Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / غریبوں کے لیے مکانات ، کلکٹر آفس پر درخواست گزاروں کا ہجوم

غریبوں کے لیے مکانات ، کلکٹر آفس پر درخواست گزاروں کا ہجوم

دفتر سیاست میں خصوصی کاونٹر کا قیام ، اسکیمات اور اسکالر شپس کے لیے بھی رہبری و رہنمائی
حیدرآباد۔ 17 ۔ فروری (سیاست نیوز)  حکومت کی جانب سے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں غریبوں کیلئے ایک لاکھ مکانات کی تعمیر کے اعلان کے بعد درخواستوں کے ادخال کیلئے ضلع کلکٹرس کے دفاتر پر ہجوم دیکھا جارہا ہے۔ روزنامہ سیاست نے اس اسکیم سے استفادہ کیلئے غریب عوام کی رہنمائی کیلئے خصوصی ہیلپ لائین سنٹر قائم کیا ہے۔ جہاں درخواستوں کے ادخال اور درکار دستاویزات کے بارے میں رہنمائی کی جارہی ہے ۔ غریب مرد و خواتین کی کثیر تعداد نے دفتر سیاست پہنچ کر درخواستوں کے ادخال کے بارے میں معلومات حاصل کیں ۔ کئی غریب خاندانوں کو سیاست ہیلپ لائین سنٹر میں درخواست تیار کر کے حوالہ کیا گیا۔ حیدرآباد  اور رنگا ریڈی میں درخواستوں کے ادخال کیلئے کافی ہجوم دیکھا گیا اور خواتین قطار میں کھڑی ہوکر اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں۔ عوام نے شکایت کی کہ کلکٹر آفس میں غریب خاندانوں کی رہنمائی کیلئے کوئی عہدیدار دستیاب نہیں ہے۔ حکومت نے غریبوں کو ڈبل بیڈروم مکانات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سیاست ہیلپ لائین سنٹر سے اس اسکیم کے لئے رہنمائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس کے علاوہ حکومت کی قرض فراہمی اسکیم اور اسکالرشپ اسکیمات کیلئے بھی آن لائین درخواستوں کے ادخال کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

 

اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل کی رفتار سے حکومت کا عدم اطمینان
بجٹ خرچ کے جائزہ میں عہدیداروں کو مایوسی ، عہدیداروں میں تال میل کا فقدان
حیدرآباد۔ 17 ۔ فروری (سیاست نیوز)  تلنگانہ میں اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری کی موجودہ رفتار سے حکومت مطمئن نہیں ہے اور چیف منسٹر کے دفتر میں اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو اسکیمات پر موثر عمل آوری کے اقدامات کی ہدایت دی۔ بتایا جاتاہے کہ آئندہ سال کے بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے بجٹ کی تیاری کے مرحلہ میں عہدیداروں نے جب جاریہ سال کے بجٹ اور اس کے خرچ کا جائزہ لیا تو انہیں مایوسی ہوئی ہے۔ جاریہ سال مجموعی بجٹ 1150 کروڑ میں سے تقریباً 400 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آئندہ ایک ماہ میں مزید بجٹ جاری کئے جانے کا امکان ہے ۔ محکمہ فینانس کے عہدیداروں نے بتایا کہ بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں محکمہ جات سے درخواست کی وصولی کے ساتھ اسکیمات پر عمل آوری کی تفصیلات درکار ہوتی ہے۔ جس تیزی سے بجٹ خرچ کیا جائے ، اسی رفتار سے بجٹ بھی جاری ہوتا ہے۔ اسکیمات پر عمل آوری میں سست رفتاری کی اہم وجہ محکمہ کیلئے علحدہ وزیر کی کمی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اقلیتی بہبود کا قلمدان اپنے پاس رکھا ہے اور ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو محکمہ کی نگرانی کی ذمہ داری دی ہے۔ محکمہ کیلئے مستقل وزیر کی کمی کے باعث اقلیتی اداروں پر نگرانی اور انہیں جوابدہ بنانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں صورتحال  یہ ہے کہ اعلیٰ عہدیداروں میں کوئی تال میل نہیں۔ باہمی تال میل کی کمی کے نتیجہ میں اسکیمات پر اثر پڑ رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT