Tuesday , September 19 2017
Home / Top Stories / غریب قلی کا بیٹا، 100 کروڑ روپئے کی کمپنی کا مالک

غریب قلی کا بیٹا، 100 کروڑ روپئے کی کمپنی کا مالک

چھٹویں جماعت میں ناکامی کے بعد مزدوری،لیکن ٹیچر کی ترغیب پر تعلیم، ہر قدم پر کامیابی

تھرواننتا پورم ۔ 21 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) قمست اور دولت کسی کی میراث نہیں ہوتی اور سچی لگن کے ساتھ عزم و محنت کسی بھی انسان کی ناقابل یقین حد تک ترقی کی بلندی پر پہونچا سکتی ہے۔ اس حقیقت کی بے شمار مثالوں کی طویل فہرست میں کیرالا کیایک غریب و پسماندہ گاؤں ویاناڈ کے ایک قلی کا 42 سالہ ہونہار بیٹا پی سی مصطفی ایک مثالی اضافہ ہے، جس نے بچپن سے محنت اور تعلیم کے ذریعہ ترقی کرتے ہوئے اپنے چھوٹے سے کاروبار کو 100 کر وڑ روپئے کی مشہور کمپنی آئی ڈی (اڈلی۔دوسہ) میں تبدیل کردیا اور آئندہ پانچ سال کے دوران اس کمپنی کی مالیت 1000 کروڑ روپئے تک پہونچانے کا عزم بھی رکھتے ہیں جو ان کے ماضی کے ریکارڈ کے پیش نظر ان کیلئے کوئی مشکل کام بھی نہیں ہے۔ پی سی مصطفی ایک ایسے کامیاب نوجوان کا نام ہے جس کا باپ ایک غریب قلی تھا اور ماں کبھی اسکول میں داخل ہی نہیں ہو سکیتھیں اور وہ خودبھی کئی مرتبہ چھٹویں جماعت میں ناکامی کے بعد تعلیم ترک کرتے ہوئے حمالی و مزدوری کے کام میں مدد کرنے لگا تھا ۔ تاہم اس کے ایک ٹیچر میتھیوز نے گویا اس کی زندگی بدل دی۔ پی سی مصطفی نے کئی نشیب و فراز پر مبنی اپنی زندگی کی انوکھی داستان بیان کرتے ہوئے کہا کہ چھٹویں جماعت میں ناکامی کے بعد تعلیم ترک کرتے ہوئے قلی بن جاناچاہتاتھا ۔ مصطفی نے کہاکہ ’’میری اس کامیابی کیلئے میں ریاضی کے متھیوز سر کا مشکور ہوں جنہوں نے میری زندگی بدل دی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ میتھیوز سر نے ان سے سوال کیا کہ آیا وہ قلی بننا چاہتے ہیں یا ٹیچر جس پر مصطفی نے اپنے غریب پریشان حال والد اور استاد میتھیوز کے درمیان فرق محسوس کرتے ہوئے فوراً فیصلہ کرلیا کہ ’’مجھے قلی نہیں بلکہ میتھیوز سر کی طرح ٹیچر بننا ہے ‘‘۔ سچی لگن جستجو  عزم و حوصلہ پر مبنی یہ فیصلہکرلینے کے بعد یا نویں جماعت کے امتحان میں بدرجہ اول کامیابی حاصل کی اور پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دے ک ھا ۔ اس طرح زندگی کے ہر قدم پر کامیابی مصطفی کے قدم چومتی رہی ۔ بچپن میں چھٹویں جماعت میں ناکام یہ لڑکا سخت محنت و  مشقت سے تعلیم جاری رکھتے ہوئے این آئی ٹی کالی کٹ اور آئی آئی ایم نیلولر جیسے باوقار اداروں سے امتیازی کامیابی حاصل کی ۔ بعد ازاں 1995 ء میں امریکی کالجوں سے گریجویشن کیا ۔ علاوہ ازیں آئرلینڈ میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔ دبئی میں ایک طول عرصہ تک ملازمت و قیام کے بعد بالآخر 2003 ء میں مصطفیٰ نے اپنے گاؤں واپس ہونے کا فیصلہ کیا جہاں انہوں نے اپنے والدین کیلئے ایک گھر بھی تعمیر کیا ۔ بعد ازاں وہ کوئی کاروبار شروع کرنا چہتے تھے کہ انہیں اڈلی دوسہ بنانے کا منصوبہ پسند آیا ۔ چھوٹے پیمانہ پر کاروبار کا آغاز ہوا۔ پہلے مہینہ میں صرف 400 روپئے کا فائدہ ہوا ۔پہلے 9 مہینوں تک ہم روز 100 پیکٹس فروخت کرتے رہیلیکن آج یومیہ 50,000 پیکٹس فروخت کر رہے ہیں۔ چند لاکھ روپئے کا یہ کاروبار آج 100 کر وڑ روپئے کی کمپنی میں تبدیل ہوچکا ہے جس میں مصطفی کو اپنی بیوی اور چچا زاد بھائی کا غیر معمولی تعاون حاصل رہا۔

TOPPOPULARRECENT