Saturday , September 23 2017
Home / مضامین / غریب مسلمان ہی نہیں اور بھی ہیں … لیکن

غریب مسلمان ہی نہیں اور بھی ہیں … لیکن

 

محمد مصطفیٰ علی سروری
نواب صاحب کنٹہ کی رہنے والی سعید النساء نامی خاتون 16 اگست 2017 ء کو فلک نما پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوکر ایک ایسی شکایت درج کرواتی ہے کہ سننے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ سعید النساء نے اپنے شوہر نند اور نندوئی پر الزام عائد کیا کہ ان لوگوں نے اس کی 16 سال کی کم عمر لڑکی کو 5 لاکھ روپئے لیکر ایک عمانی شیخ کے ساتھ شادی کے بندھن میں باندھ دیا ہے ۔ اس خاتون کے حوالے سے اخبار ٹائمز آف انڈیا نے لکھا کہ اب لڑکی نے فون کر کے ماں کو بتلایا کہ عمانی شیخ اس کو ہراساں کر رہا ہے اور حیدرآباد واپس بھیجنے کیلئے 5 لاکھ کی رقم واپس کر نے کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ سعید النساء نے پولیس کو مز ید بتلایا کہ وہ اپنی لڑکی کی جلد شادی کی خواہش مند نہیں تھی لیکن اس کے نند و نندوئی نے اس کو یقین دلایا تھا کہ شادی کے بعد ان کی لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ خوشگوار زندگی گزارے گی ۔ این ڈی ٹی وی انڈیا کی رپورٹ کے مطابق لڑکی نے حال ہی میں عمان سے فون کرکے اپنے گھر والوں کو بتلایا کہ شیخ اس کو ہراساں کر رہا ہے اور اگر اس کو واپس انڈیا نہیں بلایا جاتا ہے تو وہ مرجائے گی ۔

میڈیا میں جس طرح سے Hotcake کی طرح کم عمر حیدرآبادی لڑکی کی ا یک بوڑھے شیخ کے ساتھ شادی کو پیش کیا گیا وہ کوئی نئی بات ہے۔ میڈیا کی ہی اطلاعات کے مطابق رمضان المبارک کے فوری بعد جب عمان کا شیخ حیدرآباد آیا تو اس وقت 16 سالہ لڑکی کی شادی شیخ کے ساتھ کردی گئی ۔ چار دن حیدرآباد میں رہنے کے بعد شیخ عمان واپس چلا گیا اور جلد ہی اس کی کم عمر بیوی کو 21 سال کا بتلاکر نہ صرف پاسپورٹ بنوایا گیا بلکہ عمان جانے کے سارے انتظامات بھی کئے گئے۔ کم عمر لڑکی عمان جانے کے بعد بھی بظاہر حالات ٹھیک ٹھاک نظر آتے ہیں مگر خبروں کے ہجوم میں اخبار انڈین اکسپریس نے بھی ایک خبر شائع کی تھی ۔ اخبار نے پو لیس کے حوالے سے خبر دی کہ 16 سالہ کم عمر لڑکی کی ایک معمر شیخ کے ساتھ شادی کا معاملہ خبر ہی نہیں بنتا لیکن ایسا لگتا ہے کہ سعید النساء اور اس کے نندوئی (جس نے بچی کا رشتہ لگایا ) کے درمیان پیسوں کی تقسیم کو لیکر تنازعہ پیدا ہوگیا اور رقم کی تقسیم کو لیکر جھگڑے کے سبب ہی یہ معاملہ پولیس تک پہونچ گیا ۔ صرف پولیس ہی نہیں میڈیا اور مرکزی وزیر منیکا گاندھی نے بھی اس شادی کی خبر پر اپنی تشویش کا اظہار اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
شہر حیدرآباد میں یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب کوئی اس طرح کی ایک کم عمر لڑکی کا کسی بڑی عمر کے شیخ کے ساتھ نکاح کا معاملہ سامنے آیا ہے ، ہر واقعہ کے بعد ہمارا وہی ردعمل کہ ایک مذمتی بیان دے دیا جائے اور غریب سلم علاقوں میں رہنے والوں کا مسئلہ ہے کہہ کر نظرانداز کردیا جائے گا ۔
حالیہ عرصہ میں جس خاتون نے اپنی لڑ کی کی عرب شیخ کے ساتھ شادی کی شکایت درج کروائی ہے ، اُس معا ملے پر بھی یہ کہہ دینا بڑا آسان ہے کہ دین سے دوری اور غریبی ان مسائل کا سبب ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک ماں اپنی لڑکی کی شادی ایک بوڑھے شیخ سے کردینے کے لئے رضامند ہوجاتی ہے ۔ نلینجنا رائے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشیل سائنس میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، وہ لکھتی ہیں کہ عرب شیوخ کے ساتھ حیدرآبادی لڑکیوں کی شادی ہو یا مختصر مدتی شادیاں ان میں شادی کرنے والے خاندانوں کو مورد الزام ٹھہرانا بڑا آسان ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ حیدرآباد میں ایسی شادیاں کرنے والے بیشتر خاندان جہیز کا بوجھ نہیں اٹھاسکتے اور ان کا یہی پس منظر انہیں آسانی سے عرب شیوخ سے شادیوں کے لئے آمادہ کردیتا ہے ۔ (بحوالہ Short Term relationship )

