Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / غزہ پر اسرائیلی حملہ ‘ دو فلسطینی ہلاک‘ بے چینی میں اضافہ

غزہ پر اسرائیلی حملہ ‘ دو فلسطینی ہلاک‘ بے چینی میں اضافہ

GAZA, OCT 11 :- A wounded Palestinian boy and his father hold hands at a hospital after their house was brought down by an Israeli air strike in Gaza early on October 11, 2015. RREUTERS/ UNI PHOTO-3R

نتن یاہو اورمحمود عباس کی باہمی الزام تراشی ‘ اسرائیلی فوج کے ساتھ فلسطینیوں کی جھڑپیں ‘ کشیدگی میں اضافہ
غزہ سٹی ۔ 11اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک حاملہ فلسطینی ماں اور اس کی ننھی بیٹی اسرائیل کے غزہ کے فضائی حملہ میں ہلاک ہوگئے جب کہ اسرائیلی اور فلسطینیوں میں تشدد  کے بے قابو ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ۔ 30سالہ نور حسن اور اس کی بیٹی دو سالہ رہاف حسن اپنے مکان میں جو شمالی غزہ پٹی میں سیکٹر زیتون میں ہیں ہلاک ہوگئے ۔ جب کہ اُن کے مکان کو اسرائیلی حملہ میں منہدم کردیا گیا ۔ طبی عملہ کے بموجب دیگر تین افراد ملبہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس نے حماس کے دو اسلحہ ساز کارخانوں کو حملہ کا نشانہ بنایا تھا ۔ کیونکہ کل اسرائیل پر کم از کم دو راکٹ حملے کئے گئے تھے ۔ علاوہ ازیں فلسطینیوں نے پُرتشدد انداز میں اسرائیل میں غزہ پٹی سے داخل ہونے کی کوشش کی تھی ۔ ایک راکٹ  جنوبی اسرائیل کے ایک کھلے میدان میں گرا اوردوسرے کو روک دیا گیا جب کہ 9فلسطینی اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ سرحد پر جھڑپوں میںہلاک ہوگئے ۔ وزیراعظم بنجامن نتن یاہو اور صدر محمود عباس نے کشیدگی میں اضافہ سے گریز کی خواہش کی ہے ۔ مایوس فلسطینی نوجوان سکون بحال کرنے کی کوششوں میں مزاحمت کررہے ہیں ۔ چاقو زنی کی ایک لہر سے پورے اسرائیل میں خوف پیدا ہوگیا ہے ۔ غزہ پٹی گذشتہ ہفتہ کی دیگر مقامات پر بے چینی کے دوران بحیثیت مجموعی پُرسکون رہا تھا لیکن حالیہ جھڑپیں راکٹ حملے اور فضائی حملے اس خوف میں اضافہ کررہے ہیں کہ وسیع تر فلسطینی بغاوت یا انتفادہ پھوٹ پڑسکتا ہے ۔

جمعہ کے دن سرحد پر اُس وقت جھڑپیں ہوئیں جب کہ حماس کے سربراہ اسمعیل ھنیہ نے غزہ میں بحیثیت مجموعی پُرتشدد انتفادہ کے آغاز کی اپیل کی اور پُرزور انداز میں مزید بے چینی کا اشارہ دیا ۔ حماس غزہ پر حکمراں ہے لیکن اس میں مغربی کنارہ کی فتح حمایت یافتہ محمود عباس کی حکومت سے گہرا اختلاف پایا جاتا ہے ۔ محمود عباس اور وزیراعظم اسرائیل نتن یاہو نے دریں اثناء وزیرخارجہ امریکہ جان کیری سے بات چیت کی ۔ ہر ایک صورتحال کا دوسرے کو ذمہ دار قرار دے رہا تھا ۔ نتن یاہو نے کہا کہ اُس نے کیری سے کہہ دیا ہے کہ اسے توقع ہے کہ فلسطینی اتھاریٹی اپنے وحشیانہ اور اشتعال انگیز بیانات بند کردے گی جس کی وجہ سے دہشت گردی کی موجودہ لہر پیدا ہوئی ہیں ۔ محمود عباس نے اپنی بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیلی عہدیداروں کو نوآبادکاروں کی اشتعال انگیزیوں کی پردہ پوشی کرنا ترک کردینا چاہیئے جو فوج کے تحفظ کے تحت جاری ہیں ۔ جان کیری نے دونوں کے ساتھ علحدہ علحدہ بات چیت میں تشدد پر گہری تشویش ظاہر کی ۔ ان کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں پُرزور انداز میں کہا گیا ہے کہ جوں کا توں حالت برقرار رکھنا اہم ہے ۔ قول اور عمل دونوں کے ذریعہ قبلہ اول ( ٹمپل ماؤنٹ )  کے بارے میں جوں کا توں حالت قول اورعمل کے ذریعہ برقرار رکھیں اور اشتعال انگیز بیانات اور عمل کی روک تھام کریں ۔ جن سے کشیدگی میں اضافہ ممکن ہے ۔ فسادات سے اسرائیل سے ملحقہ مشرقی یروشلم اور مقبوضہ مغربی کنارہ دہل کر رہ گیا جب کہ فلسطین نے اسرائیلی فوجیوں پر سنگباری کی اور آتشی بم پھینکیں‘ جس کے جواب میں اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ کی ‘ ربر کی گولیاں داغیں‘ آنسو گیاس استعمال کی اور بے حس و حرکت کردینے والے بم پھینکے ۔ مغربی کنارہ میں جھڑپوں سے شہر رملہ اور بیت اللحم دہل کر رہ گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT