Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / غریب خاندانوں کو چھ کیلو چاول کی سربراہی کا وعدہ وفا نہ ہوسکا

غریب خاندانوں کو چھ کیلو چاول کی سربراہی کا وعدہ وفا نہ ہوسکا

شکر اور دال کی سربراہی بھی مختصر وقت میں مسدود ، بائیو میٹرک سسٹم اور عمل میں دھاندلیاں
حیدرآباد۔ 20۔ اپریل ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے غریب خاندانوں کو راشن کارڈ پر ہر فرد کے اعتبار سے 6کیلو چاول کی سربراہی کا اعلان کیا لیکن یہ اعلان محض کاغذ تک محدود دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت نے راشن کارڈ پر چاول کے علاوہ شکر اور دالوں کی سربراہی کا بھی اعلان کیا تھا لیکن یہ سلسلہ صرف مختصر عرصہ تک جاری رہا۔ محکمہ سیول سپلائیز نے حالیہ عرصہ میں بوگس راشن کارڈس کا پتہ چلانے کیلئے راشن شاپ پر بائیومیٹرک سسٹم متعارف کیا ، جس کے تحت راشن کارڈ کے حامل خاندان کا کوئی ایک فرد اپنے فنگر پرنٹ کو درج کرواتے ہوئے راشن حاصل کرسکتا ہے۔ اگرچہ یہ سہولت تمام راشن شاپ پر فراہم کی گئی تھی لیکن اس پر عمل آوری میں کئی دھاندلیاں دیکھی جارہی ہیں۔ ایک طرف حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ بائیو میٹرک سسٹم متعارف کرنے کے بعد سے رعایتی شرح پر سربراہ کئے جانے والے چاول کی بچت ہوئی ہے۔ عہدیداروں کا ماننا ہے کہ بوگس راشن کارڈ رکھنے والے افراد اس نئے سسٹم کے باعث راشن کے حصول سے گریز کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ راشن شاپ کے مالکین جان بوجھ کر عوام کو اس نئے سسٹم سے ڈراتے ہوئے چاول اور دیگر اشیاء کی اجرائی سے گریز کر رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت خود بھی اس نئے سسٹم کے ذریعہ چاول کی بچت  کرنا چاہتی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کو ہر فرد کو 6 کیلو کے حساب سے چاول سربراہ کرنے میں دشواری ہو تو پھر اس نے اسکیم کا اعلان کیوں کیا ؟ بظاہر عوام کو خوش کرنے کیلئے یہ اعلان کردیا گیا لیکن اب نئے سسٹم کے ذریعہ چاول کی بچت کی جارہی ہے۔ غریب عوام نے شکایت کی کہ راشن شاپس کے مالکین بائیومیٹرک سسٹم کی خرابی کا بہانہ بناکر انہیں راشن سے محروم کر رہے ہیں۔

 

جب بھی لوگ راشن شاپس سے رجوع ہوں تو ان سے کہا جارہا ہے کہ بائیو میٹرک سسٹم شٹ ڈاؤن ہے۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں روزانہ صبح کے اوقات میں دکانات کے روبرو مرد و خواتین کی طویل قطاریں دیکھی جارہی ہیں اور وہ بائیو میٹرک سسٹم کے کارکرد ہونے کے انتظار میں دھوپ کی شدت برداشت کرتے ہوئے راشن کی امید میں ٹھہرنے پر مجبور ہے۔ کئی راشن شاپ مالکین کے بارے میں عوام نے شکایت کی کہ وہ غیر مجاز طور پر راشن کی اشیاء بلیک کر رہے ہیں اور جان بوجھ کر غریبوں کو محروم رکھا گیا ہے۔ کئی مقامات پر سسٹم کارکرد ہونے کے باوجود کسی اور بہانے راشن کی اجرائی سے گریز کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض مواقع پر صدر خاندان کو لانے پر اصرار کیا جارہا ہے جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ وزیر سیول سپلائیز ای راجندر کو چاہئے کہ فوری اس مسئلہ کا جائزہ لیں اور غریبوں کو چاول اور دیگر اشیاء کی سربراہی کو یقینی بنائیں۔ کئی غریب خاندانوں نے دفتر سیاست پہنچ کر اس بات کی شکایت کی کہ دھوپ میں کھڑے رہنے کے باوجود انہیں راشن کے بغیر ہی واپس کردیا گیا۔ حکومت کو اس نئے سسٹم کی برخواستگی کا فیصلہ کرنا چاہئے کیونکہ یہ سسٹم غریبوں کے خلاف اور راشن شاپ مالکین کے حق میں دکھائی دے رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT