Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / غریبوں کو مراعات ، سیما آندھرا قائدین کو ٹکٹ ، ٹی آر ایس کامیابی کی اصل وجہ

غریبوں کو مراعات ، سیما آندھرا قائدین کو ٹکٹ ، ٹی آر ایس کامیابی کی اصل وجہ

حکمراں پارٹی کو تلنگانہ میں دیرپا سیاسی فائدہ ، جملہ 43.85 فیصد ووٹ حاصل ، ووٹ فیصد میں تلگو دیشم کو تیسرا مقام
حیدرآباد ۔ 6 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں ٹی آر ایس کی شاندار کامیابی کی اصل وجہ غریبوں کو بے شمار مراعات کا اعلان ، سیما آندھرا کے متوطن افراد کو ٹی آر ایس ٹکٹ دینا ہے ۔ دیگر پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے اہم با اثر قائدین کو پارٹی صف میں شامل کرنے کی حکمت عملی بھی کارگر ثابت ہوئی ۔ حکمراں ٹی آر ایس نے تلنگانہ کی تاریخ میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے ۔ حیدرآباد کے 150 وارڈس میں 99 وارڈس پر اس کا قبصہ ہے ۔ ان نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹی آر ایس کو تلنگانہ میں دیرپا سیاسی فائدہ حاصل ہوگا ۔ اس نے 2009 میں جی ایچ ایم سی انتخابات میں حصہ نہ لے کر ایک طویل مدت تک انتخابی مہم چلا کر اپنے موقف کو مضبوط بنایا تھا ۔ جی ایچ ایم سی میں کامیابی سے ٹی آر ایس کو تلنگانہ کی سیاست میں طویل مدت تک قوت حاصل ہوگی ۔ اس کے علاوہ اسمبلی کی 24 نشستیں جی ایچ ایم سی حدود میں آتی ہیں ۔ اگر جی ایچ ایم سی میں ٹی آر ایس کو شدید دھکا پہونچتا تو اسے حکمرانی کی راہ میں مسائل اور مشکلات پیدا ہوتے ۔ جی ایچ ایم سی انتخابات سے عین قبل اپوزیشن پارٹیوں کے کئی اہم قائدین نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے غریبوں کے لیے جو اسکیمات تیار کی ہیں ان میں سب سے پرکشش اسکیم ڈبل بیڈ روم کے فلیٹس دینے کا وعدہ شامل ہے ۔ حکومت نے اس سلسلہ میں پہلا قدم اٹھاتے ہوئے شہر میں ایک رہائشی کالونی تعمیر کرنے کا وعدہ پورا کیا ۔ 2 فروری کے جی ایچ ایم سی انتخابات میں 45 فیصد رائے دہی ہوئی اور یہ ووٹ زیادہ تر غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے رائے دہندوں نے ڈالے تھے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کل ہی اپنی پارٹی کی شاندار کامیابی کا جشن مناتے ہوئے شہر میں آنے والے مہینوں میں ڈبل بیڈ رومس کے ایک لاکھ مکانات بنانے کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حیدرآباد میں ممبئی کی طرح بلا وقفہ برقی سربراہی کی جائے گی ۔ ان انتخابات میں ٹی آر ایس کو سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے ۔ اسے 14,68,618 یا 43.85 فیصد ووٹ ملے جب کہ مجلس کو 530,812 ووٹ 15.85 فیصد ، تلگو دیشم کو 439047 ووٹ ، 13.11 فیصد ، کانگریس کو 348388 ووٹ 10.40 فیصد ، بی جے پی 10.34 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ۔ بی ایس پی اور لوک ستہ کو 0.31 فیصد ووٹ ملے ۔ اس مرتبہ مجلس کے ووٹ فیصد میں 1.41 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ ان انتخابات میں سب سے زیادہ مایوسی تلگو دیشم جو ہوئی جس نے حیدرآباد کی ترقی کا سہرا اپنے سر باندھ کر انتخابی مہم چلائی تھی ۔۔

TOPPOPULARRECENT