1991 ء میں 10 سالہ حیدرآبادی لڑکی آمینہ کی ایک 60 سالہ عرب شیخ کے ساتھ شادی کا واقعہ وقت کے ساتھ لوگوں کے ذہنوں سے نکل گیا لیکن اس کے بعد بھی آئے دن اس طرح کے واقعات میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ لوگ چند دن بعد اس کو بھی بھلا دیتے ہیں۔ مندرجہ بالا سعیدالنساء نامی خاتون کے معاملے کو سامنے رکھ کر اگر ہم تجزیہ کریں تو پتہ چلے گا واقعی اگر غریب کے ہاں لڑ کی ہو اور وہ شادی کی عمر کو پہونچ جائے تو ماں باپ پر کس طرح کا دباؤ پڑتا ہے ۔ صرف غریب ہی نہیں ہر اس گھر میں جہاں لڑکی بڑی ہوجاتی ہے اور شادی کی عمر کو پہونچتی ہے والدین اوراس کے عزیزوں کی پریشانی قابل دید ہوجاتی ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ حیدرآباد کے مسلمان بھی اپنی لڑکیوں کی شادی کیلئے بالکل ویسے ہی پریشان رہنے لگے جیسے کہ دیگر برادران وطن رہتے ہیں۔ حالانکہ دین اسلام نے تو نکاح کو آسان بناتے ہوئے مسلم لڑکیوں کی شادیوں کو بہت سہل بنادیا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم مسلمان دین اسلام سے زیادہ اپنے برادران وطن کی تہذیب و تمدن اور عادت و اطوار سے قریب ہیں۔ ذرا دیکھئے کیا غربت صرف مسلمانوں تک ہی محدود ہے ؟ نہیں ایسا تو نہیں پھر کیا دیگر اقوام بھی اپنی لڑکیوں کی شادیاں پیسے لیکر بوڑھوں سے کردیتے ہیں ؟ لیکن ایسی کوئی خبر ہماری نظروں سے نہیں گزرتی ۔ خبروں کی بات آتی تو عرض کرتا چلوں کہ غریبی تو غیر مسلموں میں بھی ہے اور غریب غیر مسلم اپنی لڑکیوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا ہے ۔ یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔
نیتو شرما کی عمر 19 سال ہے۔ اس کی چار بہنیں اور ایک بھائی ہے ۔ اس کے والد اتنے غریب ہیں کہ وہ اپنی بچیوں کو تعلیم بھی نہیں دلواسکتے ۔ وہ آٹھویں کلاس میں تھی اس کے والد نے کہہ دیا کہ وہ آگے تعلیم نہیں حاصل کرسکتی ہے کیونکہ نیتو شرما کے والد تیواری لعل شرما کے ہاں پیسے نہیں تھے لیکن نیتو نے فیصلہ کیا وہ اپنی آگے کی تعلیم جاری رکھے گی ۔ نیتو اب ہر روز صبح 4 بجے بیدار ہوتی ہے اور موٹر سائیکل چلاکر ایک قریبی گاؤں کا سفر کرتی ہے جہاں سے وہ کسانوں سے دودھ خریدتی ہے اورا پنے شہر بھرت پور میں لاکر لوگوں کو ان کے گھروں پر دودھ سربراہ کر کے پیسے کماتی ہے۔ صبح 10 بجے تک لوگوں کو دودھ سپلائی کرنے کے بعد نیتو راجستھان حکومت کی جانب سے دی جانے والی کمپیوٹر ٹریننگ کی کلاسس میں شریک رہتی ہے ۔ ایک لیٹر دودھ فروخت کر کے نیتو کو 5 روپئے ملتے ہیں۔ روزانہ صبح میں 60 لیٹر اور شام میں 30 لیٹر دودھ فروخت کرتی ہے اور گاڑی کے پٹرول کا خرچہ نکالنے کے بعد بھی وہ ماہانہ 12 ہزار ر وپئے کما لیتی ہے ۔ اب وہ بی اے سکنڈ ایئر میں ہے ۔ آگ چل کر وہ بی ایڈ کا کورس کر کے ایک ٹیچر بننا چاہتی ہے ۔ نیتو کی دو بہنوں کی شادی ہوچکی ہے ، ایک بہن رادھا کرانہ کی دکان پر بیٹھتی ہے ، چوتھی بہن نیتو کے ساتھ دودھ کا کاروبار کرتی ہے اور اس کا چھوٹا بھائی ا بھی 10 ویں کلاس میں پڑھ رہا ہے ۔ (بحوالہ 17 اگست 2017 ء ہندوستان ٹائمز) خبروں کے ہجوم میں ایک خبر انیلا جیوتی ریڈی کی بھی پڑھنے کو ملی ۔ جیوتی کے والدین بہت غریب تھے ، ان کے ہاں اپنے بچوں کی پرورش کے لئے پیسے نہیں تھے ، ان لوگوں نے جیوتی اور اس کی بہن کو ایک یتیم خانہ میں داخل کروا دیا ۔ اپنے والدین کے زندہ رہتے ہوئے بھی یہ لڑکیاں یتیم خانے میں رہی اور وہیں پانچویں کلاس سے دسویں کلاس تک تعلیم حاصل کی ۔ 16 سال کی عمر میں جیوتی کی شادی کردی گئی ، اس کا شوہر ایک کسان تھا وہ بھی اگریکلچر لیبر کے طور پر کام کر کے روزانہ 5 روپئے کماتی تھی ۔
جیوتی غریب ضرور پیدا ہوئی تھی لیکن وہ غریب رہنا نہیں چاہتی تھی ۔ 18 سال کی عمر میں جیوتی دو لڑکیوں کی ماں بن چکی تھی ۔ اپنی بچیوں کو انگلش میڈیم پڑھانے کی خواہش تو ضرور تھی مگر جیوتی کے ہاں بجٹ نہیں تھا کہ وہ ہر ماہ 25 روپئے انگلش میڈیم اسکول کی فیس ادا کرسکے ۔ مجبوراً اس کی لڑکیاں تلگو میڈیم کے سرکاری اسکول میں پڑھنے لگی ۔ جیوتی کو ایک ایسے اسکول میں پڑ ھنے کا موقع ملا جو کام کرنے والی عورتوں کیلئے رات میں کام کرتا تھا جلد ہی جیوتی نے اسکول میں پڑھانا شروع کیا اور اس اسکول کی ٹیچر بن گئی ۔ تعلیم سے دلچسپی تو تھی ہی کسی طرح اس نے امبیڈکر اوپن یونیورسٹی سے ووکیشنل کورس کیا اور باضابطہ ٹیچر بن کر 1994-95 کے دوران 5 ہزار کی تنخواہ حاصل کرنے لگی ۔ ساتھی ٹیچرس کے ساتھ چٹھی ڈال کر وہ 25 ہزار تک کمانے لگی تھی اور کسی نے بتلایا کہ امریکہ کی سرزمین اس جیسی محنتی لڑکیوں کے لئے جنت ہے تو جیوتی نے امریکہ جانے کی ٹھان لی ۔ اپنی کمزور انگلش کی صلاحیتوں کے باوجود جیوتی نے امریکہ جاکر سیلس گرل سے لے کر گیس اسٹیشن پر ہر جگہ کام کیا اور بالآخر خود کی ا پنی کمپنی شروع کی اور آج اپنے اس شوہر کے ساتھ جس کے ساتھ والدین نے شادی کی تھی جیوتی خوشگوار زندگی گزار رہی ہے (بحوالہ ریڈف ڈاٹ کام 2015 )

