Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / غریب معمولی قرض سے محروم‘ کارپوریٹس کو لاکھوںکروڑ کے قرض

غریب معمولی قرض سے محروم‘ کارپوریٹس کو لاکھوںکروڑ کے قرض

حیدرآباد۔ 21 مارچ (سیاست نیوز) ہندوستانی عوام جو اب بھی دال، چاول اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے سبب مختلف مسائل کا شکار ہیں اور مہنگائی سے نمٹنے کیلئے بسا اوقات قرضے حاصل کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ غریب عوام کا مضحکہ قومی سطح پر موجود کئی ایسی کمپنیاں اُڑا رہی ہیں جو لاکھوں کروڑ روپئے کی عوامی دولت بطور قرض حاصل کرتے ہوئے اقتدار کی گلیاریوں کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنے میں مصروف ہیں۔بیرونی ممالک میں پوشیدہ ہندوستانی کالا دھن واپس لانے کا وعدہ کرنیوالے اب ہندوستانی دھن کا غبن کرنے والوں کو بحفاظت بیرون ملک بھیجنے لگے ہیں۔ کنگ فشر ایر لائینز و شراب کے تاجر وجئے مالیا کی جانب سے ہزاروں کروڑ روپئے کے غبن کے بعد سوشیل میڈیا پر اب ایسی کمپنیوں کے نام تیزی سے گشت کررہے ہیں جو لاکھوں کروڑ روپئے بطور قرض حاصل کرتے ہوئے اپنی تجارت کو بڑھاوا دینے میں مصروف ہیں۔ یہ کمپنیاں جو لاکھوں کروڑ روپئے کی مقروض ہیں ، ان کے مالکین دُنیا کے متمول ترین افراد کی فہرست میں شامل ہونے لگے ہیں اور اپنی دولت کے سبب وہ ہندوستان کے نہ صرف باعزت شہری تصور کئے جاتے ہیں بلکہ انہیں ہندوستان میں غریب عوام کو روزگار فراہم کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ انیل امبانی کی کمپنی 1,25,000/- کروڑ روپئے کی مقروض ہے جبکہ ویدانتا گروپ 1,03,000 کروڑ روپئے کے بقایہ جات ادا شدنی ہیں۔ ایسار گروپ 1,01,000 کروڑ روپئے مختلف بینکوں کو ادا کرنا ہے۔ اسی طرح برسراقتدار جماعت کے قریبی تصور کئے جانے والے اڈانی گروپ کو بینکوں نے تاحال 96,000 کروڑ روپئے بطور قرض فراہم کئے جو ادا شدنی ہیں۔ جے پی گروپ 75,000 کروڑ روپئے کا مقروض بتایا جاتا ہے اور جے ایس ڈبلیو گروپ 58,000 کروڑ روپئے بینکوں کو ادا شدنی ہے۔ جی ایم آر گروپ 48,000 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کئے ہوئے ہے اور لینکو گروپ تاحال 47,000 کروڑ روپئے کا قرض مختلف اداروں سے حاصل کیا ہے۔ ویڈیوکان گروپ 45,000 کروڑ روپئے کا مقروض بتایا جاتا ہے جبکہ جی وی کے گروپ کی جانب سے مختلف بینکوں و اداروں سے 34,000 کروڑ روپئے بطورِ قرض حاصل کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ سوشیل میڈیا پر گشت کررہی اطلاعات بڑی حد تک مصدقہ ہیں۔ ملک کی ان انتہائی معروف کمپنیوں کی جانب سے لاکھوں کروڑ روپئے کے قرضہ جات حاصل کئے جانے کے باوجود یہ کمپنیاں اور ان کے مالکین معتبر اور معززین کی فہرست میں شمار کئے جاتے ہیں جبکہ ہندوستانی سماج میں مقروض افراد کو انتہائی حقارت سے دیکھا جاتا ہے جبکہ عام آدمی بحالتِ مجبوری سودی قرض کی لعنت میں مبتلا ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT