Sunday , August 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم

مولانا محمد ناصر خاں چشتی

حق و باطل، خیر و شر، ہدایت و ضلالت اور اسلام و کفر کے مابین ہزاروں معرکے برپا ہوئے اور قیامت تک ہوتے رہیں گے۔ لاکھوں شہادتیں ہوئیں اور ہزاروں انقلابات آئے اور خصوصاً اسلام کا اولین دور تو لاتعداد اور عظیم الشان شہادتوں سے لبریز ہے، تاہم یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ آج تک کسی معرکے اور کسی کی شہادت کو اس قدر شہرت و مقبولیت اور عالمگیر تذکرہ نصیب نہیں ہوسکا، جتنا کہ نواسہ رسول جگر گوشہ بتول فرزند علی مرتضیٰ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو شہرت و مقبولیت اور عالمگیر تذکرہ نصیب ہوا ہے۔ طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی شہادت حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تذکرہ زندہ و تابندہ ہے۔ اس کی عالمگیر شہرت اور تذکرے میں آج تک کوئی کمی نہیں ہوئی، بلکہ یہ اور زیادہ پھیلتا اور پھولتا جا رہا ہے، یہاں تک کہ حسینیت ہر دور اور ہر طبقے میں حق و صواب اور یزیدیت باطل کی علامت بن گئی ہے۔
قمری سال کا آغاز ماہ محرم الحرام سے اور اختتام ماہ ذی الحجہ پر ہوتا ہے۔ ۱۰؍ محرم الحرام کو حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت و قربانی اور ۱۰؍ ذی الحجہ کو حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی قربانی ہے۔ معلوم ہوا کہ اسلام ابتداء سے انتہاء تک قربانیوں کا نام ہے، گویا ایک مسلمان کی تمام زندگی ایثار و قربانی سے عبارت ہے۔ بقول ڈاکٹر اقبال:
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسین ، ابتداء ہے اسماعیل
ماہِ ذی الحجہ ہمارے سامنے حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے عشق الہٰی کا بے پناہ جذبہ اور حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی آرزوئے شہادت کا نقشہ پیش کرتا ہے، جب کہ محرم الحرام کا مہینہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی جانب دعوت دیتا ہے۔ محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف اپنی جان بلکہ اپنے جگر گوشوں، بھائیوں، عزیزوں، رشتہ داروں اور اپنے احباب کی گردنیں دینِ حق کی سربلندی، اعلائے کلمۃ الحق، ظلم و ستم کے مٹانے کے لئے اور ناموس اسلام اور حق و صداقت کی خاطر اپنے مالک و مولا کی بارگاہ میں پزیرائی کے لئے کٹا دیتے ہیں۔ یہ تاریخ انسانیت کی بہت بڑی قربانی ہے، جو ماہِ محرم الحرام میں دشت کربلا میں پیش آئی۔

حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا واقعہ کوئی شخصی یا انفرادی واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ چمنستان نبوی کے پورے گلشن (خاندان) کی شہادت کا واقعہ ہے، اس کا تعلق اسلام کی اصل حقیقت سے ہے، دین و ملت کی اصل روح اور بنیاد سے ہے۔ یعنی اس کا تعلق اس حقیقت اور اس روح سے ہے، جس کی ابتداء حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی ذات سے ہوئی اور نواسۂ رسول حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میدانِ کربلا میں اپنی قربانی سے اس کی تکمیل کردی۔ اس لئے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا واقعہ کئی اعتبار سے دیگر تمام شہادتوں سے ممتاز اور منفرد ہے۔ اس کی انفرادیت کی ایک وجہ یہ ہے کہ آپ خانوادۂ رسول کے چشم و چراغ ہیں۔ پھر یہ کہ اس میں شہید ہونے والوں کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص نسبتیں ہیں۔ پھر یہ کہ یہ داستانِ شہادت گلشن نبوی کے کسی ایک پھول پر مشتمل نہیں، بلکہ یہ سارے گلشن کی قربانی ہے۔
حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت بے مثل و بے مثال ہے، کیونکہ آپ جیسی مصیبتیں کسی دوسرے شہید نے نہیں اُٹھائیں۔ آپ کے تمام احباب ، عزیز و اقارب اور اہل و عیال بھی بھوکے پیاسے تھے اور خاص طورپر چھوٹے چھوٹے بچے پانی کے لئے تڑپ رہے تھے۔ یہ آپ کے لئے اور زیادہ تکلیف کی بات تھی، کیونکہ انسان اپنی بھوک و پیاس تو کسی طرح برداشت کرلیتا ہے، لیکن اپنے اہل و عیال اور خصوصاً کمسن اور شیرخوار بچوں کی بھوک و پیاس برداشت سے باہر ہوتی ہے۔ پھر پانی کا وجود نہ ہو تو پیاس کی تکلیف کم محسوس ہوتی ہے، لیکن جب پانی کی بہتات اور فراوانی ہو اور جسے عام لوگ ہر طرح سے استعمال کر رہے ہوں، حتیٰ کہ جانور بھی سیراب ہو رہے ہوں، مگر کوئی شخص اپنے اہل و عیال اور اپنے احباب سمیت تین دن سے بھوکا پیاسا ہو اور اسے وہ پانی نہ پینے دیا جائے تو یہ اس کے لئے زیادہ تکلیف و آزمائش کی بات ہے۔ دشتِ کربلا میں بالکل یہی نقشہ تھا کہ عام آدمی اور جانور تو دریائے فرات سے سیراب ہو رہے تھے، مگر حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے تمام احباب و رفقاء پر پانی بند کردیا گیا تھا، یہاں تک کہ آپ اپنے بیماروں اور کمسن بچوں کو بھی پانی کا ایک قطرہ نہیں پلا سکتے تھے۔
حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کربلا کے تپتے ہوئے صحرا میں، قیامت خیز گرمی اور چلچلاتی دھوپ میں بھوکے پیاسے رہ کر اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و اطاعت میں سرشار ہوکر اپنے عزیز و اقارب اور اپنے احباب سمیت توحید و رسالت اور دینِ حق کی سربلندی و بقاء کے لئے، اعلائے کلمۃ الحق اور حق گوئی و سچائی کی خاطر اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیا۔

TOPPOPULARRECENT