غریبی کے دلدل میںپھنسے مسلمان ہوں یا غیر مسلم پیسے کمانا ان کی مشترکہ ترجیح ہے لیکن مسلمان اپنی لڑکیوں کو شیخ کے ساتھ بیاہ کر پیسے کمانا چاہتاہے اور غیر اپنے بچیوں کو پڑھانے کی ترغیب دیتا ہے ۔ پھر چاہے وہ تیواری لعل کی لڑکیاں ہوں جو دودھ بیچ کر تعلیم حاصل کر رہی ہیں یا ورنگل کی جیوتی کی کہانی یہ تو اتنی غریب لڑکی کہ اس کے باپ نے جھوٹ کہہ کر اس کو یتیم خانہ میں شریک کر وادیا تھا ، حالانکہ جیوتی کی شادی بھی 16 برس کی عمر میں ہوچکی تھی لیکن جیوتی نے نہ تو شوہر کو چھوڑا اور نہ تعلیم سے دلچسپی ، یہاں تک کہ امریکہ جاکر اپنی خود کی کمپنی کھول لی ۔ صرف غریب مسلمان ہی نہیں بلکہ مسلم سماج کے ہر فرد کیلئے لمحہ فکر یہ ہے کہ ہم ہندوستان میں رہتے ہیں۔ اسلام پر عمل پیرا ہیں یا نہیں اسلام نے تو نکاح کو جہیز و لین دین سے پاک بالکل سادہ ترین بنایا ہے ۔ مگر عملی طور پر مسلم سماج میں ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا، ایسے میں غریب مسلمان ہی پیسے کے لالچ میں اپنی لڑکیوں کو عرب شیوخ کے ساتھ بیاہ دیں تو میں کس منہ سے ان کو برا بول سکتا ہوں۔ کیونکہ اسلام نے نکاح کو آسان بنانے کا جو سبق دیا تھا اس پر میں بھی تو عمل پیرا نہیں۔ غریب مسلمان ہی نہیں ہندو بھی ہیں مگر غریب ہندو تعلیم کو ترجیح دے رہا ہے اور مسلمان بس اشادی کی فکر کر رہا ہے ۔ خدایا تو ہم سب پر رحم فرما اور ہمیں کامیابی کے راستے پہ چلادے ۔ آمین۔
[email protected]

Top Stories

TOPPOPULARRECENT