن اسمبلی و ریاستی وزیر مسٹر جوگو رامنا پر اظہار برہمی کر رہے تھے ۔ کل جماعتی احتجاج میں سینکڑوں مرد و خواتین نے حصہ لیا ۔ بعد ازاں قائدین نے کلکٹریٹ کانفرنس ہال پہونچکر جوائنٹ کلکٹر مسٹر ایس انبیر کو ایک تحریری یادداشت پیش کیا ۔ اس موقع پر شکیل احمد ، صابر احمد و دیگر افراد بھی موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT