Thursday , May 25 2017
Home / شہر کی خبریں / غریبوں کے دل میں جگہ بنانے چیف منسٹر کی کوشش

غریبوں کے دل میں جگہ بنانے چیف منسٹر کی کوشش

بیواؤں ، ضعیفوں اور معذورین کے آسرا پنشن کو نقد ادا کرنے کا فیصلہ

حیدرآباد۔/24نومبر( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ جنہوں نے کرنسی بحران میں عوامی مشکلات کی پرواہ کئے بغیر 40 کروڑ سے زائد کے خرچ پر اپنی نئی سرکاری قیامگاہ تعمیر کروالی تاہم اس سلسلہ میں ایک فیصلہ انہوں نے ایسا کیا جس کے تحت وہ غریبوں کے دل میں جگہ بنانا چاہتے ہیں۔ سرکاری ملازمین اگرچہ معاشی بحران کے سبب تنخواہوں کے سلسلہ میں پریشان ہیں تاہم چیف منسٹر نے سماج کے انتہائی غریب طبقہ کو خوش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت تلنگانہ میں بیواؤں، ضعیفوں اور معذورین کے آسرا پنشن نقد ادا کئے جائیں گے۔ گذشتہ دنوں تک حکومت کی جانب سے نومبر کے وظیفہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں مختلف اطلاعات گشت کررہی تھیں تاہم بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ آسرا پنشن تمام 35 لاکھ افراد کو نقد ادا کئے جائیں جس کے لئے 392 کروڑ روپئے درکار ہوں گے۔ چیف منسٹر اس فیصلہ کے ذریعہ ان بے سہارا افراد کی دعائیں حاصل کرنا چاہتے ہیں جو موجودہ بحران کی صورتحال میں پنشن کو لیکر فکر مند ہیں۔ چیف منسٹر پہلے ہی عالیشان محل نما سرکاری قیامگاہ کی تعمیر کیلئے اپوزیشن کے نشانہ پر ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آسرا پنشن سے متعلق فیصلہ کے ذریعہ وہ غریبوں کا دل جیتنا چاہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ آسرا پنشن کے 35 لاکھ استفادہ کنندگان کو ماہ نومبر کا وظیفہ نقد ادا کیا جائے۔ مرکز کی جانب سے 500اور1000 روپئے کے کرنسی نوٹ کی تنسیخ کے فیصلہ سے عوام پریشان تھے کہ حکومت کس طرح وظیفہ تقسیم کرے گی۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ متبادل کرنسی کا انتظام کریں اور ممکن ہو تو 500روپئے کی نئی کرنسی کے ذریعہ وظیفہ جاری کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے بینکوں میں کرنسی کی تبدیلی کے سلسلہ میں ضعیفوں اور معذور افراد کے گھنٹوں کھڑے ہونے کے واقعات پر دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے تمام ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی کہ وہ وظائف کی اجرائی کیلئے موثر انتظامات کریں۔ واضح رہے کہ ریاستی حکومت ہر ماہ بیواؤں، ضعیفوں، بافندوں، تاڑی تاسندوں کے وظیفہ کے طور پر ماہانہ 1000 روپئے جاری کرتی ہے جو ان کے پوسٹ آفس اکاونٹ میں جمع کیا جاتا ہے جبکہ معذورن کو ماہانہ 1500 روپئے وظیفہ جاری ہوتا ہے جو ان کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتا ہے ۔ اب جبکہ کرنسی کی تبدیلی اور ڈپازٹ کے سلسلہ میں بینک اور پوسٹ آفسوں پر طویل قطاریں دیکھی جارہی ہیں لہذا چیف منسٹر نے ضعیف اور معذورین کو اس مصیبت سے نجات دینے کیلئے نقد ادائیگی کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ میں ضعیف العمر وظیفہ استفادہ کنندگان کی تعداد 13 لاکھ 44 ہزار ہے جبکہ معذورین 4.53 لاکھ ، بیوا 13.20 لاکھ اور تقریباً ایک لاکھ تاڑی تاسندے اور بافندے شامل ہیں۔ سابق میں استفادہ کنندگان نے اکاؤنٹ میں جمع رقومات کو حاصل کرلیا اور انہیں 500اور 1000 کے کرنسی نوٹ کی تبدیلی میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق سوشیل سیکورٹی پنشن کے تحت 392 کروڑ روپئے درکار ہے۔ حکومت نے ریزرو بینک آف انڈیا سے خواہش کی ہے کہ وظائف کی تقسیم کیلئے 100 روپئے یا پھر 500 کی نئی کرنسی نوٹ کو مناسب مقدار میں سربراہ کریں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT